گزشتہ دنوں مشیر خزانہ عزت مآب جناب عبدالحفیظ شیخ نے ایک پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جو ارشادات فرمائے وہ سننے کو بہت پرکیف اور حوصلہ افزاء تھے جن کی رو سے ہمیں اس بات پر یقین کرلینا چاہیے کہ پاکستان کی سمت کا رخ بالکل صراط مستقیم پر متعین کیا جاچکا ہے اور چند دنوں میں نیا پاکستان ہمارے سامنے ہوگا مگر “راہ پیا جانے “کے مترادف حقیقت وہ نہیں جو میڈیا پر ہمیں بتائی جارہی ہے اس سے پہلے کہ ہم آگے چلیں پہلے مشیر خزانہ کی پریس کانفرنس کے چنندہ نقاط کو دیکھ لیتے ہیں
رواں مالی سال کے پہلی سہ ماہی میں حکومت نے 2 اہم اور بڑے خساروں پر قابو پالیا ہے جس میں 9 ارب ڈالر کا تجارتی خسارہ 30 فیصد کمی کے بعد 5 ارب 70 کروڑ روپے کی سطح پر لایا گیا ہے جبکہ حکومتی آمدن و اخراجات کے فرق میں 36 فیصد کمی کی گئی۔ گزشتہ مالی سال کی ابتدائی سہ ماہی میں مالی خسارہ 7 کھرب 38 ارب روپے تھا جسے آمدن میں اضافہ اور اخراجات کم کر کے 35 فیصد کمی کے بعد 4 کھرب 76 ارب روپے کی سطح پر لایا گیا ہے۔
برآمدات کے شعبے گیس، بجلی اور قرضوں میں سبسڈی دی جارہی ہے۔
رواں مالی سال کے بجٹ میں حکومتی اخراجات کم کیے گئے، کابینہ کی تنخواہوں میں کٹوتی کی گئی، اعلیٰ سول و عسکری عہدیداروں کی تنخواہیں منجمد کی گئیں، پاک فوج کے بجٹ کو منجمد کیا گیا اور سولین حکومت کے بجٹ میں بھی 40 ارب روپے سے زائد کی کٹوتی کی گئی۔
کھرب روپے کا ٹیکس ہدف مقرر کر کے تقریباً 8 لاکھ مزید افراد کو ٹیکس نیٹ میں شامل کیا گیا ہے۔55
حکومت کی آمدن میں 16 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ 3 ماہ کے دوران اسٹیٹ بینک سے بھی کوئی قرض نہیں لیا گیا کیوں کہ اس سے مہنگائی میں اضافہ ہوتا ہے جبکہ اخراجات کو کنٹرول کرتے ہوئے کوئی سپلیمنٹری گرانٹ بھی نہیں دی گئی۔
حکومت کی نان ٹیکس آمدن میں خاصہ اضافہ ہوا اور پہلی سہ ماہی کے دوران 4 کھرب 6 ارب روپے حاصل کیے گئے جو پچھلے سال کے مقابلے 140 فیصد زائد ہے۔ بجٹ میں 12 کھرب روپے کا ہدف رکھا گیا تھااس ہدف سے 4 کھرب روپے زائد یعنی 16 کھرب روپے کی نان ٹیکس آمدن حاصل کرلیں گے۔
گزشتہ 3 ماہ سے ایکسچینج ریٹ مستحکم ہے۔ غیر ملکی زر مبادلہ کے ذخائر بھی مستحکم ہوگئے ہیں اور بیرونِ ملک سے پاکستان میں کی گئی سرمایہ کاری میں 3 سال کے بعد 30 کروڑ 40 لاکھ ڈالر کا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
نوکریوں کے لیے بیرونِ ملک جانے والے پاکستانیوں کی تعداد میں بھی کافی اضافہ ہوا ہے، گزشتہ سال جنوری سے اگست تک کے عرصے میں یہ تعداد 2 لاکھ 24 ہزار تھی جبکہ رواں سال اسی عرصے کے دوران 3 لاکھ 73 ہزار لوگ بیرونِ ملک گئے جس سے معیشت اور زر مبادلہ کے ذخائر میں بھی بہتری آئے گی۔
اسٹاک مارکیٹ میں بھی بہتری آئی ہے اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھا ہے جس کے باعث اگست سے اب تک اسٹاک مارکیٹ 28 ہزار سے بڑھ کر 34 ہزار پوائنٹس کی سطح پر پہنچ گئی یوں اس میں 22 فیصد اضافہ ہوا۔
اور یوں جناب کی پریس کانفرنس کا اختتام ہوا ۔
ان تمام درج بالاء باتوں پر میں مکمل اعتماد کا اظہارکرتے ہوئے صرف ایک بات پوچھنے کی جسارت کرنا چاہتا ہوں اور وہ یہ کہ ہمارے وزیرآعظم اقتدار میں آنے سے پہلے فرمایا کرتے تھے کہ لوگ بیرون دنیا سے ہمارے ہاں نوکریوں کی تلاش میں آیا کریں گے مگر یہاں تو 3لاکھ 73 ہزار لوگ پاکستان سے باہر چلے گئے ناامیدی کی انتہاء یہ ہے کہ پونے چار لاکھ لوگ پاکستان کے حالات سے مایوس ہوکر اپنی جمع پونجی کو داؤ پر لگاکر حصول رزق کیلئے اپنے ملک سے ہجرت کرگئے جس پر کف افسوس ملنے کی بجائے ہمارے امیر مالیات خوشیاں منا رہے ہیں ۔
ہمارے ملک میں قائم تمام ممالک کے سفارت خانوں کو موصول ہونے والی ویزے کی درخواستوں کا تناسب اگر دیکھا جائے تووہ اس قدر شدید ہے کہ اللہ کی پناہ ۔ ایک انٹرنیشنل کورئیر سروس کے لاہور دفتر کے مطابق صرف لاہور شہر سے ایک دن میں جانے والی ویزے کی درخواستیں 300 سے زائد ہیں جبکہ ایسی اور بھی کئی کورئیر سروس کے دفاتر اسی کام میں مشغول ہیں اس کے علاوہ ویزہ فیس اور دیگر کاغذات کا شمار کہیں زیادہ ہے ۔ ملک کے باقی شہروں کا کیا حال ہوگا اس بارے میں کچھ کہنا خاصا تکلیف دہ ہوگا ۔
ہمارے لوگ اور بالخصوص نوجوان طبقہ جو حکمران پارٹی کا ہراول دستہ شمار کیا جاتا تھا سب سے زیادہ مایوسی کا شکار ہے ۔ عمران خان کو اقتدار میں آئے 15 مہینے سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے مگراب تک ان کا ہر کام صرف بیانیئے کی حد تک ہی محدود ہے عملی طور پر کارکردگی کا گراف انتہائی تنزلی کا شکار ہے ملک میں رہنے والے مایوسی کا شکار بنتے جارہے ہیں اب تو وفاقی وزیر فواد چوہدری اس بات کا بھی عندیہ دے چکے ہیں کہ سرکار 400 محکموں کو مستقل بند کرنے کا سوچ رہی ہے اور ایک کروڑ نوکریوں کی بات بھی صرف بات ہی رہے گی وگرنہ ملکی معیشت بالکل بیٹھ جائے گی۔
ایسے حالات میں ہمارے مشیر خزانہ سب اچھا ہے کا راگ لاپ رہے ہیں جو سننے کو تو خوشنما ہوسکتا ہے مگر حقیقت میں دیوانے کا خواب ہے ۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.