پنجاب بھر کے وکلاءاپنے ساتھی کی حمایت میں سامنے آگئے ۔کسی بھی میڈیا ہاﺅس نے دو طرفہ موقف پر مبنی خبر نہیں چلائی تاہم نیوز لینز پاکستان دونوں طرف کے دعوے اور الزامات قارئین کی خدمت میں پیش کررہا ہے تاکہ وہ طرفین کی طرف سے پیش کیے گئے حقائق جان سکیں ۔

پنجاب بار کونسل موقف
وائس چیئرمین پنجاب بار کونسل شاہ نواز اسماعیل گجر کا کہا ہے کہ پوری ذمہ داری کے ساتھ یہ کہہ رہا ہوں کہ وکیل احمد مختار نے لیڈی کانسٹیبل کو تھپڑ نہیں مارا ۔

قا نون کے مطابق مستغیث مقدمہ کو کبھی بھی یہ اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ ملزم کی ہتھکڑی پکڑ کر عدالت پیش کرے ۔ انکا کہنا تھا کہ ڈی پی او شیخوپورہ کی سربراہی میں ایک ٹیم تشکیل دی گئی جس نے یہ سارا ڈرامہ رچایا، لیڈی کانسٹیبل کو ڈھال بنایا گیا ، عدالت پیشی پر تصویر بناکر ڈی پی او شیخوپورہ کے ذاتی اکاﺅنٹ سے سوشل میڈیا پر اسکی تشہیر کی گئی جو کہ قابل قبول نہیں ہے ان سب کا ذمہ دار ڈی پی او شیخوپورہ غازی صلاح الدین ہے ۔

شاہ نواز اسماعیل کا کہنا تھا کہ آئی جی پنجاب اور حکومت وقت سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ ڈی پی او شیخوپورہ ، ڈی ایس پی اور ایس ایچ اور فیروزوالا کو فوری طور پر معطل کرکے انکی جگہ نئے افسران تعینات کیے جائیں اور ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی جائے جس میں جوڈیشری کے لوگ بھی موجود ہوں جو اس سارے واقعے کی انکوائری کرے اور انکوائری رپورٹ کے بعد جو بھی قصور وار ہو اسے سخت سے سخت سزا دی جائے ۔

وکیل رانا احمد مختار کا موقف
وکیل رانا احمد مختار کا کہنا تھا کہ ”میں نے کسی لیڈی کانسٹیبل کو تھپڑ نہیں مارا ، میرا جھگڑا گیٹ پر موجود کانسٹیبل علی احمد سے ہوا اور وہ بھی معمولی تکرار تھی“ ۔ وکیل رانا احمد مختار کا کہنا تھا کہ مورخہ 05-09-2019 کو صبح جب دفتر آیا تو گیٹ پر موجود کاسٹیبل علی احمد سے ڈیوٹی کے حوالے سے معمولی تکرار ہوئی ۔ مین گیٹ کی دوسری سمت ایک خاتون کانسٹیبل بھی کرسی پر بیٹھی تھی ۔ تکرار کے دوران لیڈی کانسٹیبل نے خواہ مخواہ مداخلت کی تو میں نے کہا کہ ”آپ خاتون ہیں اپنی کرسی پر بیٹھ جائیے معاملے میں دخل مت دیں “ اسکے بعد میں اپنے مقدمات کو اٹینڈ کرنے دفتر چلا گیا ۔احمد مختار کا کہنا تھا کہ دن 02:30 بجے فیروزوالا بار میں دیگر پروفیشنلز کے ساتھ مصروف تھا کہ مجھے میرے تایا جان رانا محمد خان ایڈووکیٹ کا فون آیا کہ ڈی ایس پی فیروزوالا ملک یعقوب اعوان نے مسلح سپاہیوں کے ساتھ ہمارے چیمبر پر ریڈ کیا ہے اور غیر قانونی طور پر دفتر کی تلاشی لیکر سامان اور دستاویزات کو الٹ پلٹ کیا ۔ احمد مختار کا کہنا تھا کہ جب وہ اپنے چیمبر میں آئے تو وہاں 50 کے قریب مسلح پولیس اہلکار اور ڈی ایس پی فیروزوالا ملک یعقوب اعوان موجود تھے ۔ معلوم کرنے پر سب واقعہ انہیں سنایا کہ میری لڑائی کسی خاتون کانسٹیبل سے نہیں ، میں صرف اتنا کہا تھا کہ آپ خاتون ہیں اور اپنی کرسی پر بیٹھ جائیں ۔ سابقہ صدر بار فیروزوالا رانا محمد خان ، سیکرٹری بار فیروزوالا محمد عیص اور دیگر وکلاءمیرے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے چند قدم پر واقع ڈی ایس پی کے دفتر پہنچے جہاں پہنچتے ہی ڈی ایس پی نے ایس ایچ او فیروزوالا رفیع اللہ نیازی کو مجھے گرفتار کرنے کا حکم دیا اور غیر قانونی طور پر بنا ایف آئی آر مجھے گرفتار کرکے حوالات میں بند کیا اور تصاویر بنائیں ۔

وکیل احمد مختار کا کہنا تھا کہ اگلے دن چھ ستمبر کو عدالت پیشی کے موقع پر ایس ایچ او رفیع اللہ نیازی نے ہتھکڑی میرے ہی مقدمہ کی مدعیہ فائزہ نواز کے ہاتھ میں پکڑا کر فساد فی الارض کو دعوت دی کیونکہ وہ جانتا تھا کہ اس حرکت سے وکلاءبرادری طیش میں آئیں گے اور ڈسکہ جیسا واقعہ رونما ہونے کو جنم دیا لیکن بزرگ وکلاءنے تمام حالات کو کنٹرول کیا اور میری ضمانت ہوئی ۔

وکیل احمد مختار کا کہنا تھا کہ ایس ایچ او رفیع اللہ نیازی ، ڈی ایس پی فیروزوالا ملک یعقوب اعوان اور ڈی پی او نے منصوبہ بندی کے تحت عدالت پیشی کے موقع پر ہتھکڑی لیڈی کانسٹیبل کے ہاتھ میں پکڑائی اور تصاویر بنا کر سوشل میڈیا پر اپلوڈ کرکے وکلاءبرادری اور کالے کوٹ کی توہین کی ہے جو کہ ناقابل برداشت ہے ۔ تصاویر کو تمام پولیس کے سوشل میڈیا اکاﺅنٹس پر اپلوڈ کیا گیا اور میرا میڈیا ٹرائل بھی کیا گیا ۔ وکیل احمد مختار کا کہنا تھا کہ جھوٹی ایف آئی آر میں جو دفعات لگائی گئیں وہ سب قابل ضمانت تھیں اور ضمانت کے بعد لیڈی کانسٹیبل نے ایک ویڈیو بیان جاری کیا جس میں اس نے الزام لگایا کہ ایف آئی آر میں نام غلط تھا جسکی وجہ سے وکیل کی ضمانت ہوئی جبکہ حقائق اسکے برعکس ہیں ، تمام دفعات قابل ضمانت تھیں اسلیے ضمانت ہوئی ۔ وکیل احمد مختار کا کہنا تھا کہ لیڈی کانسٹیبل تھانہ فیروزوالا کی ملازمہ نہیں تھی اور یہ پاکستان کا قانون اسکی اجازت نہیں دیتا کہ ایک مقدمہ کی مدعی کے ہاتھ میں ہتھکڑی پکڑا کر ملزم کو پیش کیا جائے ۔ انکا کہنا تھا کہ فائزہ نواز روز ایک نئی ویڈیو بناکر سوشل میڈیا پر اپلوڈ کردیتی ہے اور ہر ویڈیو میں اسکا بیان مختلف ہوتا ہے جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اسکو کوئی استعمال کررہا ہے وکلاءبرادری کے خلاف ۔ وکیل احمد مختار کا کہنا تھا کہ اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی اور وکلاءبرادری کی توہین کرنے کی سازش کو بے نقاب کریں گے اور تب تک عدالتی کاروائی کا بائیکاٹ رہے گا جب تک ایس ایچ او فیروز والا رفیع اللہ نیازی، ڈی ایس پی فیروزوالا ملک یعقوب اعوان اور ڈی پی او شیخوپورہ غازی صلاح الدین کو معطل کرکے انکوائری کا آغاز نہیں کیا جا تا ۔

تصویر کی پلاننگ
نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پرتھانہ فیروزوالا کے ایک پولیس اہلکار نے نیوزلینز کو بتایا کہ ایس ایچ او فیروزوالا رفیق اللہ نیازی نے 5 اور 6 ستمبر کی درمیانی شب تھانہ فیروزوالا میں یہ منصوبہ بندی کہ کہ صبح عدالت پیشی کے موقع پر ہتھکڑی فائزہ کے ہاتھ میں دی جائے گی جس تفتیشی نے کہا کہ ” ہتھکڑی مدعیہ کے ہاتھ میں پکڑانا قانون جرم ہے اور ایسی حرکت سے کچہری میں فساد برپا ہوسکتا ہے اور نقصان ہوسکتا ہے “ جسکے جواب میں ایس ایچ او رفیع اللہ نیازی نے کہا کہ ” جو بھی نقصان ہوگا اسکا ذمہ دار میں خود ہوں گا مجھے اعلیٰ افسران کی طرف سے یہ ہدایت دی گئی ہے کہ ہتھکڑی فائزہ کے ہاتھ میں پکڑا کر وکیل احمد مختار کو عدالت میں پیش کیا جائے “ ۔ لہذا ایس ایچ او رفیع اللہ نیازی نے منصوبہ بندی کے تحت تھانہ فیروزوالا سے ایک پولیس اہلکار کی ڈیوٹی لگائی کہ صبح عدالت پیشی کے موقع پر تصاویر بنائے ۔

صدر بار ایسوسی ایشن فیروزوالا موقف
صدر بار ایسوسی ایشن فیروزوالہ احمد سلطان چیمہ نے کہا کہ یہ فیروز والا بار کی تاریخ ہے کہ کبھی کسی وکیل نے بار اور عدالت کے کمرے میں کسی خاتون کو ہاتھ تک نہیں لگایا۔ لیڈی کانسٹیبل فائزہ نواز جھوٹ بول رہی ہیںاحمد مختار نے اسے تھپڑ نہیں مارا۔ احمد بات کر رہے تھے کچہری فیروز والا کے مین گیٹ پر مرد کانسٹیبل علی احمدسے۔ لیڈی کانسٹیبل فائزہ نواز موقع پر موجود تھیں لیکن اس معاملے میں ملوث نہیں تھیں۔ پولیس نے فائزہ نواز کو وکلا برادری کے خلاف استعمال کیا اور وکلا کے وقار اور عزت کو ختم کرنے کی کوشش کی ہے ۔ یہ پاکستان کی تاریخ ہے کہ ہم نے فیروزوالا بار میں ” وومن امپاوومنٹ اینڈ ڈویلمنٹ کمیٹی “ بنارکھی ہے ۔ اگر اس طرح کا واقعہ مرکزی دروازے پر ہوا ہوتا تو فائزہ وکیل احمد مختار کے خلاف شکایت درج کرانے کے لئے ڈبلیو ڈی ای سی کے پاس آسکتی تھی لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا کیونکہ واقعتا یہ نہیں ہوا تھا۔

احمد سلطان چیمہ کا کہنا تھا کہ ایف آئی آر کی تمام دفعات قابل ضمانت تھیں اور احمد مختار کو عدالت سے ضمانت مل گئی۔ میں کانسٹیبل فائزہ نواز کے اس بیان کی مکمل طور پر تردید کرتا ہوں کہ ”عدالت نے احمد مختار کوغیر معمولی ریلیف دیا ہے” تمام عمل قانون کے مطابق تھا۔ انکا کہنا تھا کہ ایس ایچ او فیروز والا رفیع اللہ نیازی کرپٹ آدمی ہے اور اس نے لیڈی کانسٹیبل فائزہ نواز کو ہتھکڑی پکڑا کر فیروز والا کچہری کے ماحول کو خراب کرنے کی کوشش کی۔ ہم احتجاج پر ہیں اور ایس ایچ او فیروز والا رفیع اللہ نیازی اور ڈی ایس پی فیروزوالہ ملک یعقوب اعوان اور ڈی پی او شیخوپورہ غازی صلاح الدین کی معطلی تک رہیں گے۔ ہم عدالتوں کا بائیکاٹ کریں گے، پولیس اہلکاروں کی معطلی تک کوئی وکیل عدالت میں پیش نہیں ہوگا۔

صدر بار ایسوایشن شیخوپورہ موقف
صدر بار ایسوسی ایشن شیخوپورہ رانا زاہد نے کہا کہ ” پاکستانی تاریخ میں یہ کبھی نہیں ہوا کہ مدعی کے ہاتھ میں ہتھکڑیاں پکڑاکر ملزم کو عدالت میں پیش کیا جائے ۔ اگر پولیس کے پاس ثبوت موجود ہیں تو کوئی ویڈیو منظرعام پر لانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنے وکیل احمد مختار کے ساتھ ہیں اور ہم ایس ایچ او اور ڈی ایس پی فیروزوالا کی معطلی تک احتجاج پر ہیں۔ لیڈی کانسٹیبل فائزہ نواز نے استعفیٰ نہیں دیا، انہوں نے صرف ایک ویڈیو ریکارڈ کرتے ہوئے کہا کہ وہ مستعفی ہونے والی ہیں۔ لیڈی کانسٹیبل نے 3 ویڈیوز ریکارڈ کیں اور سوشل میڈیا پر اپلوڈ کیں، ہر ویڈیو میں اس کا بیان بدل گیا، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ بے قصور ہے اور پولیس اسے وکلاءبرادری کے خلاف استعمال کررہی ہے لیکن ہم اپنے وقار اور عزت پر سمجھوتہ نہیں کریں گے۔

ٓصدر ڈیموکریٹک لائرز فورم موقف
ممبر پنجاب بار کونسل اور صدر ڈیموکریٹک لائرز فورم ایاز صفدر سندھو نے کہا کہ ”ہم وکلا برادری کے خلاف پولیس کے اس غیر قانونی اور غیر اخلاقی اقدام کی شدید مذمت کرتے ہیں، انہوں نے کہاکہ وکلا ہمیشہ خواتین کا احترام کرتے ہیں۔ ہم روزانہ سینکڑوں خوا تین کو عدالت میں ملتے ہیں اور آج تک ایسا نہیں ہوا کہ کسی خاتون کے ساتھ بدتمیزی کی گئی ہو۔ انہوں نے کہا کہ ہم قانون جانتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے حقیقت معلوم کرنے کے لئے ایک کمیٹی تشکیل دی، سچ یہ ہے کہ احمد مختار نے لیڈی کانسٹیبل کو تھپڑ نہیں مارا ۔ وہ ڈیوٹی کے معاملے پر کچہری فیروز والا کے مین گیٹ پر مرد کانسٹیبل علی احمد سے گفتگو کر رہے تھے۔

ایاز صفدر سندھو کا کہنا تھا کہ قومی اور بین الاقوامی میڈیا پر پولیس کے خلاف ایک لہر دوڑ رہی ہے، لہذا پولیس نے اپنی نالائقی چھپانے کے لیے یہ ساری کہانی بنائی جسے میڈیا پر دکھایا جارہا ہے ۔ ایاز نے مزید کہا، ہم ہمیشہ خواتین کا احترام کرتے ہیں لیکن ہم پولیس کی غیر قانونی اور غیر اخلاقی کارروائیوں کے خلاف متحد ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اس کا ثبوت کہاں ہے؟ پولیس کیا مثال قائم کرنا چاہتی ہے؟ کیا پولیس قانون سے بالاتر ہے؟کس قانون کے تحت ایک ملز م کی ہتھکڑی مدعی کے ہاتھ میں پکڑائی گئی ۔ انکا کہنا تھا کہ ایس ایچ او رفیع اللہ نیازی نے وکیلوں اور پولیس اہلکاروں میں تصادم کا بندوبست کیا لیکن فیروزوالا بار کے وکلاءنے قانون کے خلاف نہ جانے کا فیصلہ کیا اور کسی قسم کے تصادم کو روکنے میں کامیاب ہوئے ۔ انکا کہنا تھا کہ ایف آئی آر میں جو دفعات لگائی گئیں وہ قابل ضمانت تھیں اور ہم وکیل احمد مختار کی ضمانت حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے ۔ ایاز صفدر سندھو کا کہنا تھا کہ ہمارا لاک ڈا¶ن پولیس کی غیر قانونی کارروائیوں کے خلاف ہے اور تب تک جاری رہے گا جب تک ایس ایچ او فیروزوالا رفیع اللہ نیازی اور ڈی ایس پی فیروزوالا ملک یعقوب اعوان اور ڈی پی او شیخوپورہ غازی صلاح الدین کو معطل کرکے انکوائری کا آغاز نہیں کیا جاتا ۔

ڈی پی او شیخوپورہ موقف
ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر شیخوپورہ غازی صلاح الدین کا کہنا ہے کہ وکیل احمد مختار نے کچہری فیروزوالا کے مین گیٹ پر ڈیوٹی پر تعینات لیڈی کانسٹیبل کو تھپڑ مارا ۔ ہم نے قانون کے مطابق کاروائی کی اور اس مقدمہ کو آگے لیکر جائیں گے عدالت میں چالان پیش کریں گے ۔ ڈی پی او کا کہنا تھا کہ ہم پہلے بھی قانون کے مطابق چلے ہیں اور اب بھی قانون کے مطابق آگے بڑھیں گے ۔ انکا کہنا تھا کہ فائزہ نے ابھی تک استعفیٰ نہیں دیا ، وہ پنجاب پولیس کا حصہ ہیں ابھی تک اور ہم فائزہ کو انصاف دلائیں گے ۔ ایف آئی آر میں غلط نام لکھنے کے حوالے سے انکا کہنا تھا کہ ایف آئی آر میں نام درست کردیا گیا ہے ، معاملہ عدالت میں ہے ۔

لیڈی کانسٹیبل فائزہ کا موقف
لیڈی کانسٹیبل فائزہ نواز نے نیوزلینز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وکیل احمد مختار گیٹ پر موجود کانسٹیبل علی احمد سے جھگڑا کررہا تھا ، دونوں کا جھگڑا اس قدر بڑھ گیا کہ وکیل احمد مختار علی احمد کو گالیاں دینے لگا ، میں نے وکیل احمد مختار کو روکنے کی کوشش کی جس پر انہوں نے پہلے مجھے کک ماری پھر تھپڑ مارا ، پاس دوسرے کانسٹیبلز نے مجھے چھڑایا ۔ وکیل احمد مختار کی ضمانت پر بات کرتے ہوئے فائزہ نواز کا کہنا تھا کہ وکیل احمد مختار کو ایف آئی آر میں نام غلط لکھنے پر ضمانت مل گئی ۔ تفتیشی افسر اور ایس ایچ او فیروزوالا رفیع اللہ نیازی نے وکلاءکی حمایت کی ۔ لیکن اب میرا محکمہ میرے ساتھ ہے ، میں سمجھتی ہوں کہ یہ عورت کی تذلیل کی گئی ہے ۔ میں یونیفارم میں تھی ایسے تو کوئی بھی آئے اور یونیفارم میں موجود لیڈی کانسٹیبل کو تھپڑ مار دے ۔

لیڈی کانسٹیبل فائزہ نواز سے جب ہتھکڑی کے حوالے سے سوال کیا گیا کہ کس کے کہنے پر آپکو ہتھکڑی پکڑائی گئی تو فائزہ نواز نے اس سوال کا جواب دینے سے گریز کیا اور کہا کہ میں اپنا مقدمہ خود لڑوں گی۔

لیڈی کانسٹیبل کے ویڈیو بیانات
وکیل احمد مختار کی ضمانت کے بعد لیڈی کانسٹیبل فائزہ نواز نے اپنی پہلی ویڈیو میں الزام لگایا کہ جج نے تشدد کرنے والے وکیل احمد مختار کو اسکا نام ایف آئی آر میں غلط لکھنے (احمد افتخار)کی بناپر ضمانت پر رہا کردیا اور میرا موقف سنا ہی نہیں ۔اسکے ساتھ ہی فائزہ نے کہا کہ پولیس وکیلوں کے دباﺅ میں آگئی ہے اور جان بوجھ کر ایف آئی آر میں غلطی کی ۔ کیا یہی ہے عورت کی عزت کہ اسے کوئی بھی سرعام تھپڑ مار کرچلا جائے ؟ فائزہ نے کہا کہ مجھے اپنے محکمہ سے انصاف کی امید نہیں اسلیے صدر پاکستان اور چیف جسٹس اس واقعے کا نوٹس لیں اور مجھے انصاف دلائیں ۔

اپنی دوسری ویڈیو میں فائزہ نے کہا کہ میں اپنے محکمے پر یقین رکھتی ہوں ، جذباتی ہوکر اپنے ہی محکمہ کے خلاف بول پڑی ، لیکن ڈی پی او صاحب اور ڈی ایس پی نے مجھے یقین دلایا ہے کہ تمہیں انصاف ملے گا ۔

تیسری ویڈیو میں فائزہ نواز نے الزام لگایا کہ اسے وکیل کی طرف سے دھمکیاں دی جارہی ہیں اور وہ مافیا کا مقابلہ نہیں کرسکتیں لہذا وہ اپنے محکمہ سے استعفیٰ دے رہی ہے ۔

سٹوری بیک گراﺅنڈر
5 ستمبر کو فیروز والا کچہری میں خاتون پولیس اہلکار نے احمد مختار نامی وکیل کو لیڈیز چیکنگ پوائنٹ پر گاڑی پارک کرنے سے منع کیا تھا جس پر وکیل احمد مختار نے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے لیڈی کانسٹیبل سے بدتمیزی کی اور تھپڑ مارا۔ ڈی پی او شیخوپورہ غازی صلاح الدین نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے وکیل کیخلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا تھا جس کے بعد مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کیا گیا۔
خاتون پولیس اہلکار کو تھپڑ مارنے والے وکیل کو اسی لیڈی کانسٹیبل فائزہ نواز نے ہتھکڑیاں لگاکر عدالت میں پیش کیا جہاں عدالت نے ملزم کی ضمانت کی درخواست منظور کرلی ہے۔ خاتون کانسٹیبل کو تھپڑ مارنے والے وکیل کے پوسٹر شہر بھر میں دیواروں پر چسپاں کیے گئے ۔

ایف آئی آر کے مطابق مدعیہ فائزہ نواز لیڈی کانسٹیبل نے بتایا کہ اس کی ڈیوٹی فیروز والہ کچہری کے گیٹ پر تھی جب دن ایک بجے ایک کلٹس کار وہاں پارک کی گئی۔ مقدمے کے مطابق فائزہ نواز نے بتایا کہ گاڑی میں سے دو افراد نکلے جن میں سے ایک وکیل احمد مختار تھے۔ ’کانسٹیبل احمد علی نے ان کو گاڑی گیٹ کے سامنے سے ہٹانے کے لیے کہا مگر احمد مختار اشتعال میں آ گئے اور پولیس اہلکاروں کو گندی گالیاں دیں۔ میں نے گالیاں دینے سے منع کیا تو اس نے مجھے پہلے ٹانگ ماری اور پھر تھپڑ مارنے شروع کیے۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.