: Photo By News Lens Pakistan / Matiullah Achakzaiکراچی (تہمینہ قریشی سے) ملک کے تمام صوبے اپنے سالانہ بجٹ میں تعلیمی فنڈز میں اضافہ کرچکے ہیں لیکن ان فنڈز کا ایک بڑا حصہ ترقیاتی سرگرمیوں کے بجائے تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے مختص کیا گیا ہے۔
انسٹی ٹیوٹ آف سوشل اینڈ پالیسی سائنسز کے حکومتی مالیاتی جائزے کے مطابق خیبرپختونخوا کی جانب سے سالانہ بجٹ میں تعلیم کے لیے سب سے زیادہ 26فی صد، پنجاب میں 24فی صد، سندھ میں 22فی صد اور بلوچستان میں 19فی صد مختص کیا گیا ہے۔
انسٹی ٹیوٹ آف سوشل اینڈ پالیسی سائنسز کے لیڈ ریسرچر احمد علی کا کہنا تھا کہ چاروں صوبوں میں بجٹ کا 75فی صد تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں رکھا گیا ہے جب کہ ڈویلپمنٹ بجٹ کو یکسر نظرانداز کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا:’’ تنخواہوں کے لیے مختص کیا گیا بجٹ روزمرہ کے اخراجات کے لیے ہے جن میں اضافے کا مطلب یہ ہے کہ مختص کیے گئے فنڈز کا ایک بڑا حصہ خرچ نہیں ہوپاتا خاص طور پر جب یہ تعلیمی اداروں کے آپریشنل اخراجات کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔‘‘
اس ضمن میں سندھ کی جانب سے اس برس سب سے زیادہ یعنی بجٹ کا 90فی صد تنخواہوں کی مد میں مختص کیا گیا جس کے بعد پنجاب میں 85فی صد، خیبرپختونخوا میں 76فی صد اور بلوچستان میں 71فی صد فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔ 
احمد علی نے مزید کہا:’’ موجودہ طریقۂ کار کے تحت مختص کیے گئے فنڈز معاشی سال کے اختتام پر بچ جاتے ہیں جو سکولوں کی ترقی کے لیے استعمال کیے جاسکتے ہیں جس کے باعث بجٹ میں یہ غیرمعمولی اضافہ بھی بچوں کی تعلیمی کارکردگی یا تعلیمی شعبہ کی ترقی کا باعث نہیں بن سکا۔ ‘‘
گزشتہ معاشی سال (2013-2014ء) کے دوران سندھ نے مختص کیے گئے فنڈز کا 23فی صد خرچ ہی نہیں کیا تھا، خیبرپختونخوا نے 16فی صد، پنجاب نے 9فی صد اور بلوچستان تین فی صد تک فنڈز خرچ نہیں کرسکا تھا۔
مبصرین کے مطابق رواں معاشی سال (2014-2015ء) کے دوران سندھ حکومت نے تنخواہوں کے لیے 25فی صد اور ڈویلپمنٹ کے لیے تعلیمی بجٹ کا مجموعی طور پر 22فی صد مختص کیا ۔ تاہم ملک کے دوسرے صوبوں میں تعلیم کی ترقی کے لیے مختص کیا گیا بجٹ 10فی صد سے بھی کم رہا۔ 
احمد علی کا کہنا تھا:’’ملک بھر میں ترقیاتی منصوبوں پر کیے جانے والے اخراجات اب تک بہت کم رہے ہیں۔ گزشتہ مالی سال کے دوران سندھ کا تقریباً67فی صد ترقیاتی بجٹ استعمال نہیں ہوسکا تھاجب کہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے بچ جانے والے نصف بجٹ سے بھی کوئی منصوبہ شروع نہیں کیا گیا۔‘‘
وہ یہ یقین رکھتے ہیں کہ سرکاری بجٹ کو طالب علموں کی کارکردگی سے منسلک کیا جائے تاکہ اس کی افادیت کو بڑھایا جاسکے۔ انہوں نے مزید کہا:’مختلف اعداد و شمارکا حاصل ہونے والے نتائج اور پالیسیوں کے تناظر میں جائزہ لینے کی ضرورت ہے ۔ مذکورہ تمام اقدامات پر مختلف خامیوں کے باعث عمل نہیں کیا جاسکتا کیوں کہ یہ ایک دوسرے پر اثرانداز ہوتی ہیں۔‘‘
شرح خواندگی
پاکستان کی شرح خواندگی 58فی صد ہے جو 2015ء کے لیے مقرر کیے گئے ہدف یعنی 88فی صد سے بہت کم ہے۔
اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کے مطابق ملک بھر کے پرائمری سکولوں میں داخلہ لینے والے ایک چوتھائی طالب علم جماعت دہم تک رسائی حاصل نہیں کرپاتے۔
انسٹی ٹیوٹ آف سوشل اینڈ پالیسی سائنسز کے پرنسپل ریسرچر سلمان ہمایوں نے نیوز لینز پاکستان سے بات کرتے ہوئے کہا:’’ صوبوں میں تعلیم کے لیے مختص کیے گئے فنڈز کا حجم غیر معمولی ہیں لیکن پاکستان خطے میں اپنے جی ڈی پی کامجموعی طور پر سب سے کم صرف دو فی صد ہی تعلیم کے شعبہ پر خرچ کرتا ہے‘اس کے ساتھ ہی صنفی عدم مساوات اور شہری و دیہی تقسیم بھی شعبۂ تعلیم کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن رہی ہے۔‘‘
تاہم ان کے خیال میں حکومت کی جانب سے شعبۂ تعلیم کے لیے مختص کیا گیا بجٹ ہی اس ناگفتہ بہ صورتِ حال کی سب سے اہم وجہ نہیں ہے بلکہ غیر مؤثر مینجمنٹ، فنڈز کا درست طور پر مختص نہ کیا جانا اور نگرانی کے میکانزم کا نہ ہونا بھی وہ وجوہات ہیں جو تعلیمی شعبہ کی بدحالی کا باعث بنی ہیں۔
سلمان ہمایوں نے مزید کہا: ’’ چوں کہ قانون سازوں اور متعلقہ فریقوں کو بجٹ کی منصوبہ بندی کے عمل سے خارج کر دیا گیا ہے جس کے باعث بجٹ کی تقسیم، بروقت فنڈز کا جاری نہ ہونا، غیرمعمولی انتظامی اخراجات، کرپشن اور بدانتظامی کے باعث بھی حالات خراب ہوئے ہیں۔‘‘
سرکاری سے نجی شعبہ کی جانب منتقلی
سلمان ہمایوں کی جانب سے جس شہری و دیہی تقسیم کا حوالہ دیا گیا ہے‘ اس کا اندازہ حال ہی میں جاری ہونے والی تعلیمی صورتِ حال کی سالانہ رپورٹ ASER(2014ء)سے لگایا جاسکتا ہے۔
ملک بھر میں گزشتہ ایک برس کے دوران چار فی صد بچوں نے سرکاری سکول چھوڑ کر نجی تعلیمی اداروں میں داخلہ لیا جس کی سب سے زیادہ شرح سندھ میں تھی۔گزشتہ برس کے دوران سندھ کے دیہی و شہری علاقوں میں نجی سکولوں کی تعداد تقریباً سات فی صد بڑھی ہے ، 10فی صد نجی تعلیمی اداروں میں ایک فی صد مدارس بھی شامل ہیں۔ 
ان اعداد و شمار سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ سندھ میں تعلیم کی فراہمی کے لیے موجود انفراسٹرکچر کا 91فی صد پرائمری ، پانچ فی صد مڈل اور صرف تین فی صد ہائی سکولوں پر مشتمل ہے۔
بلوچستان میں بھی تیزی کے ساتھ نجی تعلیمی ادارے قائم ہوئے ہیں جن کا تناسب 10سے 20فی صد تک ہے جب کہ چار فی صد سکول اور چھ فی صد مدارس ہیں۔
ASERپاکستان کی سربراہ بیلا رضا جمیل نے نیوز لینز پاکستان سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس تبدیلی کی کی ایک بنیادی وجہ تو یہ ہے کہ پرائمری سکولوں کے بعد سرکاری تعلیمی نظام میں ایک واضح خلا پیدا ہوجاتا ہے۔
ملک بھر میں یہ شرح کچھ اس طرح ہے؛ بلوچستان میں پرائمری سکول سے مڈل سکول تک9.1فی صد اور پرائمری سکول سے ہائی سکول تک یہ شرح 14.1فی صد ہے۔خیبرپختونخوا میں یہ شرح بالترتیب 9.1اور 12.1جب کہ پنجاب میں 4.1اور 6.1 فی صدہے۔
پالیسی سازی اور ان پر عمل درآمد
ممتاز ماہرِ تعلیم اور شہید ذوالفقار علی بھٹو انسٹی ٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی صدر شہناز وزیر علی یہ یقین رکھتی ہیں کہ تعلیمی شعبہ کی اس بُری مینجمنٹ کی ذمہ داری صوبائی و وفاقی حکومت کے پالیسی سازوں کی زمینی حقائق کے متعلق آگاہی نہ ہونے پر عاید ہوتی ہے۔ 
ان پالیسیوں سے متاثرہونے والے فریقین کی جانب سے اگر کوئی پالیسی تشکیل دی جاتی ہے تو ان کو منتظم کرنا نہ صرف آسان ہوگابلکہ ان پر عملدرآمد کرنے میں بھی مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ 
مذکورہ ہدف صوبائی حکومتوں پر ورک لوڈ کم کرنے کے لیے تعلیمی منصوبوں پر عملدرآمد کی ذمہ داری اضلاع پر عاید کرکے اور تعلیمی افسروں کو بااختیار بنا کرحاصل کیا جاسکتا ہے تاکہ وہ اعلیٰ حکام اورپالیسی پر عملدرآمد کے درمیان پل کا کردار ادا کرسکیں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.