: Photo By News Lens Pakistan /

کوئٹہ (عبدالمالک اچکزئی سے) عسکریت پسندی سے متاثرہ صوبے بلوچستان میں خواتین کی دورانِ زچگی اموات کی شرح انتہائی بلند ہے جس کے اسباب میں صحت کی سہولتوں کا دستیاب نہ ہونا، قبائلی ثقافت، عوام کا کم تر درجے کا سماجی و معاشی مقام و مرتبہ اور طبی افسروں و غیرسرکاری تنظیموں کے ورکرز کو درپیش سکیورٹی کے خدشات شامل ہیں۔
شمالی بلوچستان کے ضلع ژوب کی بی بی رضیہ اپنے گیارہویں بچے کو جنم دیتے ہوئے جان کی بازی ہار گئیں۔ ابتدا میں گائوں کی ایک بڑی عمر کی دائی نے اس کا علاج کیا لیکن جب معاملہ پیچیدہ رُخ اختیار کرگیا تو رضیہ بی بی کو ڈسٹرکٹ ہسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں خواتین پر مشتمل عملہ موجود نہیں تھا۔ چناں چہ رضیہ بی بی کو کمبائنڈ ملٹری ہسپتال لے کر جایا جارہا تھا کہ وہ راستے میں ہی دم توڑ گئی۔
مرحومہ رضیہ بی بی کے خاوند محمد عیسیٰ نے نیوز لینز پاکستان سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایک غریب انسان کے لیے زندہ رہنا ہی غنیمت ہے اور اگر اس کے پاس پیسے ہیں تو تب ہی وہ اپنی اہلیہ کا ڈلیوری کیس ایک اچھے ہسپتال سے کرواسکے گا۔
انہوں نے کہا’’ میں صرف اس قدر کما سکتا ہوں کہ اپنے بچوں کا پیٹ پال سکوں۔ میں نے اپنے خاندان کی صحت کو خدا پر چھوڑ رکھا ہے کیوں کہ نجی ہسپتالوں میں علاج کروانے کی استطاعت نہیں رکھتا جس پر بہت زیادہ خرچ اٹھتا ہے۔ یہ وہ بنیادی وجہ ہے جس کے باعث میں رضیہ کو کسی خاتون ڈاکٹر کے پاس نہیں لے کر گیا۔‘‘
ایک دائی ممتازہ بی بی نے نیوز لینز پاکستان سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہر روز ایک ماں بچہ جنم دیتے ہوئے جاں بحق ہوجاتی ہے ۔
انہوں نے کہا:’’ مقامی آبادی غریب ہے اور دوسرا حکومت کی جانب سے صحت کی سہولیات فراہم نہیں کی گئیں ۔ اگر کوئی خاتون حاملہ ہے تو اسے راز میں رکھنا ہماری ثقافت کا حصہ ہے۔‘‘
ممتازہ بی بی نے مزید کہا کہ عورتوں کی بہت کم تعداد چیک اَپ کے لیے خواتین گائناکالوجسٹ کا رُخ کرتی ہیں کیوں کہ لوگ غریب ہیں اور نجی کلینکوں میں علاج کروانے کی استطاعت نہیں رکھتے۔
انہوں نے مزید تفصیل بتاتے ہوئے کہا:’’ جب مجھ سے کسی ڈلیوری کیس کے بارے میں کہا جاتا ہے تو میں نہیں جانتی کہ حاملہ خاتون کی ڈلیوری نارمل ہوگی یاپیچیدہ ؟ ہم دائیوں کو صرف رات کی تاریکی میں ہی بلایا جاتا ہے۔ نارمل ڈلیوری کرنا آسان ہوتا ہے جیسا کہ میں نے ابتدائی تربیت حاصل کررکھی ہے لیکن پیچیدہ ڈلیوری کرنے کی تربیت حاصل نہیں کی۔اگر ڈلیوری کا کوئی معاملہ پیچیدہ ہو تو ہم مریض کے خاوند کومشورہ دیتے ہیں کہ وہ حاملہ خاتون کو جلد از جلد لیڈی ڈاکٹر کے پاس لے کر جائے۔‘‘
بلوچستان میں قبائلی روایات، امن و امان کے ابتر حالات، مختلف سماجی ممنوعات، صحت کی سہولیات کا نہ ہونا یا پھر فقدان اور حمل کے عرصہ کے دوران احتیاط سے متعلق اگاہی نہ ہونے کے باعث ہر برس خواتین کی ایک بڑی تعداد جان کی بازی ہار جاتی ہے۔
پاکستان ڈیموگرافک اینڈ ہیلتھ 2012-13ء کے سروے کی ایک رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں ماہرین سے دورانِ حمل علاج کروانے والی خواتین کی شرح پنجاب اور سندھ کی نسبت انتہائی کم ہے۔
کچھ عرصہ قبل تک غیرسرکاری عالمی تنظیم سیو دی چلڈرن بلوچستان کے انتہائی متاثرہ اضلاع میں دورانِ زچگی خواتین کی اموات پر تحقیق کر رہی تھی لیکن پاکستان کی وزارتِ داخلہ نے ان کے بلوچستان، خیبرپختونخوا، فاٹا اور گلگت بلتستان میں کام کرنے پر پابندی عاید کر دی۔
آرگنائزیشن کے ایک سابق اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر نیوز لینز سے بات کرتے ہوئے کہا:’’ سیو دی چلڈرن کا سرکاری ہسپتالوںا ور صحت کے بنیادی مراکز کے لیے ایک موڈیول تشکیل دینے کا منصوبہ تھا تاکہ خواتین ہیلتھ ورکرز کی تربیت کی جاسکے اور صحت سے متعلق بالخصوص ڈلیوری اور بچے کی پیدائش کے حوالے سے آگاہی پیدا کی جائے۔‘‘
سماجی کارکن رحمت ترین نے نیوز لینز پاکستان سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان پاکستان کے 43فی صد رقبے پر پھیلا ہوا ہے لیکن آبادی کی شرح خاصی کم ہے‘ طبی مراکز نہ ہونے کے برابر ہیں اور یہ صوبے میں خواتین کی دورانِ زچگی اموات کی ایک بڑی وجہ ہے۔
انہوں نے کہا:’’کچھ دیہی علاقوں میں خواتین میں خواندگی کی شرح صفر فی صد ہے اور قبائلی روایات کے سخت گیر ڈھانچے کے باعث خواتین جب حاملہ ہوتی ہیں تولوگ اس جانب کوئی دھیان نہیں دیتے اور ڈاکٹر کے بنیادی کردار کا ادراک نہیں کرپاتے۔ ہزاروں لوگوں کی آبادی کے لیے کوئی ایک ڈاکٹر بھی دستیاب نہیں ہے۔‘‘
عسکریت پسندی کی وجہ سے بلوچستان کے شورش زدہ علاقوں میں طبی سہولیات فراہم کرنا ممکن نہیں ہے۔
بلوچستان رورل سپورٹ پروگرام (بی آر ایس پی) کے چیف ایگزیکٹو اافسر نادر گل بریچ نے نیوز لینز پاکستان سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حمل کے دورا ن انتہائی اختیاط کرنے کی ضرورت ہوتی ہے اور اکثر دور دراز کے علاقوں میں قائم ہسپتالوں کی جانب جاتے ہوئے خون زیادہ بہہ جانے کی وجہ سے اموات بھی ہوجاتی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا:’’میرا نہیں خیال کہ دورانِ زچگی اموات میں کوئی کمی آئی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ڈلیوری کے ایک لاکھ کیسوں میں سے785 میںاموات ہوتی ہیں( انہوں نے سرکاری ادارے ڈیموگرافک ہیلتھ سروے 2006-07ء کا حوالہ دیا)۔ تازہ ترین اعداد وشمار نہ ہونے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ گزشتہ سات برسوں میں دورانِ زچگی اموات کی شرح میں کمی آئی ہے۔‘‘
نادر گل بریچ نے مزید کہا کہ صوبے میں خواتین کو حمل کی پیچیدگیوں اور صحت کی بنیادی ضروریات کے متعلق تعلیم دینے کی شدت کے ساتھ ضرورت ہے لیکن یہ امن و امان کے قیام کے بغیر ناممکن ہے جس کے باعث صوبے کے بہت سے حصوں کا دورہ کرنا آسان نہیں ہے کیوں کہ سکیورٹی فورسز اور بلوچ عسکریت پسندوں کے درمیان جنگ جاری ہے۔
بلوچستان کے وزیرِ صحت رحمت بلوچ نے نیوز لینز پاکستان سے بات کرتے ہوئے کہا:’’ خواتین کی دورانِ زچگی اموات پر کسی حد تک قابو پالیا گیا ہے۔ اب اس کی شرح اس قدر بلند نہیں ہے لیکن اس کے باوجوداس جانب بہت زیادہ توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔ بلوچستان بھر میں عوام کو آگاہی دینا ہوگی تاکہ وہ اپنی قبائلی روایات سے جان چھڑاتے ہوئے اپنی صحت کے مسائل سے آگاہ ہوں جیسا کہ یہ وہ بنیادی عوامل ہیں جن کے باعث دورانِ زچگی خواتین کی اموات میں اضافہ ہورہا ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا:’’ بلوچستان میں برسرِاقتدار اتحادی حکومت نے صوبہ بھر میں 14ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتالوں میں دورانِ زچگی اموات کی شرح پر قابو پانے کے لیے گائناکالوجسٹ، انس تھیولوجسٹ اور پیڈیاٹریشین کی خدمات فراہم کی ہیں۔ اس سے قبل صرف سات ڈسٹرکٹ ہسپتالوں میں یہ سہولت فراہم کی گئی تھی۔ مزید برآں خضدار، تربت اور لورالائی کے اضلاع میں خواتین کو صحت کی تعلیم فراہم کرنے کے لیے تین نرسنگ کالج کھولے گئے ہیں جو مائوں کی صحت کا خیال رکھیں گے کیوں کہ صوبے میں خواتین لیڈی ورکرز کی تعداد بہت کم ہے۔‘‘
حکومتِ بلوچستان ایک منظم پروگرام پر کام کر رہی ہے تاکہ ڈاکٹرز اپنے اضلاع اور دیہی علاقوںـ میں کام کریں جہاں دورانِ زچگی مائوںـ کی ہلاکت کی شرح زیادہ ہے اور عوام کی صحت کی سہولتوں تک رسائی نہیں ہے۔
پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن بلوچستان شاخ کے سابق سیکرٹری جنرل ڈاکٹر آفتاب خان نے نیوز لینز پاکستان سے بات کرتے ہوئے کہا:’’ ڈاکٹرز کو کوئی سکیورٹی حاصل نہیں ہے۔18ڈاکٹر قتل کیے جاچکے ہیں، 28کو تاوان کے لیے اغوا کیا گیا تھا اور تین اب تک لاپتہ ہیں۔ 89سینئر پروفیسروں اور ماہر ڈاکٹروں نے صوبہ چھوڑ دیا ہے‘ ان میں سے بیش تر کو خطرات درپیش تھے۔ امن و امان کے ابتر حالات وہ بنیادی وجہ ہیں جن کے باعث ڈاکٹر دور دراز کے علاقوں میں پریکٹس کرنے سے گریزاںہیں۔‘‘
خاران ڈسٹرکٹ ہسپتال میں سٹاف نرس نگہت عائشہ کے مطابق لیبر رومز میںمناسب آلات نہیں ہیں، ادویات کے علاوہ تکنیکی و اعلیٰ تربیت یافتہ عملے کی خدمات بھی حاصل نہیں ہیں اور حتیٰ کہ کچھ اضلاع میںلیبر روم کے لیے کسی عمارت کا وجود ہی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ آن ڈیوٹی ڈاکٹر شہروں میں آباد ہیں اور وہ شاذو نادرہی ہسپتال کا رُخ کرتے ہیں۔ گائناکالوجسٹ کا 24گھنٹے ہسپتال میںموجود ہونا ضروری ہے کیوں کہ مریض کسی بھی وقت ہسپتال آ سکتا ہے۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.