ڈی آئی خان (فاروق محسود سے) وزیرستان کے عسکریت پسندی سے متاثرہ علاقوں سے قریب ہونے کے باعث ضلع ڈی آئی خان خطرات کی زد پر ہے ‘عسکریت پسند طویل عرصہ سے اس علاقے میں فعال ہیں اور اب شہر اور اس کے گرد و نواح میں اپنے سلیپر سیل منظم کر رہے ہیں۔
لیکن ملا فضل اللہ کی قیادت میں تحریکِ طالبان ضلع ڈی آئی خان کی تحصیل کلاچی میں اپنی نئی شاخ تشکیل دے رہی ہے جس کے بارے میں مقامی لوگ طویل عرصہ سے آگاہ تھے لیکن اب یہ باضابطہ طور پر کام کر رہی ہے۔ 
تحریکِ طالبان پاکستان کی مرکزی کمانڈ کی قیادت ملا فضل اللہ کرتے ہیں، وہ ایک عسکریت پسند رہنماء ہیں جو افعانستان میں قیام پذیر ہیں اور اس سے قبل شمالی پاکستان کی وادئ سوات میں طالبان شورش کی قیادت کرچکے ہیں اور اب انہوں نے ہارون عرف ضرار کو تحریک طالبان پاکستان (کلاچی گروپ) یا ٹی ٹی پی(کے جی) کا سربراہ تعینات کیا ہے۔ قاری اکرام‘ کلاچی میں فعال اس نئی شاخ کے نائب کے طور پر کام کریں گے۔ 
تحریک طالبان پاکستان میں ایک ذریعے نے سکیورٹی وجوہات کے باعث اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا:’’ کمانڈر ضرار کی قیادت میں تقریباًپانچ سے سات سو اعلیٰ تربیت یافتہ عسکریت پسند کارروائیاں انجام دیں گے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ تحریکِ طالبان پاکستان(کلاچی گروپ) سے منسلک عسکریت پسندوں نے ماضی میں افغانستان کی سرحد سے متصل صوبہ خیبرپختونخواہ کے جنوبی اضلاع میں متعدد کارروائیاں کی ہیں۔ 
’’تحریکِ طالبان پاکستان کی مرکزی قیادت مستقبل میں ایسی مزید ’کارروائیاں‘ کرنے کے حوالے سے پرامید ہے۔‘‘
19اگست 2008ء کو کلاچی کے ایک خودکش بمبار نے ڈی آئی خان کے ڈسٹرکٹ ہسپتال پر حملہ کیا جس میں 35افراد ہلاک اور 50زخمی ہوگئے جس کے بعد سے کلاچی میں فعال عسکریت پسندوں نے علاقے کے مختلف پولیس سٹیشنوں پربھی متعدد حملے کیے ہیں۔
تحریکِ طالبان پاکستان میں موجود ایک اور ذریعے نے بتایا:30مارچ 2009ء کو ’’ تحصیل کلاچی سے تعلق رکھنے والے عسکریت پسند اس گروہ کا حصہ تھے جنہوں نے مناواں پولیس اکادمی لاہور پر حملہ کیا تھا۔‘‘وہ اس سے قبل اسی ماہ 3مارچ2009ء کو سری لنکا کی کرکٹ ٹیم پر ہونے والی دہشت گردی کی کارروائی کا حصہ بھی رہے۔
قبائلی پٹی سے خیبرپختونخواہ کے اضلاح کا رُخ کرنے والے عسکریت پسندوں کے لیے کلاچی محفوظ پناہ گاہ ہے۔ یہ علاقہ شمالی وزیرستان، جنوبی وزیرستان، بلوچستان کے ضلع ژوب اور پنجاب کے ڈیرہ غازی خان سے بھی قریب ہے۔ ایک پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا:’’ تفتیش کے مطابق عسکریت پسندوں نے حال ہی میں ڈی آئی خان کی جیل توڑنے اور اس پر حملہ کرنے کی منصوبہ سازی کے لیے کلاچی کا انتخاب کیا تھا۔‘‘
جولائی 2013ء میں تحریکِ طالبان پاکستان نے ڈی آئی خان کی سنٹرل جیل پر رات کے وقت حملہ کرکے 35اہم ترین عسکریت پسندوں سمیت 175قیدیوں کوچھڑوالیا تھا۔ 
تحریکِ طالبان پاکستان (کلاچی گروپ) کی تشکیل نے نہ صرف عوام بلکہ پولیس کے لیے بھی خطرات پیدا کیے ہیں جو اکثر و بیش تر نہ صرف ڈی آئی خان و گرد و نواح کے علاقوں بلکہ ملک بھر میں ہدف بنتے رہے ہیں۔
گزشتہ ایک دہائی کے دوران ڈی آئی خان اور ٹانک کے اضلاع بدترین فرقہ ورانہ تشدد کانشانہ بنے جن میں متعدد افراد نہ صرف ہلاک ہوگئے بلکہ فرقہ ورانہ نوعیت کے تشدد کے باعث بہت سے لوگ علاقہ چھوڑ کربھی چلے گئے۔ ڈی آئی خان کی مسلم کمرشل مارکیٹ کے 42برس کے ایک دکاندا زاہد علی کہتے ہیں:’’ فرقہ ورانہ تشدد، بم دھماکوں، بھتہ خوری اور اغوا کی وارداتوں نے بہت سے کاروباری لوگوں کو مجبور کیا کہ وہ پنجاب منتقل ہوجائیں۔‘‘
انہوں نے کہا کہ 2004ء سے قبل حالات پرامن تھے۔ ’’ شہر میں امن تھالیکن اب شہر میں ہونے والے بدترین فرقہ ورانہ تشدد اور دہشت گردی کے باوجود قبائلی پٹی میں حالیہ فوجی آپریشن کے باعث کسی حد تک عسکریت پسندوں کے اثر ورسوخ میں کمی آئی ہے۔‘‘
لیکن زاہد کے مطابق:’’ تحریک طالبان پاکستان (کلاچی گروپ) کی تشکیل سے علاقے میں تشدد کی لہر دوبارہ ابھر سکتی ہے۔‘‘
ایک پولیس افسر کے مطابق ڈی آئی خان میں امن و امان کی ابتر صورتِ حال اور عدم استحکام کے باعث خطے میں حالات خراب ہوں گے کیوں کہ یہ تین صوبوں بلوچستان، خیبرپختونخواہ اور پنجاب کو آپس میں جوڑتا ہے۔
ڈی آئی خان کو گوادر بندرگاہ سے وسطی ایشیائی ریاستوں کوجانے والے سامان کے گودام کے طور پر تجویز کیا گیا ہے۔
ضلعی پولیس افسر (ڈی پی او) صادق بلوچ نے نیوز لینز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ تحریکِ طالبان پاکستان (کلاچی گروپ) کلاچی کے نواحی علاقوں میں گزشتہ تقریباً آٹھ برسوں سے فعال ہے۔ ’’ بہت سے عسکریت پسند جرائم پیشہ سرگرمیوں میں ملوث اور مختلف مقدمات میں مطلوب ہیں۔‘‘
صادق بلوچ نے کہا کہ پولیس نے گروہ کے خلاف ’’ تحصیل کلاچی کے مختلف علاقوں میں ٹارگٹڈ آپریشن اور بہت سے اکثریت پسندوں کو گرفتارکیا جب کہ پولیس مقابلوں میں متعدد ارکان کو ہلاک کرکے‘‘ کارروائیاں کی ہیں۔
رواں سال کے اوائل میں کلاچی کے علاقے میں عسکریت پسند کمانڈرز سلیم شاہ جی اور حکمت اللہ کو دو مختلف پولیس مقابلوں میں ہلاک کر دیا گیا تھا۔ صادق بلوچ نے کہا:’’ پولیس کی کارروائیوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے اور کلاچی میں عسکریت پسندوں کے گھروں کو منہدم کر دیا گیا ہے۔‘‘
انہوں نے مقامی لوگوں کو خبردار کیا کہ وہ عسکریت پسندوں کو پناہ نہ دیں یا دوسری صورت میں ان کے خلاف پولیس کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے کہا:’’ ہم جب بھی علاقے میں عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی کرتے ہیں تو وہ قبائلی علاقوں کی جانب فرار ہوجاتے ہیں جس کے باعث پولیس کے لیے اپنی خدمات کی انجام دہی میں مشکلات پیش آتی ہیں۔‘‘

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.