ڈی آئی خان( فاروق محسود سے) جنوبی وزیرستان میں جب 2009ء میں فوجی آپریشن کیا گیا تو بسمینہ بی بی اور اس کا خاندان قبائلی علاقے میں اپنے آبائی گاؤں کو چھوڑکر محفوظ مقام کی جانب نقل مکانی کرگیا۔ 
یہ شمالی اور جنوبی وزیرستان کے درمیان ایک گاؤں شکتوئی تھا۔ 24برس کی بسمینہ دو برس اپنے خاندان کے ساتھ اس انتظار میں رہی کہ فوجی آپریشن ختم ہو اور وہ اپنے اہلِ خانہ کے ہمراہ گھر واپس جاسکے۔ 
بسمینہ کہتی ہے:’’ جب جنوبی وزیرستان میں آپریشن راہِ نجات شروع ہوا تو میرے خاندان نے اپنا گاؤں واچا خوارا چھوڑ دیا اور شکتوئی منتقل ہوگئے جو کہ نسبتاً ایک محفوظ مقام تھا۔‘‘ وہ جنوبی وزیرستان کی سرحد سے متصل ضلع ڈی آئی خان میں ایک ماہرِ نفسیات سے ملاقات کا انتظار کر رہی تھی۔ 
’’ہم نے تقریباً دو برس شکتوئی میں گزارے۔ ایک روز مقامی عسکریت پسندوں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جاری تصادم شکتوئی تک بھی پہنچ گیا۔دونوں فریق ایک دوسرے کے خلاف مارٹرگولوں اور بھاری اسلحے کا استعمال کر رہے تھے۔
ان حالات نے بسمینہ اور اس کے خاندان کو مجبور کیا کہ وہ شکتوئی سے خیبر پختونخواہ کے ضلع ٹانک منتقل ہوجائیں جو کہ جنوبی وزیرستان کے سنگم پر واقع ہے۔
اس نے بتایا:’’ ہم نے شکتوئی سے جلد از جلدنکل جانے کے لیے رات کی تاریکی میں سفر کیا۔ مارٹر گولوں کے شیل اردگرد گِر رہے تھے اور ہم خوف زدہ تھے کہ ان کی زد پر نہ آجائیں۔ اس رات کے وہ مناظر دماغ میں بارہا فلم کی طرح چلتے ہیں۔‘‘
بسمینہ جو قبائلی روایت پردے کی وجہ سے مردوں سے بات نہیں کرتی‘ اس بات پررضامند ہوگئی کہ و ہ ڈاکٹر کے کلینک میں اپنی کہانی سنائے گی جہاں پر نیوز لینز کا رپورٹر بھی موجودہوگا۔ 
بسیمینہ کے ادھیڑ عمر باپ نے،جن کے چہرے پر جھڑیاں نمایاں تھیں،کہا:’’ میری بیٹی بہادر اور زندہ دل تھی لیکن جب سے نقل مکانی کی ہے اور خاص طور پرجن دنوں رات کے وقت شکتوئی سے ٹانک آئے تو اداس رہنے لگی۔ وہ چڑچڑی اور حساس ہوگئی اور اسے اکثر ڈراؤنے خواب آتے ہیں۔‘‘
بسمینہ کے ماہرِنفسیات ڈاکٹر منیر داوڑ کے مطابق شمالی و جنوبی وزیرستان میں فوجی آپریشنوں کے باعث 10لاکھ سے زیادہ لوگ نقل مکانی کرنے پر مجبورہوئے جن میں سے ایک بڑی تعداد،خاص طور پر عورتیں اور بچے، جسمانی و نفسیاتی عارضوں کا شکار ہوگئے ہیں۔ 
ڈاکٹر داوڑ نے نیوز لینز سے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر و ٹیچنگ ہسپتال میں بات کرتے ہوئے کہا:’’ میرے تقریباً70فی صد مریض جنوبی وزیرستان سے نقل مکانی کرکے آئے ہیں اور ذہنی بیماریوں کا شکار ہوچکے ہیں۔‘‘ وہ اس ہسپتال کے شعبۂ نفسیات کے سربراہ ہیں۔ 
آپریشن راہِ نجات 17اکتوبر 2009ء کو شروع ہوا جس میں پاکستانی طالبان کے رہنماء حکیم اللہ محسود اورتحریکِ طالبان پاکستان کے پانچ اہم مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔ان میں ساراروغہ، لدھا، مکین، تیارزا اور ساروکئی شامل تھے۔ 
فوجی آپریشن کے باعث ان علاقوں سے تقریباً 82ہزار خاندانوں نے نقل مکانی کی۔ نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی اور فاٹا ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے 62ہزار خاندانوں کو آئی ڈی پیز کے طور پر رجسٹرکیا ۔ ہزاروں ایسے تھے جنہیں ان اعداد و شمار میں شامل نہیں کیا گیا۔
نقل مکانی کا ایک برس مکمل ہونے کے بعد چار دسمبر 2010ء کو جنوبی وزیرستان اور فاٹا کے حکام نے آئی ڈی پیز کو سراروغہ اور ساروکئی واپس بھیجنا شروع کیا۔ چار برس گزرنے کے باوجود صرف 11ہزار خاندان ہی اپنے دیہاتوں کو واپس لوٹ پائے ہیں۔ آئی ڈی پیز کی ایک بڑی تعداد کو ہنوز گھروں کو واپس جانا ہے۔ وہ پورے ملک میں پھیل چکے ہیں لیکن ان کی کثیر تعداد کراچی، ڈی آئی خان، پشاور اور بنوں میں عارضی طور پر آباد ہے۔ 
صاحب نور اپنی 37برس کی بہن زاہدہ بی بی کے ساتھ ڈاکٹر داوڑ کے کلینک پر آئے۔ وہ ماہر نفسیات سے ملاقات کے لیے ان کے کلینک کے باہر کھڑے انتظار کر رہے تھے۔ 
جنوبی وزیرستان سے نقل مکانی کرنے والے صاحب نور نے کہا:’’ وہ (زاہدہ بی بی) آپریشن سے قبل تندرست تھی لیکن دو برس گھر سے دور گزارنے کے بعد اس کا رویہ ڈرامائی طور پر تبدیل ہوگیا۔ وہ نامناسب طور پر پیش آتی ہے اور خودکشی کی کوشش کرچکی ہے۔‘‘
صاحب نور کے مطابق زاہدہ بی بی کا خاوند کراچی میں مزدوری کرتا ہے۔ وہ کہتے ہیں:’’ اس کی آمدن قلیل ہے۔ میری بہن کا خواب تھا کہ اس کا آٹھ برس کا بیٹا علاؤالدین ڈاکٹر بنے لیکن وہ اس کے سکول جانے کے اخراجات بھی برداشت نہیں کرسکی۔ نقل مکانی کے باعث اس کا خواب ٹوٹ گیا۔ اس نے اپنی ہی ایک دنیا بنا لی ہے۔‘‘
ڈاکٹر داوڑ بتاتے ہیں:’’ آئی ڈی پیز کی اکثریت مختلف ذہنی عارضوں کا شکار ہے۔ خواتین غیر محفوظ اور ذہنی تناؤمحسوس کرتی ہیں جب کہ بچوں میں شدید ترین خوف سرایت کر گیا ہے۔مرد و خواتین آئی ڈی پیز میں اقدامِ خودکشی معمول بن چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آئی ڈی پیز کے حالات بہت خراب ہیں کیوں کہ نہ صرف ان کے معاشی حالات درست نہیں بلکہ ان کے آبائی علاقوں میں دہشت گردی کے خلاف جنگ بھی جاری ہے۔ 60فی صد سے زائد آئی ڈی پیز بچے دہشت گردی، نقل مکانی اور فوجی آپریشنوں سے متاثر ہوئے ہیں۔قبائلیوں کی اگلی نسل بہت سے نفسیاتی عارضوں کا شکار ہوگی۔‘‘
گزشتہ برس جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے آئی ڈی پیز نے یہ مطالبہ کیا کہ ان کو ان کے علاقوں میں بسایا جائے جس کے لیے اسلام آباد پریس کلب کے باہر 21روز کا دھرنا بھی دیا۔
جنوبی وزیرستان کے محسود قبائل کے آئی ڈی پیز کی نمائندہ تنظیم تحریکِ محسود قبائل کے صدر شیرپاؤ محسود کہتے ہیں کہ حکومت نے نہ صرف بروقت آئی ڈی پیز کی بحالی کا دعویٰ کیا تھا بلکہ ایک بار پھر یہ دہرایا تھا کہ دیہاتوں کو عسکریت پسندوں سے خالی کروایا جاچکا ہے۔
وہ کہتے ہیں، ’’ لیکن میں یہ نہیں جانتا کہ حکومت آئی ڈی پیز کو وزیرستان واپس بھیجنے کے حوالے سے تذبذب کا شکار کیوں ہے۔‘‘
شیرپاؤ نے کہا کہ آئی ڈی پیز میں ڈپریشن سرایت کر رہا ہے اور وہ نفسیاتی مسائل کا شکار ہو رہے ہیں۔ ’’ ضلع ٹانک میں نقل مکانی کرنے والے دفار خان نامی شخص نے پہلے اپنی ماں کو قتل کیا اور پھر اس کی لاش کو جلا دیا۔ ڈاکٹرز کہتے ہیں کہ وہ ذہنی طور پر پر تناؤ کا شکار تھا۔‘‘
جب نیوز لینز نے جنوبی وزیرستان کی سیاسی انتظامیہ سے آئی ڈی پیز کو واپس ان کے علاقوں میں بسانے کے حوالے سے بات کی تو انہوں نے کہا کہ وہ اس بارے میں کوئی بیان نہیں دینا چاہتے۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.