: Photo By News Lens Pakistan / Amar Guriro

کراچی (امر گرڑو سے) سندھ حکومت خشک سالی سے متاثرہ صحرائے تھر میں پانی کو صاف کرنے کے لیے نصب کیے گئے پلانٹوں میں اس عمل کے دوران بچ جانے والے کھارے پانی میں مچھلیوں کی فارمنگ شروع کرنے جارہی ہے۔
ان پلانٹس پر مچھلیوں کی فارمنگ کا آغاز جولائی سے ہوگا۔ حکام نے ان فارمز پر کھارے پانی میں رہنے والی مچھلیوں کی افزائش کا فیصلہ کیا ہے اور وہ یہ یقین رکھتے ہیں کہ اس اقدام سے تھر کے باسیوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے جن کی اکثریت خطِ غربت سے نیچے گزارنے پر مجبور ہے۔
پیپلز پارٹی کے سینیٹر اورتھر میں خشک سالی سے متاثرہ آبادی کی بحالی کے پروگرام کے سربراہ تاج حیدر نے کہا:’’ یہ ایک انقلابی اقدام ہے جس سے علاقے میں واضح ترقی ہوگی۔ اس سے جو آمدنی حاصل ہوگی ‘ وہ اس علاقہ کی ترقی پر خرچ کی جائے گی۔‘‘
انہوں نے نیوز لینز پاکستان کو ٹیلی فون پر انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ان فارمز کے لیے صوبائی حکومت اپنے فنڈز استعمال نہیں کرے گی بلکہ پانی کو صاف کرنے والے پلانٹس نصب کرنے والی واٹر پیوریفیکیشن کمپنی کارپوریٹ سوشل رسپانسیبلٹی کے تحت مچھلی کے ان فارموں کے لیے فنڈنگ فراہم کرے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ مچھلی کے یہ فارم پانی صاف کرنے والے ہر پلانٹ پر بنائے جائیں گے۔
سندھ کا صحرائے تھر گزشتہ تین برسوں سے بدترین خشک سالی کا سامنا کر رہا ہے۔ حکومتِ سندھ کے اعداد و شمار کے مطابق دسمبر 2013ء سے مئی 2015ء تک شدید ترین خشک سالی کے باعث تھرپارکر میں 1053افراد ہلاک ہوئے جن میں 159مرد، 168خواتین اور پانچ برس سے کم عمر کے 726بچے شامل ہیں ‘ اسی عرصہ کے دوران خوراک کی کمی کے باعث 3814مویشی بھی مر گئے۔
حکومتِ سندھ نے ایک بڑا ریلیف آپریشن شروع کیا تھا جس میں زیرِ زمین کھارے پانی کو صاف کرکے پینے کے قابل بنانے کے لیے پلانٹس کی تنصیب بھی شامل تھی۔ اس حوالے سے 750پلانٹ لگانے کا منصوبہ تشکیل دیا گیا جن میں سے اب تک صرف 345ہی نصب کیے جاسکے ہیں۔
حکومتِ سندھ تیلاپیا مچھلیوں کی افزائش کی منصوبہ بندی کر رہی ہے جس سے مقامی آبادی کو فائدہ ہوسکتا ہے۔ اس وقت پانی صاف کرنے والے تمام پلانٹوں پر بھاری مقدار میں کھارا پانی بچ جاتا ہے جو اب تک ضایع کیا جاتا رہا ہے لیکن حکومتِ سندھ اسے مچھلیوں کی فارمنگ کے لیے استعمال کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔
اوسموسز معکوس انتہائی آلودہ اور کھارے پانی کو صاف کرنے کا ایک طریقہ ہے۔ اس عمل کے دوران پانی پر دباؤ ڈالا جاتا ہے کہ وہ نیم مسامدار جھلی سے مخالف سمت کا رُخ کرے۔ تاہم صاف پانی جھلی میں سے گزرتا ہے اور آلودہ کھارا پانی پیچھے رہ جاتا ہے۔ سندھ کی صوبائی حکومت ٹینکوں میں بچ جانے والے اس پانی میں مچھلیوں کی افزائش کا منصوبہ تشکیل دے رہی ہے۔
مقامی رہایشیوں نے اس فیصلے پر حیرت کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ اس سے تاریخ کی بدترین خشک سالی کے اثرات کو کم کرنے میں مدد نہیں ملے گی۔ تھرپارکر کے مٹھی شہر سے تعلق رکھنے والے سماجی کارکن بھارومل عمرانی نے نیوز لینز پاکستان سے بات کرتے ہوئے کہا:’’ حکومت بھیڑوں کا تحفظ کرنے میں ناکام رہی ہے جن کا یہ صحرا طبعی مسکن ہے ‘ وہ صحرا میں مچھلیوں کی فارمنگ متعارف نہیں کروا سکتی‘ یہ تھر کے باسیوں کے لیے ایک لطیفے سے زیادہ کچھ نہیں۔‘‘ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت کو اس نوعیت کے متنازعہ منصوبے شروع کرنے کے بجائے عملی طور پر کچھ کرنا چاہیے۔

 

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.