کوئٹہ (شاہ میر بلوچ سے) 32برس کا محمد اکرم کسی بھی دن کوئٹہ میں شہر کے نالے کے اردگرد مل سکتا ہے‘وہ بد حواسی اور غشی کے عالم میں چل رہا ہوگا‘ جب وہ جناح روڈ کی پرہجوم گلیوں سے گزرتا ہے تو اس کا سر جھکا ہوتا ہے۔ 
محمد اکرم حبیب نالے کے نام سے معروف برساتی ندی کے قریب رہتاہے‘ یہ کوئٹہ کے دل میں ایک بدنام زمانہ جگہ ہے۔ نشے کے بیسیوں عادی جن میں بڑی تعداد ہیروئن استعمال کرنے والوں کی ہے‘ نالے کے اطراف میں رہتے ہیں جو شہر میں تقریباً چھ کلومیٹر تک بہتا ہے۔
اکرم نے اس لیے منشیات کا استعمال شروع کیا کیوں کہ یہ اسے نہ صرف سستا لگا بلکہ نالے پر آسانی سے دستیاب بھی تھا۔
محمد اکرم کہتا ہے:’’ میں ڈپریشن کا شکار تھا کیوں کہ پوری کوشش کے باوجود ملازمت حاصل نہیں کرسکا تھا۔‘‘ اس نے میٹرک تک تعلیم حاصل کررکھی ہے یا دوسرے لفظوں میں ہائی سکول کی دس جماعتوں تک پڑھا ہے۔ 
اکرم اب گلیوں میں بھکاری بن کر پھرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ ہیروئن نالے پر آسانی سے دستیاب ہے۔ ’’ ہم کہیں اور نہیں جاتے کیوں کہ اس مقام سے ہر شے مل جاتی ہے۔‘‘
کوئٹہ میں ایسے بہت سے مقام ہیں جیسا کہ سیٹلائٹ ٹاؤن، سریاب روڈ اور کوئٹہ کی نواحی آبادیاں جہاں سے چند سو روپوں میں کوئی بھی ہیروئن خرید سکتا ہے۔ 
کوئٹہ کے بجلی پولیس سٹیشن میں ایک پولیس افسر شاہ محمد نے نیوز لینز سے بات کرتے ہوئے کہا:’’ نالے پر مستقل طور پر آنے والے ہیروئن کے عادی افراد میں بڑی تعداد چوروں اور ڈاکوؤں کی ہے۔‘‘
کوئٹہ میں انٹی نارکوٹکس فورس کے ایک اہل کار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کیوں کہ اس کو میڈیا سے بات کرنے کی اجازت نہیں تھی کہ انٹی نارکوٹکس فورس اور پولیس نے ایک ساتھ مل کر متعدد چھاپے مارے اور حبیب نالے ومختلف علاقوں سے ہیروئن کے عادی بیسیوں افراد کو حراست میں لیا ۔
انہوں نے کہا:’’ہم اکثر چھاپے مارتے ہیں اور ان لوگوں کو گرفتار بھی کیا جو منشیات فروخت کرتے ہیں۔تاہم منشیات کے غیر قانونی استعمال کے تدارک کے لیے بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔‘‘ 
اقوام متحدہ کے آفس فار ڈرگز اینڈ کرائمز (UNODC)کے مطابق پاکستان میں غیرقانونی منشیات کے استعمال میں اضافے کی سب سے بڑی وجہ اس کا تذویراتی محل و وقوع ہے کیوں کہ یہ منشیات کی سمگلنگ کے حوالے سے دنیا کی مصروف ترین راہ گزر ہے جس کی ایک بڑی وجہ پڑوسی ملک افغانستان میں افیون کے پودوں اور حشیش کی کاشت ہے۔ 
بلوچستان کی دو ممالک ایران اور افغانستان کے ساتھ طویل سرحد متصل ہے۔ یواین اوڈی سی کے پاکستان میں نمائندے سیزر گیڈیش (Guedes Cesar )نے نیوزلینز سے بات کرتے ہوئے کہا:’’ افغانستان تقریباً دنیا بھر کی 90فی صد پوست کاشت کرتا ہے جو کہ خام ہیروئن ہے اور بلوچستان کو عالمی منڈیوں تک رسائی کے لیے روٹ کے طو رپر استعمال کرتا ہے۔‘‘ 
یو این او ڈی سی کی حال ہی میں جاری ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں پیدا ہونے والی تقریباً40فی صد ہیروئن اور حشیش کی سمگلنگ کے لیے پاکستان کا راستہ استعمال کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق، ’’ اگرچہ برآمد کرنے کے لیے قابلِ ذکر افیون پیدا ہوئی لیکن یہ بلوچستان میں بھی استعمال میں آئی۔ ‘‘
سیز رگیڈیش کہتے ہیں:’’ دنیا بھر میں کاشت ہونے والی پوست کے 90فی صد کھیت افغانستان میں ہیں اور پاکستان ایک جنگ زدہ ملک کا پڑوسی ہونے کے باعث اس سے بری طرح متاثر ہوا ہے۔ پاکستان ہیروئن کی فروخت کے لیے کوئی موزوں مقام نہیں ہے لیکن خام ہیروئن کی ایک بڑی مقدار مختلف وجوہات کی بنا پر بلوچستان میں رہ جاتی ہے جس کے باعث منشیات کے استعمال میں اضافہ ہورہا ہے۔‘‘
یواین او ڈی سی نے حال ہی میں منشیات کے استعمال کے حوالے سے صوبائی سطح پر پہلی رپورٹ جاری کی جس میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان میں 15سے 64برس تک کی عمر کے تقریباً6.7ملین افراد منشیات استعمال کرتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ گزشتہ12ماہ کے دوران ملک کی چھ فی صد آبادی نے منشیات کا استعمال کیا۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ تقریباً 8لاکھ 60ہزار افراد یا آبادی کا0.8فی صد حصہ مستقل طور پر ہیروئن اور 3لاکھ 20ہزار افراد (آبادی کا 0.3فی صد) افیون کے نشے کا عادی ہے۔
افیون کے عادی افراد کی سب سے زیادہ شرح بلوچستان میں ہے جہاں پر آبادی کا 1.6فی صد حصہ ہیروئن ، افیون یا دونوں نشے کرتا ہے۔ 
رپورٹ کے مطابق:’’ تحقیق کے لیے منتخب کیے گئے منشیات کے عادی افراد کی اکثریت 25سے 39برس کے درمیان ہے۔حشیش 30سے 34برس اور ہیروئن کانشہ 35سے 39برس تک کی عمرکے افراد زیادہ کرتے ہیں۔‘‘ 
رپورٹ کے مطابق خواتین کی نسبت مرد منشیات کی زیادہ اقسام استعمال کرتے ہیں۔ یہ امکان زیادہ ہے کہ خواتین سکون آور ادویات کے علاوہ ایمفیٹامائین کا غلط استعمال کرتی ہیں۔ نشہ کے عادی افراد کے علاج کے ضمن میں مردوں کی نسبت خواتین کی بحالی کا امکان زیادہ نہیں ہے۔ 
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں 15سے 64برس تک کی عمر کے افراد منشیات کی زائد مقدار لیتے ہیں یا اس طریقے سے استعمال کرتے ہیں جو ان کے لیے نقصان کا باعث بنتا ہے جس کے انتہائی مضر اثرات برآمد ہوتے ہیں: ’’ اگرچہ 4.25ملین افراد کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ نشے کے بغیر نہیں رہ سکتے،دوسری جانب علاج اور ماہرانہ رہنمائی کے مواقع محدود پیمانے پر دستیاب ہیں جو سالانہ منشیات استعمال کرنے کے عادی 30ہزار افرادسے بھی کم کی ضرورت کو پورا کرتے ہیں۔‘‘
اگر منشیات کے عادی افراد کی بحالی کا کوئی علاج دستیاب ہے تو وہ بلامعاوضہ نہیں ہے جس کے اخراجات وہ لوگ برداشت نہیں کرسکتے جنہیں مدد درکار ہوتی ہے۔ ’’ ایک ایسا ملک جہاں پر ایک چوتھائی آبادی روزانہ 1.25ڈالرز سے بھی کم پر گزر بسر کرنے پر مجبور ہے، یہ رکاوٹیں مربوط علاج تک رسائی کو غیر معمولی طور پر بڑھا دیتی ہیں۔‘‘
یو این او ایف پی کے سربراہ نے کہا کہ افغانستان ایک مستحکم ملک نہیں ہے جس کے باعث پاکستان سرحد پار سے ہونے والی منشیات کی تجارت سے متاثر ہوتا ہے۔
صوبائی وزیر برائے صحت رحمت صالح بلوچ نے نیوز لینز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت صوبے میں منشیات کے استعمال پر قابو پانے کے لیے اپنی بہترین صلاحیتوں کو بروئے کار لار ہی ہے۔ 
انہوں نے کہا:’’حکومت بے خبر نہیں ہے۔ لوگ بہت جلد مثبت تبدیلی دیکھیں گے۔‘‘

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.