پشاور ( غلام دستگیر سے)پشاور کا قلعہ بالا حصار اگرچہ پاکستان کی سینکڑوں برس قدیم تاریخی عمارتوں میں سے ایک ہے لیکن اس کے باوجود اسے فی الحال خیبرپختونخواہ کے آثارِ قدیمہ کے ایکٹ 1997ء کے تحت ایک محفوظ یادگار قرار نہیں دیا گیا۔ قلعہ بالا حصار میں تاحال نیم فوجی ادارے فرنٹیئر کورپس کا ہیڈکوارٹرقائم ہے۔ 
ایکٹ کی شق 20(1)کے مطابق ’’ اس ایکٹ کے مقاصد کو پورا کرنے کے علاوہ کسی بھی شخص کو یہ اجازت حاصل نہیں ہے کہ وہ آثارِ قدیمہ کو تباہ کرے،‘توڑے، نقصان پہنچائے، اس میں تبدیلی کرے، خراب یامنہدم کرے یا اس پر کچھ لکھے یا کسی بھی قسم کی کندہ کاری کرے یا کوئی علامت بنائے تاکہ وہ اس محفوظ کیے گئے تاریخی ورثے سے کسی قسم کا کوئی فائدہ اٹھا سکے۔‘‘
خیبر پختونخواہ ڈائریکٹوریٹ آف آرکیالوجی اینڈ میوزیمز عبدالصمد نے کہا کہ آثارِ قدیمہ کے ایکٹ کے تحت قلعہ قومی ورثہ قرار پاتا ہے جس کے باعث یہ براہِ راست ان کے محکمہ کی سپردداری میں آتا ہے۔ اس وقت اس میں فرنٹیئر کورپس (ایف سی) کادفتر قائم ہے۔ 
عبدالصمد نے کہا : ’’لیکن خیبر پختونخواہ میں امن و امان کی ابتر صورتِ حال کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے ہم ایف سی حکام سے قلعہ خالی کرنے کے لیے نہیں کہہ سکتے۔جب بھی صوبہ میں امن و امان کی صورتِ حال بہترہوگی تو ہم لازمی طور پر ان (ایف سی) سے درخواست کریں گے کہ وہ اس کا قبضہ ڈائریکٹوریٹ آف آرکیالوجی کو سونپ دیں۔‘‘
تاہم عبدالصمد کے مطابق صوبائی حکومت ایف سی کونئے ہیڈکوارٹرز کی تعمیر کے لیے پشاور کے حیات آباد ٹاؤن میں زمین الاٹ کرچکی ہے جس کے لیے فنڈز بھی جاری کیے گئے اور اب نئے ہیڈ کوارٹرز کی تعمیر کا کام مکمل ہوگیا ہے۔ 
عبدالصمد قلعہ بالاحصار کوایک اہم تاریخی ورثہ قرار دیتے ہیں۔ یہ پشاور کے بلند ترین مقام پر قائم ہے۔ سات ویں صدی میں پشاور آنے والے ایک چینی سیاح نے اس بلند ترین مقام کا ذکر کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں:’’ میرا خیال ہے کہ چینی سیاح نے جس بلند ترین مقام کے بارے میں لکھا تھا‘ وہ بالاحصار کے علاوہ کوئی دوسرا نہیں ہے۔‘‘
عبدالصمد کہتے ہیں کہ جب آثارِ قدیمہ ایکٹ کے تحت کسی عمارت کو ورثہ قرار دے دیا جائے تو آرکیالوجی ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹرکی اجازت کے بغیر اس کی مرمت یا بحالی پر ممانعت ہے۔
سرحد کنزرویشن نیٹ ورک کے کنونئیر ڈاکٹر عادل ظریف کہتے ہیں کہ ایف سی کے زیرِانتظام قلعہ بالا حصار میں تبدیلیاں کی جارہی ہیں۔ مثال کے طور پر قلعہ میں ایک مسجد تعمیر کی گئی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ وہ قلعہ میں عبادت گاہ کی تعمیر کے خلاف نہیں ہیں لیکن قومی ورثہ قرار دی گئی عمارتوں میں تبدیلی آثار قدیمہ کے تحفظ کے عالمی اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتی۔
وہ قلعہ کے تحفظ کے حوالے سے کہتے ہیں کہ ایف سی حکام نے بہ ظاہراس کی دیکھ بھال کی ہے لیکن انہوں نے اس سارے عمل میں متعلقہ ماہرین سے کسی قسم کی کوئی مشاورت نہیں کی۔ 
ڈاکٹر عبدالصمد ان کے اس مؤقف سے اتفاق کرتے ہیں:’’ آرکیالوجی ڈیپارٹمنٹ میں انجینئرنگ کنزرویشن ونگ کے نام سے تاریخی اہمیت کی حامل عمارتوں کی حفاظت کے لیے ایک شعبہ قائم ہے ۔ اس شعبہ میں آرکیالوجسٹس، سول انجینئرز، آرکیٹیکٹ، ڈرافٹس مین اور دیگر تربیت یافتہ کارکن شامل ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ایف سی نے قلعہ کی حفاظت کے لیے کسی بھی ماہر سے مشاورت نہیں کی۔ وہ کہتے ہیں:’’ قوی امکان ہے کہ قلعہ کی مرمت کا کام ملٹری انجینئرنگ سروس نے کیا ہے۔‘‘
ڈاکٹر ظریف کہتے ہیں کہ قلعہ بالا حصار ایک تاریخی عمارت ہے جس کی آثارِ قدمہ کے طور پر بھی اہمیت واضح ہے ، چناں چہ اسے فوری طور پر سیاحوں کے لیے کھول دینا چاہیے اور لفظ سیاح سے مراد غیر ملکی نہیں ہے۔ 
ایک سرکاری افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ان وجوہات پر روشنی ڈالی جن کے باعث قلعہ بالا حصار کو آثار قدیمہ کے ایکٹ کے تحت ایسی تاریخی عمارتوں میں شامل نہیں کیا گیا جن کا تحفظ لازم ہے کیوں کہ مذکورہ ایکٹ یہ ضمانت فرام کرتا ہے کہ ایسے غیر متحرک آثارِ قدیمہ جنہیں تحفظ فراہم کیا گیا ہے‘ ان تک ہر صورت میں عوام کی رسائی ہو۔
جب ایف سی کے تعلقاتِ عامہ کے افسر واجد یوسفزئی سے رابطہ قائم کیا گیا تو انہوں نے اس حوالے سے لاعلمی کا اظہار کیا کہ ایف سی ہیڈکوارٹرز کی حیات آباد میں منتقلی میں کیا دشواریاں پیش آرہی ہیں اور نہ ہی وہ یہ جانتے ہیں کہ قلعہ بالا حصار کے تحفظ کے لیے کیا طریقۂ کار اختیار کیا گیا ہے۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.