Photo By Matiullah Achakzai

لاہور (شہرام حق سے) لاہور اور کراچی کے درمیان چلنے والی لگژری ٹرین پاکستان بزنس ایکسپریس کا مستقبل داؤ پر لگ گیا ہے کیوں کہ سرکاری اور نجی شعبہ کے دونوں شراکت داروں کے درمیان ملکیتی تناسب کے حوالے سے جنگ جاری ہے اور دونوں فریق ایک دوسرے پر معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عاید کر رہے ہیں۔
فروری 2012ء میں لانچ کے ساتھ ہی اس لگژری ٹرین نے فوری طور پر کامیابی حاصل کرلی تھی۔ یہ اپنی نوعیت کی اولین ٹرین تھی جس میں نہ صرف فلیٹ سکرین ٹی وی اور وائی فائی نصب ہے بلکہ جدید سہولتوں سے آراستہ بیت الخلا بھی بنائے گئے ہیں ‘ اس اقدام کے ذریعے پاکستان ریلویز کو ترقی کی شاہراہ پر ڈالنا مقصود تھا۔
پاکستان ریلویز اور میسرز فور برادرز نے پاکستان بزنس ٹرین کے نام سے معروف یہ سروس پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کی بنیاد پر شروع کی۔ یہ ٹرین صرف کاروباری برادری کے لیے ہی مخصوص نہیں تھی بلکہ عام لوگ بھی پاکستان کی اس سب سے مہنگی اور سہولیات سے مزین ٹرین پر سفر کرنے لگے جس میں اعلیٰ معیار کی خدمات فراہم کرنے کے علاوہ وقت کی پابندی بھی کی جاتی ہے۔ یہ ٹرین لاہور اور کراچی سے روزانہ ساڑھے تین بجے روانہ ہوتی ہے اور 18گھنٹوں کے طویل سفر کے بعد اپنی منزلِ مقصود پر پہنچ جاتی ہے جس میں پنجاب کے شہر خانیوال اور سندھ کے قصبے روہڑی میں تکنیکی پیڑاؤ بھی شامل ہیں۔ بعدازاںیہ دورانیہ کم کرکے 15گھنٹے کر دیا گیا۔
حال ہی میں پاکستان ریلویز کے تحت پاکستان بزنس ایکسپریس کی طرز پر اسلام آباد سے کراچی تک کے لیے شروع کی گئی گرین لائن ٹرین سے میسرز فور برادرز پر دباؤ بڑھا ہے۔
پاکستان بزنس ایکسپریس کی جانب سے معیاری خدمات کی فراہمی کے حوالے سے گراوٹ دیکھنے میں آئی ہے۔ یہ ٹرین بیش تر اوقات شیڈول کے مطابق منزل کی جانب روانہ نہیں ہوتی۔ ایسے واقعات بھی ہوئے ہیں جب اس کا انجن فیل ہوگیا جس کے باعث طویل تاخیر ہوئی۔
ایک بڑی فارماسیوٹیکل کمپنی کے شعبۂ سیلز کے سربراہ حسین احمد نے نیوز لینز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ لاہور اور کراچی کے درمیان اکثر و بیش تر سفر کرتے ہیں اور وہ یہ سفر جہاز کے ذریعے کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک روز پی آئی اے کے جہاز کی ہنگامی لینڈنگ کے باعث انہوں نے بزنس ٹرین پر سفر کیا۔
انہوں نے کہا:’’ ابتداء میں میَں بزنس ٹرین پر سفر کرنے کے حوالے سے پرجوش تھا۔ میرے بچوں کو یہ بہت زیادہ پسند آئی۔ میرا یہ جوش و جذبہ اب ماند پڑچکا ہے۔‘‘ وہ کراچی اور لاہور کے درمیان اکثر و بیش سفر کرتے رہتے ہیں جس کے باعث وہ سروس میں فرق بتا سکتے ہیں۔ٹرین اب وقت پر روانہ نہیں ہوتی۔ انہوں نے کہا:’’ اگرچہ معیار متاثر ہوا ہے اور میرا اعتماد بھی ڈگمگایا ہے لیکن میَں ریلوے کی دیگر سروسز پر اب بھی بزنس ٹرین کو ترجیح دیتا ہوں۔‘‘
وزیرِ ریلوے سعد رفیق نے حال ہی میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ بزنس ایکسپریس کی انتظامیہ کی جانب ریلویز کے 1.75ارب روپے واجب الادا ہیں۔ پاکستان ریلوے اس معاہدے کو اسی صورت میں جاری رکھنا چاہتی ہے کہ اگر میسرز فور برادرز معاہدے کے تحت روزانہ کی بنیاد پر کرایہ ادا کرے جو 88فی صد کے ملکیتی تناسب کے حساب سے 31لاکھ روپے بنتا ہے۔
ریلوے کے سینئر جنرل منیجر جاوید انور نے نیوز لینز پاکستان سے بات کرتے ہوئے کہا:’’ہم چاہتے ہیں کہ ہماری رقم ابتدائی معاہدے کے مطابق ادا کی جائے جب کہ واجب الادا رقم ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتی جارہی ہے۔‘‘
یہ معاہدہ فریقین کے مابین 2011ء میں ہوا جس کا مقصد مسافروں کو عالمی معیار کی سروس فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ جدید سہولیات اور ٹیکنالوجی فراہم کرنے کے ذریعے ریلوے نیٹ ورک میں ایگزیکٹو کلچر متعارف کروانا تھا۔ ریلویز کے اس اقدام کو ریاست کی ملکیتی اس کارپوریشن کی جزوی نجکاری سے بھی تعبیر کیا گیا جس کے معاشی حالات انتہائی خراب تھے۔
ابتداء میں یہ ٹرین سروس ان کاروباری حضرات کے لیے شروع کی گئی تھی جو لاہور اور کراچی کے مابین اکثر و بیش تر سفر کرتے ہیں لیکن بعدازاں ایک اکانومی بوگی بھی متعارف کروائی گئی تاکہ زیادہ سے زیادہ ریونیو حاصل کرنے کے علاوہ متوسط طبقے کے مسافر بھی اس سہولت سے مستفید ہوسکیں۔
پاکستان بزنس ٹرین کے افتتاح کے ایک ماہ بعد یعنی فروری 2012ء میں فار برادرز کی مینجمنٹ کو ادراک ہواکہ انہوں نے ملکیتی تناسب کے حوالے سے غلط معاہدہ کیا ہے۔ بعدازاں مذکورہ کمپنی کی مینجمنٹ کی جانب سے ریلوے حکام پر یہ دباؤ ڈالا گیا کہ وہ اپنا ملکیتی تناسب کم کرکے 55فی صد کرے ‘ دوسری جانب اس نے پاکستان بزنس ایکسپریس کے افتتاح کے ایک ماہ بعد ہی پوری رقم کی ادائیگی روک دی جس کے ردِعمل میں ریلویز کی جانب سے یہ آپریشن متعدد بار روکا گیا اور کمپنی مینجمنٹ سے کہا گیا کہ وہ ٹرین کی روانگی سے قبل رقم ادا کرے۔ 
فور برادرز ایک طویل جدوجہد کے بعد 2013ء میں ملکیتی تناسب کم کروا کے 65فی صدکروانے میں کامیاب رہی اور یہ کامیابی اس نے اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کے ذریعے حاصل کی۔ ریلوے کا انفراسٹرکچر استعمال کرنے کے کرایے پر نظرثانی کرتے ہوئے اسے 22لاکھ روپے روزانہ کر دیا گیا جس کے بعد سے یہ کشیدگی جاری ہے۔
جاوید انور نے کہا:’’ اقتصادی رابطہ کمیٹی اس نوعیت کے تنازعات کو حل کرنے کے لیے متعلقہ پلیٹ فارم نہیں ہے اور یہ وہ وجہ ہے جس کے باعث ہم نے فیصلے پر نظرثانی کے لیے سپریم کورٹ جانے کا فیصلہ کیا ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ ریلوے نے پبلک پرائیویٹ شراکت داری کی بنیاد پر یہ منصوبہ شروع کرنے کے لیے کوئی پیشکش نہیں کی تھی بلکہ یہ فور برادرز تھی جس نے رابطہ کیا اور 88فی صد کے ملکیتی تناسب پر معاہدہ کیا۔ بعدازاں انہوں نے کورٹ سے حکمِ امتناعی حاصل کیا جس کے باعث ہم ان کو بزنس ٹرین چلانے کی اجازت دینے پر مجبور ہوئے لیکن اس کے ساتھ ہی ہم نے کمپنی کی انتظامیہ سے کہہ دیا کہ وہ 22لاکھ روپے روزانہ کے بجائے 31لاکھ روپے ڈیپازٹ کروائیں۔ 
پاکستان بزنس ایکسپریس کے ڈائریکٹر آپریشز میاں شفقت علی نے نیوز لینز پاکستان سے بات کرتے ہوئے کہا:’’ ہم اپنا آپریشن بند کرنے کے لیے تیار ہیں۔ اس کے لیے ریلوے نہ صرف ایک ماہ قبل نوٹس جاری کرے بلکہ ہماری ابتدائی سرمایہ کاری بھی واپس کرے جو ہم نے ایک بہترین اور عالمی معیار کا انفراسٹرکچر بنانے کے لیے کی تھی۔‘‘
انہوں نے کہا:’’ ہم پہلے سے ہی خود کو ایک برانڈ کے طور پر متعارف کرواچکے ہیں اور جب ریلوے میں مشترکہ منصوبے شروع کرنے کی بات ہوتی ہے تو بزنس ایکسپریس وہ نام ہے جو ہر شخص کے ذہن میں ابھرتا ہے۔ یہ ہمارے ماڈل کی کامیابی ہے کہ ریلویز بھی اب ہماری طرز کی ٹرینیں شروع کرنے پر مجبور ہوگیا ہے۔‘‘
فور برادرز گروپ نے اس منصوبے پر 25کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی تھی۔ مزیدبرآں ریلوے لوکوموٹیوز اور بوگیوں کی تزئین و آرائش کے لیے رقم ادھار بھی دی گئی تھی۔
کنٹریکٹ کے مطابق جو بھی فریق معاہدے کو ختم کرنا چاہے گا تو وہ دوسرے فریق کو ایک ماہ قبل نوٹس جاری کرے گا اور ابتدائی سرمایہ کاری کی واپسی کا دعویٰ کرنے کا مجاز نہیں ہوگا۔
میاں شفقت علی نے کہا:’’ ہم ہائیکورٹ میں اپنا مقدمہ جیت چکے ہیں جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ہم درست ہیں‘ اگر ریلوے یہ محسوس کرتا ہے کہ ہم غلط ہیں تو وہ اسے عدالت میں ثابت کرے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ وہ ریلوے کو افتتاح کے بعد سے روزانہ کے کرایے کی مد میں اڑھائی ارب روپے ادا کرچکے ہیں لیکن اس کے باوجود انتظامیہ ٹرین میں تاخیر کرکے، مقررہ تعداد میں لوکو موٹیوز فراہم نہ کرکے اور بوگیوں کی سالانہ تزئین و آرائش نہ کرکے ان کے لیے مشکلات پیدا کر رہی ہے جب کہ یہ سب کچھ معاہدے کا حصہ ہے۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.