ڈی آئی خان (فاروق محسود سے) جنوبی وزیرستان ایجنسی میں 30مہینوں کے طویل وقفے کے بعدگزشتہ ماہ نومبر میں انسدادِ پولیو ویکسینیشن پروگرام ہیلتھ ورکرز کی سکیورٹی کو درپیش خطرات کے دوران شروع ہو ا۔
زریں بادشاہ ، یہ حقیقی نام نہیں ہے، کہتے ہیں: ’’ میں خود کو غیر محفوظ خیال کرتا ہے لیکن پولیو ویکسینیشن پروگرام کا حصہ بن کر خوش ہوں جس کے ذریعے نہ صرف پاکستان سے اس بیماری کے خاتمے میں مدد ملے گی بلکہ میرے اہلِ وطن ہی نہیں‘ دنیا بھر کے لوگ ٹانگوں سے معذور کردینے والی اس بیماری سے محفوظ ہوجائیں گے۔‘‘
32برس کے زریں شاہ جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھتے ہیں جہاں پر پولیو ویکسینیشن مہم پر 2012ء میں عسکریت پسند کمانڈر ملا نذیر نے پابندی عاید کر دی تھی۔ وہ اس مہم میں شامل ان400ورکرز میں سے ایک ہیں جنہیں جنوبی وزیرستان میں 76720بچوں کو قطرے پلانے کا ٹاسک دیا گیا تھا۔
پاکستان میں انسدادِ پولیو ویکسینیشن مہم کو اس وقت شدید دھچکا لگا تھا جب اسامہ بن لادن مئی 2011ء میں پاکستان میں امریکی سیلز کے آپریشن میں ہلاک ہوگئے تھے۔ سی آئی اے نے القاعدہ رہنماء کی کھوج کے لیے جعلی ویکسینیشن مہم چلائی۔ اس بارے میں خبریں منظرِعام پر آنے کے بعد عسکریت پسند گروہوں نے شدید ردِعمل کا اظہار کیا اور اس وقت سے پاکستان میں پولیو ورکرز پر حملوں کا سلسلہ شروع ہوگیا جس کے باعث ملک میں پولیو ہنوز ایک متعدی بیماری ہے۔ رواں برس نومبر تک پاکستان میں پولیو کے کیسز کی تعداد 265 ریکارڈ کی گئی جوگزشتہ 14برسوں میں سب سے زیادہ تھی اور 2013ء میں پولیو کے سامنے آنے والے کیسز سے دگنا سے بھی زائد تھی۔ 
اگرچہ جنوبی وزیرستان میں انسدادِ پولیو مہم کسی قسم کے تشدد کے بغیر ختم ہوگئی لیکن حملہ آوروں نے صوبہ بلوچستان پر یلغار کی اور 26نومبر کو تین خواتین سمیت چار پولیو ورکرز کو ہلاک کردیا‘ یہ وہ دن تھا جب جنوبی وزیرستان میں انسدادِ پولیو مہم شروع ہوئی تھی۔ یونیسیف کے مطابق جولائی 2012ء سے اب تک پاکستان میں پولیو ویکسینیشن ٹیموں پر حملوں میں65افراد ہلاک ہوچکے ہیں جن میں ہیلتھ ورکرز کے علاوہ پولیس اہل کار بھی شامل تھے جو ان کو سکیورٹی فراہم کر رہے تھے۔ 
2جنوری 2013ء کو امریکی ڈرون حملے کا نشانہ بننے والے کمانڈر ملا نذیر نے 2012ء میں ایک پمفلٹ تقسیم کیا جس میں کہا گیا تھا: ’’ پولیو ویکسینیشن مہم کی آڑ میں کفارجاسوسی کا نیٹ ورک چلا رہے ہیں۔ اس وقت تک بیرونی امداد سے چلنے والی کسی بھی ویکسینیشن مہم کو چلنے کی اجازت نہیں دی جائے گی جب تک امریکی ڈرون حملے بند نہیں ہوجاتے۔‘‘
جنوبی وزیرستان میں پولیو ویکسینیشن مہم پر 30ماہ کی پابندی کے دوران ایجنسی میں پولیو کے 18کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں۔ سات کیس وانا کے انتظامی یونٹ میں رپورٹ ہوئے جب کہ برمال میں11بچوں میں پولیو وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہوئی‘ دونوں علاقے کمانڈر ملا نذیر گروپ کے زیراثر ہیں۔ دو مزید کیسز تحصیل لدھا میں رپورٹ ہوئے جہاں پر ملا نذیر کا اثر و رسوخ نہیں تھا۔ 
جنوبی وزیرستان کی مقامی سیاسی انتظامیہ نے مقامی قبائلی معززین کی مدد حاصل کی تاکہ وہ علاقے میں پولیو ویکیسینیشن مہم کی مخالفت کرنے والے گروہوں کواس کی حمایت پر آمادہ کرسکیں۔ جنوبی وزیرستان ایجنسی کے پولیٹیکل ایجنٹ اسلام زیب نے کہا:’’ ہم نے احمدزئی وزیر قبیلے (جنوبی وزیرستان کا ایک اکثریتی قبیلہ) کے ساتھ امن معاہدہ (2007ء) کر رکھا ہے اور اس معاہدے کے تحت حکومت پر پولیو مہم اور ترقیاتی منصوبے جاری رکھنے پر کوئی پابند ی نہیں۔انتظامیہ ان عناصر کے خلاف کارروائی کرے گی جو ویکسینیشن مہم کی راہ میں حائل ہوں گے۔‘‘
جنوبی وزیرستان میں انسدادِ پولیو مہم شروع ہونے سے قبل احمدزئی وزیر جرگہ کے 120ارکان نے سیاسی انتظامیہ کوپولیو مہم کو تحفظ فراہم شروع کرنے کے حوالے سے مکمل تعاون کا یقین دلایا تھا۔ 
وانا سب ڈویژن کے اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ محبوب خان نے کہا:’’ ہم نے اس وقت مہم شروع کی جب قبائلی معززین نے ورکرز کی حفاظت کی ذمہ داری اٹھائی۔‘‘ تاہم قبائلی معززین کی جانب سے یقین دہانی کروائے جانے کے باوجود لیوز فورس کو ورکرز کی حفاظت کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ 
مزید برآں نیم فوجی ادارے فرنٹیئر کورپس نے سیاسی انتظامیہ کی ان علاقوں میں معاونت کی جہاں پر امن و امان کے حالات اطمینان بخش نہیں تھے۔ محبوب خان نے کہا: ’’201موبائل ویکسینیشن ٹیموں نے کام کیا ۔ آٹھ ٹرانزٹ اور آٹھ پوائنٹ مخصوص جگہوں پر بنائے گئے تھے جہاں پر بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے گئے۔‘‘

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.