لاہور(شہرام حق سے) پنجاب فوڈ اتھارٹی (پی ایف اے) کی ناقص خوراک کے خلاف جاری مہم کے باعث لاہور کے ریستورانوں کے مالکان کی رات کی نیند تک اڑ گئی ہے۔
ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ عوام کی اکثریت نے فوڈ اتھارٹی کی جانب سے ریستورانوں کے خلاف کیے جانے والے اِن اقدامات کی ستائش کی ہے جو بل تو بہت زیادہ وصول کرتے ہیں لیکن صفائی کا کوئی خیال نہیں رکھتے۔
پی ایف اے اس وقت پوش علاقوں میں درمیانے اور چھوٹے ریستورانوں میں صفائی کے معیار کو جانچ رہی ہے۔ حتیٰ کہ حال ہی میں مختلف وجوہات کی بنا پر ملٹی نیشنل فوڈ چینز کونہ صرف جرمانے کیے گئے بلکہ انہیں سیل بھی کیا گیا۔ مزید برآں بڑے ہوٹلوں کے ریستورانوں اور ہسپتالوں کی کنٹینوں کو بھی جرمانے کیے گئے ہیں۔
نیوز لینز پاکستان سے بات کرتے ہوئے کھانوں کے شوقین مستجاب سعید نے کہا کہ ان کے لیے یہ صورتِ حال پریشان کن ہے کہ شہر کے انتہائی معروف اور مہنگے ریستورانوں میں بھی صفائی کے انتظامات ناقص تھے۔ انہوں نے کہا کہ لاہور میں شاید ہی کوئی ریستوران ایسا ہو جہاں سے میَں نے کھانا نہ کھایا ہو اور اب مجھ پر ادراک ہوا ہے کہ ان میں سے بیش تر لوگوں کو درحقیقت غیر معیاری کھانا کھلا رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اب ان کا کسی ریستوران پر اعتبار نہیں رہا اور انہوں نے باہر کا کھانا کھانا چھوڑ دیا ہے۔
لاہور کھانے کے شوقین لوگوں کے لیے جنت تصور ہوتا ہے اورباہر کاکھانا کھانا وقت گزارنے کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔ شہر میں بہت سے ریستوران قائم ہیں۔ اگرچہ لوگ غیر معیاری کھانوں کی دستیابی کے بارے میں آگاہی رکھتے ہیں لیکن عمومی تاثر یہی ہے کہ یہ صرف سڑک کنارے قائم ڈھابوں پر ہی دستیاب ہوتے ہیں۔ تاہم پوش علاقوں میں مختلف ریستورانوں پر مارے گئے چھاپوں سے اس تاثر کی نفی ہوئی ہے اور عوامی نفرت بڑھی ہے۔
لاہور ریسٹورینٹس ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری احمد شفیق نے نیوز لینز پاکستان سے بات کرتے ہوئے کہا:’’ پوش علاقوں میں قائم ریستورانوں کے کاروبار میں 50فی صد کمی آئی ہے جب کہ حقیقت تو یہ ہے کہ صرف پانچ فی صد آبادی ہی ان کا رُخ کرتی ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ پنجاب فوڈ اتھارٹی نے اب تک ضابطۂ عمل تشکیل نہیں دیا اور وہ ریستورانوں کو بند کرکے یا ان پر جرمانے عاید کرکے قوانین کی خلاف ورزی کررہی ہے۔ ریستورانوں کے مالکان صفائی کا معیار بہتر بنانے اور عملے کی تربیت کے لیے تیار ہیں لیکن اس کے لیے کچھ وقت درکار ہوگا۔ اگرچہ نیا بھرتی کیا گیا عملہ تربیت یافتہ ہے لیکن پرانے عملے کی تربیت کے لیے وقت درکار ہے۔
احمد شفیق نے دعویٰ کیا کہ پی ایف اے کی جانب سے غیر معیاری خوراک کی فروخت کے الزامات غلط اور بے بنیاد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اتھارٹی کا عملہ ماہرینِ خوراک پر مشتمل نہیں ہے اورکوئی بھی لیب ٹیسٹ کے بغیر گوشت کے معیار کا تجزیہ نہیں کرسکتا۔ پنجاب فوڈ اتھارٹی اس بارے میں سماجی میڈیا پر خبریں پوسٹ کرکے نہ صرف اپنی حدود سے تجاوز کررہی ہے بلکہ اس کی وجہ سے برآمدکنندگان کو غلط پیغام بھی جارہاہے۔
پنجاب فوڈ اتھارٹی کی ڈائریکٹر آپریشنز عائشہ ممتاز نے نیوز لینز پاکستان سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اتھارٹی کی کارکردگی کاجائزہ اس اَمر سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس نے پوش علاقوں میں قائم ہر ریستوران کی جانچ کی ہے۔
انہوں نے کہا:’’ ہم قوانین کی خلاف ورزی نہیں کررہے۔ جب کوئی شخص کھلی آنکھوں سے کسی ریستوران کا جائزہ لیتا ہے اور زائدالمیعاد خوراک یا گوشت کو فروخت ہوتے دیکھتا ہے تو اس کے بعد نمونے لیبارٹری بھیجنے یا ان کا کسی فوڈ سائنٹسٹ سے معائنہ کروانے کی کوئی ضرورت نہیں رہتی۔‘‘
عائشہ ممتاز نے کہا کہ پی ایف اے ریستورانوں کے خلاف نہیں ہے۔ پی ایف اے کی یہ خواہش ہے کہ یہ ریستوران اپنی خوراک کا معیار بہتر بنائیں۔ اگر ایم ایم عالم روڈ پر قائم کوئی ریستوران یہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ معیاری خوراک فروخت کررہا ہے اور حقیقت اس کے برعکس ہو تو اس صورت میں اسے سزا ملنی چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ناقص خوراک کی فروخت کو ناقابلِ ضمانت جرم قرار دینے کے لیے پی ایف اے کے قوانین میں ترمیم کی جارہی ہے تاکہ لاہور اور بعدازاں صوبے بھرمیں خوراک کے معیار کو بہتر بنایا جاسکے۔
پنجاب فوڈ اتھارٹی کا قیام 2011ء میں عمل میں لایا گیا تھا اور پائلٹ پراجیکٹ کے طور پر اس نے لاہور سے کام کا آغاز کیا۔ اتھارٹی کا دائرہ کار پنجاب کے تمام اضلاع تک پھیلایا جائے گا۔
آغاز میں اتھارٹی کواس وقت تنقید کا سامنا کرنا پڑا جب اس نے ملٹی نیشنل برانڈز کی جانچ شروع کی اور بہت سے نقائص منکشف ہوئے۔ بعدازاں پی ایف اے نے اپنی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے لاہور کے تمام ٹاؤنوں میں سیفٹی افسر بھرتی کیے لیکن اس کے باوجود بہت سے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔
ایک غیر سرکاری تنظیم کنزیومر سولیڈیریٹی کے صدر محسن بھٹی نے نیوز لینز پاکستان سے بات کرتے ہوئے کہا:’’ پی ایف اے کے قوانین واضح نہیں ہیں اور کچھ معاملات میں اس نے حدود سے تجاوز کیا ہے ۔تاہم ہم اس کی ان مقامات کی جانچ کرنے کی کوششوں کو سراہیں گے جہاں کارروائی کرنا فوڈ ڈیپارٹمنٹ کے لیے ممکن ہی نہیں تھا۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ بہت سے ایسے کام ہیں جو ہنوز اتھارٹی کی جانب سے کیے جانے ہیں مثال کے طور پر ملٹی نیشنل کمپنیوں کی جانب سے مصنوعات کی اجارہ داری کو بے نقاب کیا جائے۔ محسن بھٹی کا کہنا تھا کہ قوانین کو مزید سخت کرنے کی ضرورت ہے کیوں کہ صرف جرمانہ کردینا ہی کافی نہیں جن کی ان ریستورانوں کے لیے کوئی اہمیت نہیں۔ عوام کو ان کے حقوق کے بارے میں آگاہ کرنے کی ضرورت ہے اور اس حوالے سے کام کیا جائے تاکہ مستقبل میں ان ریستورانوں کی انتظامیہ محتاط رہے۔ ایک گاہک کی حیثیت سے ہمیں ان کے باورچی خانے تک رسائی کا حق حاصل ہے تاکہ ہم یہ جان سکیں کہ وہ کیا اور کیسے پکا رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ تمام ریستورانوں کے لیے درجہ بندی کا نظام متعارف کروایا جائے۔ اگر کسی ریستوران پر جرمانہ ہوتا ہے تو اس کا درجہ کم کردیا جائے اور عوام کو اس بارے میں سماجی میڈیا یا پھر ان کی ویب سائٹ کے ذریعے آگاہ کیا جائے۔ اس سے نہ صرف ریستوران مالکان مزید محتاط ہوں گے بلکہ وہ خوراک کے معیار کو بہتر بنانے کے علاوہ صفائی کا دھیان رکھنے پر بھی توجہ دینے پر مجبور ہوجائیں گے۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.