کراچی (امر گرڑو سے) کراچی کے تاریخی عیسیٰ نگری قبرستان ، جو قبل ازیں برطانوی راج کے عہد میں کنٹری کلب قبرستان کہلاتا تھا، کا ایک بڑا حصہ انسانی اعضاء دفن کرنے کے لیے مختص کیا گیا ہے جو شہر کے ہسپتالوں میں داخل مریضوں کو لاحق کسی بیماری سے متاثر ہوکر ضایع ہوجاتے ہیں۔ قبرستان کے ان حصوں میں جہاں انسانی اعضاء( پاؤں، انگلیاں، ٹانگیں، بازو اور دیگر) دفن کیے جاتے ہیں وہاں کوئی کتبہ، نشانی یا قبر نہیں ہے‘ یہ ایک ہموار میدان ہے۔
ایدھی فاؤنڈیشن سے منسلک انور کاظمی نے اپنے دفتر میں نیوز لینز پاکستان سے بات کرتے ہوئے کہا:’’ صرف عیسیٰ نگری قبرستان ہی نہیں بلکہ ایسے لاتعداد قبرستان ہیں جہاں انسانی اعضاء دفن کیے جاتے ہیں۔ ایدھی فاؤنڈیشن کو روزانہ سرکاری و نجی ہسپتالوں سے آپریشن کے دوران کاٹے جانے والے انفیکشن سے متاثرہ اعضاء مختلف قبرستانوں میں دفنانے کے لیے کالیں موصول ہوتی ہیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا:’’ یہ اعضاء مسلمان مریضوں کے ہوتے ہیں جن کے خیال میں انہیں جلائے جانے کے بجائے دفن کیا جانا چاہیے۔‘‘ سرجری کے دوران انسانی جسم سے کاٹے جانے والے اعضاء کو تکنیکی طور پر جلایا جانا چاہیے۔انور کاظمی نے نیوز لینز پاکستان سے بات کرتے ہوئے مزید کہا:’’ مسلمان مریضوں کا یہ خیال ہوتا ہے کہ یہ انسانی اعضاء کو ٹھکانے لگانے کا ایک ہندوؤانہ طریقہ ہے جس کے باعث وہ ان اعضاء کو جلانے کی بجائے دفن کرنے پر اصرار کرتے ہیں۔‘‘
سندھ کے قصبے کوٹری ضلع جامشورہ کے رہائشی سلطان احمد کا ہاتھ درخت سے گرنے کے باعث کٹ گیا۔ وہ اپنے ہی قصبے میں ایک مقامی عطائی کے پاس گئے جس نے ان کا ہاتھ زور سے باندھ دیا جس سے یہ انفیکشن زدہ ہوگیا۔ جب وہ کراچی سول ہسپتال پہنچے تو ڈاکٹروں نے بازو کاٹنے کے لیے کہا۔آپریشن کے بعد ان کا بھائی سبحان احمد ان کا بازو دفنانے کی غرض سے ایک مقامی قبرستان میں ایدھی کے رضاکاروں کے پاس لے کر گیا لیکن اسے اس بارے میں کچھ یاد نہیں ہے کہ وہ قبرستان کون سا تھا۔
سبحان احمد نے نیوز لینز پاکستان سے بات کرتے ہوئے کہا:’’ میں نے سنا کہ ہسپتال بازو کاٹنے کے بعد اسے جلا دے گا چناں چہ میں اسے دفنانے کا بندوبست کیا۔‘‘
مریضوں کے رشتہ داروں کی جانب سے اس حوالے سے بڑھتے ہوئے مطالبے کے باعث کراچی کے بیش تر ہسپتالوں نے ایسے اعضاء کو دفنانے کے لیے مقامی قبرستانوں میں انتظامات کیے ہیں۔ آغا خان ہسپتال کراچی نے ایک مقامی قبرستان کا کچھ حصہ اس مقصد کے لیے حاصل کیا ہے جہاں ہر روز ہسپتال کا عملہ انسانی اعضاء لے کر آتا ہے اور ان کو قبرستان کی انتظامیہ کی مدد سے ’’اعضاء کے قبرستان‘‘میں دفن کردیتا ہے۔
آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کے مینجمنٹ ڈائریکٹر حاکم علی خان نے نیوز لینز پاکستان سے بات کرتے ہوئے کہا:’’ مریضوں کی اکثریت آغا خان ہسپتال میں آپریشن کے دوران انسانی جسم سے الگ کیے گئے اعضا کو دفنانے کا مطالبہ کرتی ہے جس کے باعث ہم نے ایک مقامی قبرستان میں قطعۂ اراضی حاصل کیا ہے جہاں یہ اعضاء روزانہ کی بنیاد پر دفن کرنے کے لیے لائے جاتے ہیں۔‘‘

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.