: Photo By News Lens Pakistan / Alizer Bukhari
Kalash

ہنزہ (سمیرا علی سے)چار برس کی آمنہ ریم وادیٔ کیلاش میں دریاکناے پانی میں اپنے پیر لٹکائے بیٹھی ہے‘ وہ حسن کا مجسم پیکر ہے جووادیٔ کیلاش میں جابجا نظر آتا ہے۔ ملک میں سرگرم شدت پسند عناصر اس حسن کو ختم کرنے کے درپے ہیں۔
اخباری رپورٹوں کے مطابق کیلاش قبیلے کے لوگوں کو طالبان اور دیگرمذہبی انتہاپسندوں کی جانب سے ڈرایادھمکایا جاتا رہا ہے جو اسلام کے نام پر مذہبی عدم رواداری کو فروغ دینے کے خواہاں ہیں۔ اس اقلیتی گروپ کوخوف زدہ کرنے کے لئے مختلف ہتھکنڈے استعمال کیے جارہے ہیں تاکہ یہ اپنی آبائی وادی چھوڑ دیں جو اپنی منفرد ثقافت کی بنا پر معروف ہے۔
بالائی چترال سے منتخب ہونے والے صوبائی اسمبلی کے رُکن سردار حسین کی جانب سے فراہم کیے گئے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کی یہ بت پرست کمیونٹی ، جن کی آبادی کبھی 20ہزار نفوس پر مشتمل تھی، اب کم ہوکرصرف تین ہزار رہ گئی ہے اور حالیہ برسوں کے دوران یہ رجحان تشویش ناک حد تک بڑھا ہے۔
وادیٔ کیلاش خیبرپختونخوا کے ضلع چترال کی حدود میں آتی ہے اور یہ علاقہ بلند و بالا پہاڑوں کے فطری و خوش نما حسن سے مالا مال ہے‘ درخت موسمی پھلوں سے لدے ہوتے ہیں جن میں سے کچھ سے مقامی طور پر وائن تیار کی جاتی ہے جواس علاقے کے باسیوں کی روایتی سرگرمی ہے۔
وادیٔ کیلاش کی خوبصورتی اس دھرتی پر بسنے والے لوگوں کے چہروں سے بھی جھلکتی ہے جن پرنمایاں تاثرات انفرادیت کے حامل اوررنگت چمکتی ہوئی دلکشی لیے ہوئے ہے جس کے باعث یہ دوسروں سے یکسر مختلف دکھائی دیتے ہیں۔
پاکستان میں ثقافتی تنوع نہ ہونے کے برابر ہے اور اب ایک اور اقلیتی گروہ کی بقاء خطرات کی زد پر ہے جس کی ثقافت اور روایات سحر زدہ تو کرتی ہی ہیں بلکہ دنیا کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے ہزاروں غیر ملکیوں کو بھی اپنی جانب متوجہ کرتی ہیں۔
ثقافتی تنوع کا معدوم ہونا ملک کی سیاحتی صنعت کے لیے ایک بڑادھچکا ثابت ہوگاجو مستقل طور پر زوال پذیر ہے۔
وادیٔ کیلاش کے ایک مقامی باسی گل وزیر نے نیوز لینز پاکستان سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی کمیونٹی معدوم ہونے کے خطرات سے دوچار ہے۔انہوں نے کہا:’’ہم طالبان کے علاوہ مختلف مذہبی شدت پسند گروہوں کی جانب سے دھمکیوں کا سامنا کر رہے ہیں جوہم لوگوںکو اپنی مذہبی شدت پسندی کی پالیسی کے فروغ کی راہ میں ایک رکاوٹ خیال کرتے ہیں تو دوسری جانب اسلام قبول کرنے پر مجبور کیاجارہا ہے۔‘‘
انہوں نے اس جانب بھی اشارہ کیا کہ ان کا سارا معاشی انحصار سیاحت پر ہے‘ ایک دور تھا جب بڑی تعداد میں غیر ملکی سیاح اس علاقے کا رُخ کیا کرتے جو فطری حسن، ثقافتی ورثے اور روایتی میلوں سے لطف اندوز ہوتے جن سے تاریخ کا ایک پورا عہد واضح ہوتاتھا۔انہوں نے مزید کہا:’’ حکومت کی جانب سے اقدامات نہ کیے جانے کے باعث وادیٔ کیلاش کے باسی نہ صرف اپنی شناخت سے محروم ہورہے ہیں بلکہ معاشی مشکلات کے باعث بھی لوگوں کی تکالیف میں اضافہ ہواہے۔‘‘
وفاقی وزیرِ اطلاعات پرویز رشید نے نیوز لینز پاکستان سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے مقامی انتظامیہ کو سختی کے ساتھ یہ ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مقامی کمیونٹی کے تحفظ کے لیے کوئی کسر اٹھا نہ رکھیں۔ انہوں نے مزید کہا:’’ یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ وادیٔ کیلاش کے باسیوں کے ثقافتی تنوع کو محفوظ بنائے کیوں کہ محکمۂ سیاحت کے معاشی وسائل کا ایک بڑا حصہ اس علاقے میں سیاحتی سرگرمیوں سے ہی حاصل ہوتا ہے۔‘‘
محکمۂ سیاحت خیبرپختونخوا کے سوشل میڈیا کوارڈینیٹر آصف بشیر نے کہا کہ صوبائی حکومت نے مقامی کمیونٹی اور ان کے ورثے کو محفوظ بنانے کے لیے بہت سے اقدامات کیے ہیں۔انہوں نے مزید کہا:’’ ہم نے ’’کیلاش ثقافت کے تحفظ‘‘ کے نام سے ایک پروگرام شروع کیا ہے اور اس مقصد کے لیے کچھ غیر سرکاری تنظیموں کی مدد بھی حاصل کی ہے۔‘‘
انہوں نے وادیٔ کیلاش کے باسیوں کو درپیش خطرات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ وادی میں، جس کی سرحد افغانستان سے بھی متصل ہے، سکیورٹی چیک پوسٹیں قائم کی جاچکی ہیں۔ انہوں نے انکشاف کیا:’’ 2009ء میں سرحد کے اُس پار سے آنے والے طالبان نے کچھ کیلاش خواتین کو اغوا بھی کیا تھا۔‘‘

 

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.