ملتان کی تحصیل شجاع آباد میں سابقہ ادوار میں 50سے زائد فلٹر پلانٹس لگائے گئے ۔ جن میں سے 9 کام کررہے ہیں جو کہ بلدیہ کمیٹی شجاع آباد کے زیر نگرانی ہے ۔ باقی تمام بند ہوچکے ہیں جس کی وجہ صرف اور صرف فنڈ کی فراہمی نہ ہونا اور ان کے عدم ادائیگی کی وجہ سے بجلی میٹر اتر جانا ہے ،عوام نے اپنے لیے لگائے جانے والے فلٹر پلانٹس کی ٹوٹیاں تک چوری کرلیں ہیں ان فلٹر پلانٹس میں سے کچھ فلٹر پلانٹس ایسے بھی ہیں جن میں سے عوام نے ایک دن بھی پانی کا قطرہ نہیں بھر ا لیکن حکومتی کھاتوں میں ان فلٹر پلانٹس کو ورکنگ دیکھایا گیا ۔ واٹر ٹیسٹنگ ایند لیبارٹری سنٹرملتان کی رپورٹ کے مطابق کسی بھی فلٹر کا پانی پینے کا قابل ہی نہیں ہے ۔

        دلشاد خان تحریک انصاف کے جنرل سیکرٹری تحصیل شجاع آباد کا کہنا ہے کہ سابقہ حکومت نے پیسہ کے ضیاع کے سوا کچھ نہیں کیا تمام فلٹر پلانٹ شجاع آباد میں بیماری پھیلانے کا سبب بن رہے ہیںفلٹر کے تبدیل نہ ہونے کی وجہ سے لو گ زہر آلود پانی پینے پر مجبور ہیں اور یہی پانی موت اور ہیپاپائٹس کا سبب بن رہا ہے ۔ شیخ عبد الباری کا کہنا ہے کہ شجاع آباد میں 32فلٹر پلانٹس میں سے 20بالکل بند پڑے ہیں باقی تمام کے فلٹر زکئی ماہ سے تبدیل نہ کیا گیا ہے ۔ اکثر ملازمین کو کئی کئی مہینوں سے تنخواہیں نہیں ملی اصل وجہ یہ ہے کہ نہ ہی ڈسٹر کٹ گورنمنٹ اور نہ ہی بلدیہ اس کی ذمہ داری لے رہی ہے ۔ ملازمین تنخواہیں نہ ملنے پر شدید پریشان ہیں۔اس حوالے سے چیئر مین بلدیہ شجاع آباد ڈاکٹر رفیق احمد قریشی سے ملاقات کی گئی تو ان کاکہنا ہے کہ جن فلٹر پلانٹس کو بلدیہ کے ہینڈ اوور کردیا گیا تھا ۔ وہ تمام کے تمام ورکنگ میں ہیں جن فلٹر پلانٹس پر یوزر کمیٹیاں بنائی گئیں تھی ان پلانٹس پر بوجہ عدم ادائیگی بجلی منقطع کی گئی ہے ۔ اب حکومت کی طرف سے نئی پالیسی سامنے آرہی ہے وہ تمام فلٹر پلانٹس جو بلدیہ کی حدود میں آتے ہیں ان تمام کو بلدیہ نے چلانا ہے اس کے لیے نئی حکمت عملی کو جلد عمل پیرا کرتے ہوئے عوام کے لیے فائدہ مند کیا جائےگا۔

 عوامی حلقوں میں یہ رائے عام پائی جاتی ہے کہ سابقہ حکومت نے ووٹر کو اپنی طرف کھینچے کے لیے جلد بازی میں صرف ڈھانچے ہی کھڑے کیئے گئے تھے۔ اور وقتی طور پر ان کو یوزر کمیٹی کے حوالے کردیا گیا تھا جو کہ اس بات سے بھی بے خبر تھے کہ ان کو اپنی جیبوں سے یا چندہ اکٹھا کرکے مینٹین یا چلایا جائےگا، اسی وجہ سے وہ فلٹر پلانٹس عدم ادائیگیوں اور معمولی سی خرابیوں کی وجہ سے بند پڑے ہوئے ہیں ۔ شجاع آباد ہیپاٹائٹس ایک وبا اختیار کرگیا ہے ۔ تقریباً75فیصد لوگوں کو ہپاپائٹس مرض میںمبتلا ہیں (ہیپاپائٹس کنٹرول پروگرام کے مطابق)،اورہیپاپائٹس آلودہ پانی کی وجہ سے مزیدیہ مرض تیزی سے پھیلنا شروع ہوگیا ہے۔عوام کی طرف سے وزیر اعلیٰ پنجاب اور حکومت پاکستان سے پرزور اپیل کرتی ہے کہ فوری طور پر مسئلہ کو حل کرکے عوام کو تبدیلی کا ثبوت دے ۔ جو کہ الیکشن سے پہلے تحریک انصاف نے دعویٰ کیا تھا۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.