: Photo By News Lens Pakistan /

لاہور (سمیرا علی سے)پاکستان میںبچوں کو ہراساں کرنے کے واقعات میں تشویش ناک شرح سے اضافہ ہو رہا ہے اور مختلف رپورٹوں کے مطابق ملک میں ہر برس ہزاروں بچوں کو جنسی طور پر ہراساں کیا جاتا ہے لیکن ایسے بچوں کے علاج کے لیے قائم بحالی مراکز کی تعداد ناکافی ہے۔
 بچوں کو ہراساں کرنا ان بہت سے مظاہر میں سے ایک ہے جن پربات کرنا پاکستان میں ممنوع ہے جس کے باعث اس موضوع پر کھل کر بات نہیں کی جاتی۔ حال ہی میں منظرعام پر آنے والاایک ایسا ہی وقوعہ ( جوقصور میں پیش آیا)اس ساری صورتِ حال کی کرب ناک انداز سے منظرکشی کرتا ہے جب کہ ہراساں ہونے والے بچوں کی ذہنی و جسمانی بحالی کے لیے مناسب بندوبست کا نہ ہونا مزید تشویش ناک ہے۔ ماہرین یہ یقین رکھتے ہیں کہ بچوں کو ہراساں کرنے کے واقعات کو پوشیدہ رکھنا آسان ہوتا ہے جس کے باعث ایسے واقعات کی گہرائی کے ساتھ تشویش نہیں ہوپاتی۔
حکومت کی جانب سے بچوں کو ہراساں کرنے کے واقعات کی روک تھام کے لیے ضروری اقدامات تک نہیں کیے گئے اور حکام یہ ادراک کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہوچکے ہیں کہ اگر کوئی بچہ ان حالات سے گزرتا ہے تو اس کی شخصیت پر انتہائی منفی نفسیاتی اثرات مرتب ہوتے ہیں جس سے بحالی مراکز کے غیر مؤثر کردار کی وضاحت ہوتی ہے۔
قصور کے واقعہ نے ایک بار پھرمتاثرہ بچوں کو فوری امداد فراہم کرنے کے لیے بحالی مراکز قائم کرنے کی ضرورت کی جانب توجہ مبذول کروائی ہے جنہیں اس نوعیت کے بدترین حالات کا سامنا کرنا پڑا یا پڑتا ہے۔سب سے تشویش ناک پہلو متاثرہ بچوں کی بحالی کے لیے قائم مراکز کی تعداد کاتشویش ناک حد تک کم ہونا ہے۔
ایک جانب بچوں کو ہراساں کرنے کے واقعات ہورہے ہیں تو دوسری جانب اس نوعیت کے واقعات کے متعلق اعداد و شمار مرتب کرنا انتہائی مشکل ہے کیوں کہ اس نوعیت کے واقعات بڑے پیمانے پر رپورٹ نہیں ہوپاتے۔آبادی کی بنیاد پر اگرچہ کوئی اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں‘ لیکن مختصر پیمانے پر ہونے والی تحقیقی کاوشوں سے اس مسئلے کی شدت کا ادراک ضرور ہوتا ہے۔
محکمۂ پولیس کی جانب سے حاصل کیے گئے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق بچوں کو ہراساں کرنے کے واقعات اور ان کی جانب توجہ نہ دیئے جانے کے رجحان کا اندازہ لگانا مشکل ہے کیوں کہ سماجی بدنامی کے خوف کے باعث اس نوعیت کے واقعات کی بڑی تعداد رپورٹ نہیں ہوپاتی۔
سرکاری ذرائع سے موصول ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق رواں برس اب تک لاہور میں 30،پشاور میں 15، راولپنڈی میں 35اورکراچی میں بچوں کو ہراساں کرنے کے 17واقعات رپورٹ ہوچکے ہیں۔
ماہر نفسیات ڈاکٹرغزالہ عارف نے کہا کہ ہراساں ہونے والے بچے صدمے کی کیفیت میں ہوتے ہیں اور ان میںعام بچوں کی نسبت خود کو نقصان پہنچانے کے چار گنا زیادہ خدشات تو ہوتے ہی ہیں بلکہ خودکشی کی کوشش کرنے کے رجحان کا مشاہدہ بھی کیا گیا ہے۔
چائلڈ پروٹیکشن بیورو کی سربراہ صبا صادق نے نیوز لینز پاکستان سے بات کرتے ہوئے کہاکہ پنجاب بھر میں بحالی کے صرف 10مراکز کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا:’’ ہم جنسی تشدد کاشکار ہونے والے بچوں کو نفسیاتی اور طبی سہولتیں فراہم کرنے کے علاوہ ان کی مکمل بحالی کے لیے بھی کام کر رہے ہیں۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ ان کا ادارہ اس حوالے سے عوام میں آگاہی پیدا کرنے کے لیے ورکشاپوں کا انعقاد کر رہا ہے۔تاہم چائلڈ پروٹیکشن بیورو کی جانب سے کی جانے والی کوششیں مسئلے کی شدت کے مقابل آٹے میں نمک کے برابر ہیں۔
اسلام آباد میں شہید ذوالفقار علی بھٹو یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر جاوید اکرم نے بحالی مراکز کی اس قدر کم تعداد پر مایوسی کا اظہار کیا جو خاص طور پر جنسی طور پر ہراساں ہونے والے بچوں کے لیے قائم ہیں۔ انہوں نے کہا:’’میں ایسے کسی بحالی مرکز کے بارے میں کوئی معلومات نہیں رکھتا لیکن میں مانتا ہوں کہ بحالی کے ایسے مراکز تمام ضلعی ہسپتالوں میں قائم ہوں۔‘‘ انہوں نے نیوز لینز پاکستان سے بات کرتے ہوئے مزید کہا کہ اگر پنجاب کے اضلاع کی تعداد 38ہے تو ہرضلع میں ایک بحالی مرکز تو ضرور قائم ہونا چاہئے۔
ڈاکٹر جاوید اکرم نے انکشاف کیاکہ یہ صورتِ حال صوبہ خیبرپختونخوا میں زیادہ تشویش ناک ہے اور اس نوعیت کے واقعات کی ایک بڑی تعدادرپورٹ نہیں ہوتی۔ انہوں نے جنسی طو رپر ہراساں ہونے والے بچوں کی طبی، قانونی اور معاشی تناظر میں بھی بطورِ خاص مدد پر زور دیا۔ان بچوں کے والدین کو بھی مشاورت کی ضرورت ہے کہ وہ ان کے ساتھ گھروں میں کیسا رویہ اختیار کریں۔ ڈاکٹر جاوید اکرم نے مزید کہا:’’ میں ان شکوک و شبہات کا شکار ہوں کہ پنجاب یا کسی اور صوبے میں کوئی ایک ایسا بحالی مرکز قائم ہو جہاںبچوں کو اس نوعیت کی سہولتیں فراہم کی جارہی ہوں۔‘‘
سپارک کی ریسرچ کوارڈینیٹر زرینہ جیلانی نے بھی ان بحالی مراکز کی انتہائی کم تعداد پر بات کی جہاں جنسی طور پر ہراساں ہونے والے بچوںکی بحالی کے لیے جدید طریقے اختیار کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا:’’ اعداد و شمار کے مطابق آگاہی نہ ہونے اور اس مظہر سے منسلک سماجی بدنامی کے خوف کے باعث بچوں کو ہراساں کرنے کے ہزاروں معاملات رپورٹ نہیں ہوپاتے۔‘‘
یونیسیف (UNICEF)سے منسلک واصف محمود نے کہا کہ ان کی تنظیم نے چائلڈپروٹیکشن کے قانون کی تشکیل کی حمایت کی تھی لیکن مختلف حکومتوں کی جانب سے اس حوالے سے دلچسپی نہ لیے جانے کے باعث اس پر عملدرآمدنہیں ہوسکا۔
انہوں نے اس اَمر پر افسوس کا اظہار کیا:’’ حکومت اس معاملے کو حل کرنے کے لیے کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کر رہی اور نہ ہی اس نے بچوں کو ہراساں کرنے کے واقعات کی روک تھام کے لیے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیموں کی اہلیت بڑھانے کے لیے کوئی اقدامات کیے ہیں۔‘‘
یہ واضح رہے کہ پاکستان میں بحالی کے مراکز کی تعداد بہت کم ہے۔ دوسری جانب حکومت اور غیر سرکاری تنظیمیں اس مسئلے کی شدت اور درست اعداد و شماردستیاب نہ ہونے کے باعث واضح نہیں ہیں۔

1 COMMENT

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.