لاہور: 11برس کی دو لڑکیوں روبینہ اور رخسانہ کی طرح پاکستان میں بہت سے محنت کش بچوں اور بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتی اور تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے، انہیں حبسِ بے جا میں رکھا جاتا ہے اور ان میں سے کچھ قتل بھی ہوجاتے ہیں، انہی وجوہ کے باعث بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکن ملزموں کوانصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے سخت سے سخت قوانین تشکیل دینے پر زور دے رہے ہیں۔

روبینہ کو جڑانوالہ کے ایک خاندان نے گھریلو ملازمہ کے طورپر ملازمت دی جو جون 2016ء میں لاپتہ ہوگئی۔ مقامی پولیس کے اے ایس آئی رائے ناصر نے بچی کو اغوا کیا اور اسے ایک مقامی خاتون وکیل سحرش کے گھر پر رہائش فراہم کی جس کے بعد ناصر کا سحرش کے گھر آنا جانا معمول بن گیا جہاں وہ روبینہ پر جنسی تشدد کیا کرتا۔

روبینہ کے بھائی محمد اشرف کا کہنا تھا کہ انہیں پانچ ہفتوں بعد روبینہ مل گئی لیکن اس کی حالت انتہائی خراب تھی۔

روبینہ نے اپنے خاندان کو بتایا کہ اسے ناصر نے اغوا کیا تھا۔ انہوں نے اس بارے میں جب ناصر سے رابطہ قائم کیا تو اس نے روبینہ کو ریپ کرنے سے صاف انکار کردیا۔ قریباً چارماہ بعداس معاملے کی ایف آئی آر تو درج کرلی گئی لیکن ملزم کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔

روبینہ کا معاملہ ایسے سینکڑوں واقعات میں سے ایک ہے جو ہر برس وقوع پذیر ہوتے ہیں جن میں کم عمر ملازموں پر جسمانی تشدد کیا جاتا ہے لیکن ملزم صاف بچ نکلتے ہیں کیوں کہ محنت کش بچوں کے تحفظ کے لیے کوئی قوانین موجود نہیں ہیں۔

غیر سرکاری تنظیم ’ساحل‘ کے سینئر ریجنل کوارڈینیٹر انصار سجاد بھٹی کہتے ہیں کہ 2016ء میں گھریلو ملازمین پر تشدد کے 41مقدمات درج کیے گئے۔

انہوں نے نیوز لینز پاکستان سے بات کرتے ہوئے کہا:’’ان 41بچوں میں سے 13کو اغوا کیا گیاجب کہ 21سے ریپ کیا گیا جن میں 11بچے ایسے بھی ہیں جن کے ساتھ اجتماعی زیادتی کی گئی، دو کو ریپ کرنے کے بعد قتل کردیا گیا اور دو لڑکوں کے ساتھ بدفعلی کی گئی۔‘‘
2016ء میں انسانی حقوق کمیشن، پاکستان کی جانب سے محنت کش بچوں اور لیبر قوانین کی خلاف ورزی

کے حوالے سے شائع ہونے والی ایک رپورٹ سے یہ معلوم ہوا کہ پاکستان میں 60لاکھ سے زائد بچے کم تنخواہوں پر زیادہ کام کرنے پر مجبور کردیے گئے ہیں۔

انسانی حقوق کے کارکنوں کے مطابق محنت کش بچے جنسی و جسمانی تشدد اور زبانی بدکلامی کا شکار ہوتے ہیں۔

حال ہی میں منعقد کئے جانے والے لیبر فورس سروے کے مطابق اس وقت 6.4ملین بچے محنت مزدوری کررہے ہیں۔ اس سروے میں 10سے 14برس کی عمرکے بچوں کو شامل کیا گیا تھاجو سکول نہیں جارہے تھے اور مختلف شعبوں جیسا کہ زراعت، ماہی پروری، ٹرانسپورٹ، قالین بافی، کیٹرنگ، موٹر ورکشاپوں اور دیگر شعبوں میں کام کررہے تھے۔

گھروں میں کام کرنے والے ملازمین کے استحصال کا شکار ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے، وہ محنت کشوں کے لیے واضح کیے گئے حقوق سے محروم ہیں اور آجروں کی جانب سے ان پر جسمانی و جنسی تشددکا امکان بھی بہت زیادہ ہوتا ہے۔

وکلاء، غیرسرکاری و سرکاری ادارے کم عمر گھریلو ملازمین کو ان کے حقوق فراہم کرنے کے لیے کوشاں ہیں جو یہ یقین رکھتے ہیں کہ بل برائے گھریلو ملازمین (ملازمت کے حقوق) 2015ء ایسا پہلاقانون ہے جس کے تحت گھریلو ملازمین لیبر لاز کے دائرہ کار میں آگئے ہیں۔

غیرسرکاری تنظیموں ’ساحل‘ اور ’سپارک‘ سے منسلک کارکن کہتے ہیں کہ اگر یہ بل قومی اسمبلی سے منظور ہوجاتا ہے تویہ پاکستان میں اس نوعیت کی ایسی پہلی قانون سازی ہوگی۔ 

غیر سرکاری تنظیم ’سپارک‘ اپنی سالانہ رپورٹ میں لکھتی ہے کہ 240,000سے زائد کم عمر گھریلو ملازمین تکلیف دہ اورر غیر محفوظ ماحول میں کام کررہے ہیں جن کی اکثریت کی زندگی آجروں کے رحم و کرم پر ہے جو انہیں مستقبل بنیادوں پر جسمانی و نفسیاتی تشدد کا نشانہ بناتے ہیں۔

صوبہ پنجاب کے چائلڈ پروٹیکشن بیورو کے قانونی مشیر محمد ممتاز نے نیوز لینز پاکستان سے بات کرتے ہوئے کہا:’’ شومئی قسمت تو یہ ہے کہ سرے سے ایسی کوئی قانون سازی کی ہی نہیں گئی جس میں صرف اور صرف گھریلو ملازمین پر مرکوز کی گئی ہو۔ محنت کشوں سے متعلق قوانین کے صرف دو نکات ایسے ہیں جن میں گھریلو ملازمین کا ذکر کیا گیا ہے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا:’’ مؤثر قانون سازی نہ ہونے کے باعث کم عمر گھریلو ملازمین کے کام کرنے کا دورانیہ خاصا طویل ہوتا ہے، وہ نامناسب تنخواہیں وصول کرتے ہیں، منفی رویے اورتشدد کے علاوہ جنسی حملوں کا شکار بھی ہوتے ہیں جس کے باعث ان کے لیے زندگی جہنم بن کر رہ جاتی ہے۔‘‘

’سپارک‘سے منسلک ریسرچ اینڈ کمیونیکیشن افسر فرشاد اقبال نے ایک 12نکاتی دستاویز پیش کی جس میں گھریلو ملازمین سے متعلق بل کی فوری منظوری پر زور دیا گیا تھا جو گزشتہ تین برسوں سے التوا کا شکار ہے۔

انہوں نے مزید کہا:’’ گھریلو ملازمین کے حقوق کے تحفظ کے لیے فی الوقت کوئی جامع قانون موجود نہیں ہے۔‘‘

فرشاد اقبال نے کہا:’’ اس وقت ضرورت اس اَمر کی ہے کہ بچوں کے تحفظ کے لیے فوری طورپرخصوصی یونٹ یا بیورو قائم کیے جانے چاہئیں تاکہ تشدداور نامناسب رویوں کا سامنا کرنے والے بچوں کو تحفظ فراہم کیا جاسکے۔‘‘

رخسانہ کی والدہ شمیم کہتی ہیں کہ2016ء میں رخسانہ کو لاہور کے ایک خاندان میں ملازمت مل گئی لیکن آجر عرفان اور اس کی بیوی رخسانہ کو چار چار گھنٹے تک کھڑا رکھتے۔

شمیم نے نیوز لینز سے بات کرتے ہوئے کہا:’’ عرفان کے خلاف ایف آئی آر درج کروائی گئی، وہ گرفتار ہوگیا لیکن جلد ہی اسے ضمانت مل گئی۔‘‘

پنجاب کی صوبائی حکومت نے محروم اور نظرانداز ہوجانے والے بچوں کی بحالی اور انہیں تعلیم و تربیت کی فراہمی کے لیے چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو قائم کیا ہے۔

چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو کے کوارڈینیٹر وسیم عباس کہتے ہیں کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران گھریلو ملازمین پر تشدد کے 65معاملات سامنے آئے ہیں جن میں سے صرف 27کی ہی ایف آئی آر درج ہوئی ہے۔

انہوں نے نیوز لینز پاکستان سے بات کرتے ہوئے کہا:’’اب تک کسی بھی معاملے میں ملزموں کے خلاف کارروائی نہیں ہوئی جس کی وجہ یہ ہے کہ گھریلو ملازمین کے تحفظ کے حوالے سے کوئی قانون موجود نہیں ہے۔‘‘

وسیم عباس کہتے ہیں:’’ پاکستان محنت کش بچوں کی حالتِ زار بہتر بنانے کے لیے لازمی طورپر آئی ایل او سی 189کی توثیق کرے اور ریاست گھریلو ملازمین کی رجسٹریشن اور ان کو لیبر فورس سروے میں شامل کرنے کے لیے اقدامات کرے۔‘‘

آئی ایل او سی 189گھریلو ملازمین کے حوالے سے عالمی کنونشن ہے جس میں گھریلو ملازمین کی ملازمت کے حوالے سے معیارات متعین کیے گئے ہیں۔

افتخار مبارک بچوں کے حقوق کے لیے کام کرتے ہیں جوایک غیر سرکاری تنظیم ’سپارک‘ کے ساتھ منسلک رہ چکے ہیں، وہ کہتے ہیں:’’ قوانین کے نہ ہونے سے یہ ظاہر ہوجاتا ہے کہ ملک میں اعداد و شمار کو جمع کرنے کا کوئی نظام موجود نہیں ہے۔‘‘

محنت کشوں کے مقدمات پر کام کرنے والے قانون دان ساحل احمد کہتے ہیں:’’کچھ قوانین موجود تو ہیں لیکن ان کا گھریلو ملازمین پر براہِ راست اطلاق نہیں ہوتا۔‘‘

انہوں نے اس حوالے سے محروم اور نظرانداز ہونے والے بچوں کے حوالے سے 2004ء میں منظور ہونے والے ایک ایکٹ کا حوالہ بھی دیا۔

انہوں نے مزید کہا:’’ گھریلو ملازمین کے ساتھ ناروا سلوک پر کم از کم سزا 10برس ہونی چاہئے اور اسے ایک ناقابلِ ضمانت جرم تصور کیا جانا چاہئے۔‘‘

انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن 2014ء کی سالانہ رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں محنت کش بچوں کی تعداد کے حوالے سے پاکستان تیسرے نمبر پر ہے۔

محمد ممتاز کہتے ہیں:’’اس وقت ضرورت اس اِمر کی ہے کہ گھریلو ملازمین کے حوالے سے جامع پالیسی تشکیل دی جائے کیوں کہ صرف قانون سازی کردینے سے کوئی مقصد حاصل نہیں ہوگا، اگرگھریلو ملازمین کے لیے موجودہ حالات بہتر بنانے ہیں تو عوامی رویوں میں بڑے پیمانے پر تبدیلی لانے کی ضرورت ہے اورگھریلو ملازمین بھی لازمی طورپر اپنے حقوق سے آگاہ ہوں۔‘‘

Leave a Reply