: Photo By News Lens Pakistan /

پشاور ( سلمان خان سے) رانرا کو جب یہ معلوم ہوا کہ اس کو ایچ آئی وی ایڈز ہوچکا ہے تو اس کے ذہن میں پہلا خیال یہ آیاتھا:’’ جب میَں مرجاؤں گی تو لوگ مجھے کس طرح یاد کریں گے؟‘‘
موت کے دروازے پر دستک دیتی ہوئی رانرا جانتی ہے کہ وہ اس مہلک بیماری ایچ آئی وی ایڈز کے مقابل بے بس ہیں۔ لیکن وہ اپنی عزت پر کوئی آنچ نہیں آنے دینا چاہتی۔ اورعزت کی زنجیروں میں بندھی ایک پشتون عورت، جو ایک ایسے معاشرے کی رکن ہے جس پر ہمہ وقت غیر ت کا بھوت سوار رہتا ہے‘ جانتی ہے کہ اس کو مرنے سے قبل اپنی عزت پر لگا یہ دھبہ مٹانا ہے۔
رانرا نے نیوز لینز سے بات کرتے ہوئے کہا:’’ میں صدمے اور دُکھ سے مرسکتی تھی لیکن موت اس کا کوئی حل نہیں تھا۔‘‘ اس کا چہرہ نقاب میں چھپا ہوا تھا‘ اس کی آنکھیں اور زرد پیشانی ہی نظر آرہی تھی۔ اس نے کہا:’’ مجھے یہ جانناہے کہ مجھے یہ بیماری کس طرح لگی جب کہ اس کے ساتھ ہی ایڈز سے جڑے بدنامی کے داغ کو بھی مٹانا ہے۔‘‘
شادی کے ایک ماہ بعد رانرا ، یہ اس کا اصل نام نہیں ہے، کا ایچ آئی وی ٹیسٹ مثبت آیا۔ یہ خبر اس کے لیے موت کے اعلان نامے کی طرح تھی۔ وہ اس بارے میں کچھ نہیں جان سکتی تھی کہ وہ کس طرح ، کب اور کہاں اس وائرس سے متاثر ہوئی لیکن وہ ایچ آئی وی سے جڑے سماجی بدنامی کے داغ اور یہ کہ یہ بیماری غیر فطری جنسی تعلقات سے پھیلتی ہے، کے بارے میں اچھی طرح آگاہ تھی۔ وہ یہ آگاہی رکھتی تھی کہ بدنامی کا داغ اس کو وائرس سے قبل ہی مار ڈالے گا۔ 
ایچ آئی وی ایڈز پروگرام خیبرپختونخوا کے ڈپٹی ڈائریکٹر ڈاکٹر عطاء اللہ کا کہنا تھا:’’خیبرپختونخوا میں ایچ آئی وی انفیکشن کی بنیادی وجہ منشیات کے عادی افراد کا ایک ہی سرنج کا استعمال کرناہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں لوگوں کی اکثریت یہ سمجھتی ہے کہ ایڈز صرف غیر فطری جنسی تعلقات کے باعث پھیلتا ہے۔ انہوں نے کہا: ’’ایچ آئی وی انفیکشن سے متاثر ہونے والے شخص کی جانب سے استعمال کی گئی سرنج پر اگر اس کے دوست بھی انحصار کرتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ان میں بھی ایڈز کا وائرس سرایت کرسکتا ہے۔‘‘
ڈاکٹر عطاء اللہ نے کہا کہ 30فی صد رجسٹرڈ مریض ایک ہی سرنج سے منشیات استعمال کرنے کے باعث اس سے متاثر ہوئے۔ تقریباً7.2فی صد مردوں اور خواجہ سراؤں کے ساتھ جنسی تعلقات کے باعث اس عارضے کا شکار ہوئے۔
خوف زدہ اور تنہا رانرا ڈپریشن کا شکار ہوچکی ہے۔ وہ نہیں جانتی کہ وہ معمول کے جیون کی جانب کس طرح واپس لوٹے۔ کیا وہ ایک ایسے سماج میں مدد حاصل کرنے کی امید کرسکتی ہے جو اس سے ہمدردی کا اظہار کرنے کی بجائے اس کی اخلاقات پر سوال کھڑا کردے گا‘ مایوس رانراکچھ ایسا ہی سوچتی ہے کیوں کہ وہ ان مضمرات سے آگاہ ہے جو لوگوں کو اس کی بیماری کے بارے میں پتہ چلنے سے برآمد ہوں گے۔
رانرا نے نیوز لینز سے بات کرتے ہوئے کہا:’’ (ایچ آئی وی سے متاثرہ)مریض مرکزِ صحت کا رُخ کرنے کی بجائے بیماری سے مرجانے کو ترجیح دیتے ہیں کیوں کہ وہ سماجی بدنامی سے خوف زدہ ہوتے ہیں۔‘‘ یہ اس کا میڈیا کو اولین انٹرویو تھا۔ اس نے کہا:’’ وہ سماج سے الگ تھلگ ایک تنہا زندگی بسر کرتے ہیں ‘ ان سے قطأ تعلق کرلیا جاتا ہے اور ان کے خاندان ان کو اپنانے سے انکار کر دیتے ہیں۔‘‘
صوبائی محکمۂ صحت کی جانب سے دستیاب ہونے والے اعداد و شمار سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ خیبرپختونخوا میں ایچ آئی وی ایڈز کے مریضوں کی مجموعی تعداد 16ہزار ہے جن میں سے صرف 1816نے ہی طبی معاونت حاصل کی جس سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ ایچ آئی وی سے متاثر ہونے والے 90فی صد مریضوں نے اب تک طبی معائنہ نہیں کروایا۔
ایچ آئی وی ایڈز کے 1816مریضوں میں پانچ فی صد بچے، 25فی صد خواتین اور 70فی صد مردشامل ہیں۔ پشاور میں حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں ایچ آئی وی ایڈز کیئر سنٹرزمیں 298رجسٹرڈ مریض علاج کروا رہے ہیں، بنوں میں 138، نوشہرہ میں 119، لوئردیرمیں 91، چار سدہ میں93، سوات میں 69، صوابی میں57، اپردیرمیں 59،ہنگو میں 47،لکی مروت میں 44، مردان میں 56، کرم ایجنسی میں 71اور خیبر ایجنسی میں 51مریض رجسٹرڈ ہیں۔ 
رانرا جانتی ہے کہ اس سے کوئی اخلاقی برائی سرزد نہیں ہوئی اورنہ ہی اس کا کبھی کوئی غیر ازدواجی تعلق رہا ہے جس کے باعث وہ آگاہ ہے کہ اس کی اس بیماری کا تعلق غیر فطری جنسی تعلقات سے نہیں ہوسکتا۔ کیا اس کے جسم میں اس بیماری کا وائرس اس کے خاوند سے منتقل ہواجو بیرونِ ملک کام کرتا ہے؟ اگر ایسا نہیں ہے تو؟ رانرا مستقل طور پر اس اذیت کا شکار ہے کہ اگر وہ اپنی پارسائی ثابت نہ کرپائی یا بیماری کی وجہ وہ نہیں ہے جو سماج اس سے منسلک کرتا ہے تو اسے اس کی موت کے بعد کس طرح یاد رکھا جائے گا۔
رانرا کہتی ہے کہ اس کی مشکل یہ ہے کہ اگر وہ یہ ظاہر نہیں کرتی کہ اسے کیا بیماری ہے تو وہ کس طرح یہ امید رکھ سکتی ہے کہ اس کی وجہ کیا تھی؟ اس وقت وہ جینے کا سوچ بھی کس طرح سکتی ہے؟اس کو اس بارے میں کسی نہ کسی کو تو بتانا ہی ہے۔ اس نے کہا:’’ مجھے اس خوف کا مقابلہ کرنا ہے اور اس پر قابو پانا سیکھنا ہے۔‘‘
رانرا نے اس واحد شخص سے رابطہ کیا جنہیں وہ اپنی بیماری کے بارے میں بتانے کے حوالے سے اعتماد کرسکتی ہے اور وہ اس کی ماں ہیں۔ جب اس نے ان کو اس بارے میں آگاہ کیا تو وہ ادھیڑ عمر خاتون ششدر رہ گئیں۔
رانرا نے اپنی بیماری کے بارے میں اپنی ماں کے ردِعمل کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا:’’ انہوں نے صرف سماجی بدنامی کے بارے میں بات کی کہ میں نے شادی سے قبل اپنے کنوارے پن پر سمجھوتہ کیا۔انہوں نے صرف مضمرات پر بات کی اوریہ کہ میرا خاوند اس بارے میں کیا سوچے گا۔ ان کاردِعمل کسی بھی ایسے شخص کی طرح روایتی تھا جسے یہ بتایا جاتا کہ میں نے اپنا اور خاندان کا نام مٹی میں ملا دیا ہے۔‘‘
2011ء میں نیشنل ایڈز کنٹرول پروگرام کی جانب سے کیے جانے والے سروے میں یہ انکشاف ہوا کہ ایچ آئی وی مثبت کے 30فی صد مریض منشیات کے عادی ہیں۔ اس میں کہا گیا ہے کہ خیبرپختونخوا میں جنسی اختلاط سے اس انفیکشن سے متاثر ہونے والے افراد کی شرح صفر ہے۔
ڈاکٹر عطاء اللہ کے مطابق خلیجی ممالک میں کام کرنے والے پاکستانی بیرونِ ملک سے یہ انفیکشن پاکستان لے کر آئے ہیں جو انجان بیویوں اور بچوں میں اسے پھیلا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا:’’ خلیجی ممالک سے ڈی پورٹ ہونے والے ایچ آئی وی سے متاثرہ مریضوں کے علاوہ طویل سفر کرنے والے ٹرک ڈرائیور، جہاز راں، خواتین سیکس ورکرز، خواجہ سرا سیکس ورکز، ہم جنس پرست، منشیات کے عادی افراد، قیدی، متاثرہ والدین کے گھر پیدا ہونے والے بچے، بے گھر بچے اور غیر محفوظ طبی عمل کے متاثرین میں اس وائرس سے متاثر ہونے کا خدشہ زیادہ ہے۔‘‘
ڈاکٹر عطاء اللہ نے نیوز لینز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ گلوبل فنڈ ٹو فائٹ ایڈز اور نیشنل ایڈز کنٹرول پروگرام اس مہلک بیماری کے حوالے سے آگاہی پیدا کرنے کے لیے کام کررہے ہیں۔
وہ خاندان سے الگ تھلگ ہوگئی ہے اور اس بیماری سے جڑی سماجی بدنامی سے خوف زدہ ہے جس کے باعث اُس نے خاموش رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایک برس گزر گیا ہے اور اس کا خاوند بیرونِ ملک سے واپس آچکا ہے۔
رانرا نے کہا:’’ میں نے اس پر یہ راز افشا کیا اور یہ زور دیا کہ وہ اپنے تحفظ کے لیے کسی اور سے شادی کرلے لیکن اس نے انکار کردیا۔ وہ طبی معائنے کے لیے گیا اور اس کا نتیجہ منفی آیا۔‘‘
رانرا اور اس کا خاوندعلاج کے دوران اس کی اس بیماری کو پوشیدہ رکھنا چاہتے ہیں لیکن پشاور میں یہ ممکن نہیں ہوسکتا جہاں وہ خوف زدہ ہیں کہ ان کے عزیز و اقارب اس بارے میں آگاہ ہوجائیں گے۔
اس وقت رانرا کے معالج ڈاکٹر یاسین اس کی مدد کے لیے آگے بڑھے۔ انہوں نے اسے یقین دلایا کہ اس کے علاج کے بارے میں کسی کو بھنک تک نہیں پڑے گی۔ رانرا نے کہا:’’ میں نے ڈاکٹر سے کہا کہ اگر کوئی یہ معلوم کرنے آیا کہ میں ایچ آئی وی سے متاثر ہوں تو میں خودکشی کرلوں گی۔‘‘
نیشنل ایڈز کنٹرول پروگرام کی ویب سائٹ کے مطابق ملک بھر میں ایچ آئی وی کے علاج کے لیے 15کیئر سنٹرزکام کر رہے ہیں جواس حوالے سے بڑے پیمانے پرخدمات فراہم کررہے ہیں جن میں انٹی ریٹرووائرل تھراپی، ایچ آئی وی ایڈزاور اس کے متعلقہ انفیکشنزکی تشخیص کے علاوہ ایچ آئی وی کے مریضوں کو کونسلنگ فراہم کرنا بھی شامل ہے۔ ان میں سے دو سنٹرز خیبرپختونخوا میں قائم ہیں جن میں سے ایک حیات آباد میڈیکل کمپلیکس اور دوسرا ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز ہسپتال کوہاٹ میں قائم ہے۔ 
صوبائی حکومت بھی منشیات کے عادی افراد کے لیے ایچ آئی وی ایڈز سکریننگ سنٹرز قائم کرنے کے لیے کام کرتی رہی ہے۔ حال ہی میں سنٹرل جیل پشاور میں سکریننگ ٹیسٹ کیے گئے ہیں جس کے بارے میں خیبرپختونخوا کے پریس میں بڑے پیمانے پررپورٹ ہوتا رہاہے۔ رواں برس فروری میں خیبرپختونخوا حکومت نے میڈیا میں ایچ آئی وی ایڈز کی سکریننگ اور اس کے علاج کے لیے جیلوں میں سنٹرز قائم کرنے کے منصوبے پر کام شروع کرنے کا اعلان کیا تھا تاکہ قیدیوں کو اس مہلک بیماری سے بچایا جاسکے۔
نیوز لینز پاکستان کو معلومات تک رسائی کے ایکٹ کی درخواست کے تحت فراہم کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق پشاور کی سنٹرل جیل میں تین مرد قیدی ایچ آئی وی سے متاثر ہیں جب کہ صوبے کی 22جیلوں میں 53مرد اور دو خواتین ہیپاٹائٹس سی وائرس کے ساتھ جیون بیتانے پر مجبور ہیں۔ جیل میں گنجائش سے زیادہ قیدی بند کیے گئے ہیں جنہیں بیماریوں کے منتقل ہونے کی ایک بڑی اور اہم وجہ کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔
رانرا کہتی ہے کہ اگر اس کو اس کے خاوند کا تعاون حاصل نہ ہوتا تو وہ یہ جنگ ہار جاتی۔ وہ اب دو صحت مند بیٹیوں کی والدہ ہے۔
ڈاکٹر عطاء اللہ کے مطابق پشاور کے حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں ایڈز سے بچاؤ کے لیے فیملی کیئر سنٹر کے قیام کے بعد ایچ آئی وی سے متاثرہ 32خواتین نے صحت مند بچوں کو جنم دیا ہے۔
رانرا نے کہا:’’ ڈاکٹر نے میرے عزیزوں اور سسرال والوں کو یہ باور کروادیا ہے کہ مجھے ڈائریا ہے اور اس کے علاج کے لیے ہسپتال میں داخل ہونے کی ضرورت ہے۔‘‘
حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں قائم فیملی کیئر سنٹر فار پریوینشن آف ایڈز کی کوارڈینیٹر ڈاکٹر عائشہ قیصر نے کہا کہ بروقت تھراپی سے نہ صرف مریضوں کی صحت بہتر ہوتی ہے بلکہ وائرل لوڈ اور ایچ آئی وی کے دوسروں میں منتقل ہونے کا خطرہ کم ہونے کے علاوہ مریضوں کی جلد موت کے خطرات کم ہوجاتے ہیں۔
ڈاکٹر عائشہ قیصر نے کہا کہ ایچ آئی وی ایڈز سے جڑی سماجی بدنامی کے باعث مریض خاموش رہتے ہیں اور اپنا علاج نہیں کرواتے۔ اکثر و بیش تر ڈاکٹرز مریضوں کے ساتھ گھلنے ملنے سے اجتناب برتتے ہیں‘ وہ ان مریضوں کو نظر انداز کرتے ہیں اور ان کی صحت پر کوئی دھیان نہیں دیتے۔ انہوں نے کہا کہ اب یہ روایت تبدیل ہوگئی ہے کیوں کہ اس بیماری کے بارے میں آگاہی پیدا ہوچکی ہے۔
ڈاکٹر عائشہ قیصر نے مزید کہا:’’ لوگوں کے لیے آگاہی مہم چلانے کی ضرورت ہے تاکہ ان کو یہ معلوم ہو کہ یہ بیماری ہاتھ ملانے یا مریض کے ساتھ کھانا کھانے سے منتقل نہیں ہوتی بلکہ اس کے پھیلنے کی وجہ بے اختیاطی اور لاعلمی ہے۔‘‘
ڈاکٹر عائشہ قیصر نے کہا کہ ایچ آئی وی ایڈز کے مریض کے علاج کا ماہانہ خرچہ 22ہزار روپے (220امریکی ڈالرز) ہے۔ تاہم پشاور کے حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں ایچ آئی وی سے متاثرہ مریضوں کے علاج اور ادویات کی کوئی قیمت وصول نہیں کی جاتی۔
رانرا کی اپنے علاج کے دوران حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں پنجاب اور دیگر صوبوں سے تعلق رکھنے والے ایڈز کے مریضوں سے بھی ملاقات ہوئی جنہوں نے اپنے علاقوں میں سماجی بدنامی کے خوف کے باعث علاج نہیں کروایا۔
رانرا نے کہا:’’ علاج اور اپنا دھیان رکھنے کے لیے تربیت حاصل کرنے کے آغاز پر مجھے موت کے اپنے احساس پر شرمندگی محسوس ہونے لگی۔ تاہم میرے خاوند نے میری حوصلہ افزائی کی۔ تربیت اور ادویات لینے کے بعد اب میں ایک خوشگوار فطری زندگی بسر کر رہی ہوں۔ یہ لازمی نہیں ہے کہ ایچ آئی وی سے متاثرہ مریض گنہگار ہی ہوں۔ وہ اچھوت نہیں ہیں بلکہ یہ مریض تعصب پر مبنی رویے کی بجائے تعاون اور مناسب طبی دیکھ بھال کے مستحق ہیں۔‘‘

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.