خواتین میں ہسٹیریا کا مرض بڑھنے لگا

0
5593
: Photo By News Lens Pakistan /

لاہور (دردانہ نجم سے) پاکستان میں نفسیاتی عارضے ہسٹیریا کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے جو کنورژن ڈس آرڈر بھی کہلاتا ہے، اس عارضے کا شکار ہونے والی مریضوں کو اپنی خواہشات کے اظہار میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور وہ خوشیوں کے حصول کے لیے دوسروں کے رحم و کرم پر ہوتی ہیں۔ یہ ڈس آرڈر غشی کے دوروں، جارحانہ پن یا اگر مریض بہت زیادہ متاثر ہوجائے تو فالج کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ طبی ماہرین کہتے ہیں کہ ترقی یافتہ ممالک اس غیر فطری رویے پر خواتین کی آزادی اور جنسی شناخت کے حوالے سے پابندیوں پر مبنی رویوں کو ختم کرکے قابو پاچکے ہیں۔
24برس کی عائشہ کو لاہور کے سر گنگا رام ہسپتال لایا گیا تو اس کا جسم جھٹکے کھا رہا تھا اور اس کے ہاتھوں اور پیروں کی حرکت میں توازن نہیں تھا۔ اس کی بیماری کا کچھ پتہ نہیں چل رہا تھا جس کے باعث یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ وہ اپنے کچل دیے گئے احساسات کا ان جھٹکوں کے ذریعے اظہار کر رہی ہے۔ مزید علاج کرنے پر یہ منکشف ہوا کہ عائشہ کے والد، جو ناخواندہ ہیں، کا اس کے ساتھ رویہ شروع سے ہی ناروا رہا ہے۔ اس کی والدہ سرد مزاج کی حامل ایک بے حس خاتون ہیں۔ انہوں نے عائشہ کی بے بسی سے لاتعلق رہ کر اس کے مسائل کو بڑھاوا دیا۔ اس کے ناخواندہ اور مشکلات کا شکار والد ہمیشہ اپنے بچوں پر غصہ اتارتے جس کے باعث عائشہ کے دو بہن بھائی نامعلوم بیماریوں کا شکار ہوکر چل بسے جن کی موت کے اسباب میں شدید ذہنی اذیت کی علامات نمایاں تھیں۔عائشہ کے والد نے اس پر تشدد کا سلسلہ اس وقت روکا جب اسے غشی کے دورے پڑنے لگے۔ اس کو پہلا دورہ اس وقت پڑا جب وہ 10برس کی تھی اور سو رہی تھی۔
وین شنگ سینگ اپنی کتاب”Handbook of Cultural Psychiatry” میں لکھتے ہیں کہ ہسٹیریا سے متاثرہ بیش تر مریضوں کی تعداد ان معاشروں میں زیادہ رپورٹ ہوتی ہے جہاں پابندیوں پر مبنی سماجی معاشرہ قائم ہے جس کے باعث لوگ ایک دوسرے سے براہِ راست اپنے احساسات و جذبات کا اظہار نہیں کرپاتے۔ ترقی یافتہ معاشروں میں ’’ نفسیاتی روشن خیالی‘ اور جذباتی اظہار میں حائل رکاوٹوں کو کم کیے جانے کے باعث اس عارضے کے شکار مریضوں کی تعداد نمایاں طور پر کم ہوئی ہے۔
سرگنگا رام ہسپتال میں کلینیکل نفسیات کی ماہر میراۃ بٹ نے نیوز لینز پاکستان سے بات کرتے ہوئے کہا:’’ تنازعات کو حل کرنے میں ناکامی اس عارضے کے علاج میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ خواتین کسی بھی مسئلے کو اس کی نوعیت جانے بغیر برداشت کرتی رہتی ہیں جس کے باعث ان کے جسم پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں اورشوہروں، بہن بھائیوں یا والدین کے ساتھ تعلقات قائم کرنے میں دشواری پیش آتی ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا:’’ہم جب یہ کہتے ہیں کہ مغربی معاشروں نے کامیابی سے ہسٹیریا کے مرض پر قابو پالیا ہے تو اس سے درحقیقت ہم ان کی تنازعات کو حل کرنے کی اہلیت کی جانب اشارہ کر رہے ہوتے ہیں۔ ہم اپنے معاشرے میں میز پر بیٹھ کر مسائل کو حل کرنے کا کلچر تشکیل نہیں دے پائے۔ ایک روایتی گھر میں باپ اور بھائی اپنی بیٹیوں اور بہنوں کو گھروں یا پھر مذہبی حدود میں مقید رکھنا چاہتے ہیں۔‘‘
میراۃ کا مزیدکہنا تھا:’’ ہم لڑائی جھگڑوں کے لیے تو فوری طور پر تیار ہوجاتے ہیں، ہتھیار تک نکال لیتے ہیں اورجب حالات قابو سے باہر ہوجاتے ہیں تو مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرتے ہیں۔‘‘
تاہم میراۃ نے خبردار کیا کہ مسائل کے بارے میں بات کرنا مرض کے حل کی جانب صرف ایک پیش رفت ہے۔ اس عارضے کا علاج تنازعات کے حل میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسائل کا ادراک ہونا بیماری کے علاج سے مختلف ہے۔
عالمی ادارۂ صحت کی درجہ بندی کے حوالے سے ہینڈ بک ICD-10کے مطابق جنوری سے نومبر 2014ء کے دوران پشاور کے لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے شعبۂ نفسیات میں داخل ہونے والی خواتین مریضوں میں یہ دوسری (ڈپریشن کے بعد) سب سے عام بیماری تھی۔ اس کے ساتھ ہی یہ اَمر بھی حیران کن ہے کہ آغا خان ریسرچ فائونڈیشن کراچی اپنے نسبتاً روشن خیال تاثر کی وجہ سے ہسٹیریا کے مریضوں کی تعداد انتہائی کم بتائی ہے ۔
 لاہور کے جنرل ہسپتال میں شعبۂ نفسیات کے سربراہ ڈاکٹر الطاف قادر خان نے نیوز لینز پاکستان سے بات کرتے ہوئے نیوز اور انٹرٹینمنٹ چینلوں پر چلنے والی خبروں اور پروگراموں کے لوگوں کی زندگیوں پر منفی اثرات پر تشویش کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ بریکنگ نیوز کے رجحان کے باعث بہت سے لوگ ذہنی تنائو کا شکار ہوچکے ہیں۔ انہوں نے خبروں کو پیش کرنے کے طریقۂ کار کی مذمت بھی کی۔ انہوں نے آرمی پبلک سکول میں ہونے والے قتلِ عام اور ٹی وی پر اسے پیش کیے جانے کے طریقۂ کار کو یاد کیا اور کہا:’’ ان دنوں میرے پاس ذہنی تنائو کے لاتعداد مریض علاج کے لیے آئے جس کی وجہ اس دردناک حادثے کی ٹی وی پر غیر معمولی کوریج تھی۔‘‘
ڈاکٹر الطاف خان نے مزید کہا کہ وہ ایسے خاندانوں کو جانتے ہیں جنہوں نے ٹی وی پر دکھائے جانے والی پرتعیش اور مسابقتی طرزِزندگی سے متاثر ہوکر ایک دوسرے سے اپنے راستے جدا کرلیے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ معاشی مشکلات کا شکار لوگ جدید طرزِ زندگی کے باعث پیدا ہونے والے چیلنجوں کے مطابق خود کو ڈھالنے کے لیے ایک سے زائد ملازمتیں کر رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا:’’ جب لوگ مقابلے کی دوڑ میں پیچھے رہ جاتے ہیں، چیلنجوں کا مقابلہ نہیں کرپاتے یا حالات کے ساتھ سمجھوتہ کرلیتے ہیں تو وہ خود کو بے یارومددگار محسوس کرتے ہیں اور یوں وہ بالآخر تشویش اور ہسٹیریا کے امراض کا شکار ہوجاتے ہیں۔‘‘
اگر ڈاکٹر الطاف خان اس اَمر پر مسرور ہیں کہ اب لوگوں کی ایک بڑی تعداد اپنی نفسیاتی بیماریوں کا علاج کروانے کے لیے ہسپتالوں کا رُخ کر رہی ہے تو انہوں نے سرکاری ہسپتالوں میں غیر معیاری سہولیات کی فراہمی پر عدم اطمینان کا اظہاربھی کیا۔ ہسٹیریا کا مرض چوں کہ غیر تعلیم یافتہ اور معاشی طور پر تنگدست خاندانوں میں زیادہ ہے جس کے باعث تمام سرکاری و ٹیچنگ ہسپتالوں میں نفسیاتی علاج کے لیے شعبے قائم کرنے کی فوری ضرورت ہے۔
ڈاکٹر الطاف خان نے مزید کہا:’’ جنرل ہسپتال کے شعبۂ نفسیات میں طبی و دیگر سہولیات تونہ ہونے کے برابر ہیں ہی، عملے کی تعداد بھی ناکافی ہے۔کوئی ایسوسی ایٹ پروفیسر، سینئر رجسٹرار، کلینیکل ماہرینِ نفسیات اور سماجی کارکن نہیں ہیں۔ صرف ایک کلینیکل ماہرِ نفسیات ہے جو اکثر و بیش تر دن میں 30مریضوں کا معائنہ کرتے ہیں جو ایک بڑی تعداد ہے۔ مریضوں کی انفرادی کونسلنگ کے لیے کوئی کمرہ مخصوص نہیں ہے جب کہ ہسٹیریا یا دیگر نفسیاتی عارضوں کے علاج کے لیے پرائیویسی انتہائی ناگزیرہوتی ہے۔‘‘
عالمی ادارۂ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں ایک لاکھ مریضوں کے لیے صرف ایک ماہرِ نفسیات موجود ہے۔
اگرچہ جنرل ہسپتال کا قیام 1959ء میں عمل میں آیا لیکن شعبۂ نفسیات چار برس قبل قائم ہوا۔ڈاکٹر الطاف خان کے مطابق ایک ایسے ہسپتال میں، جو نیوروسرجری کے لیے قائم ہوا، طویل عرصہ تک شعبۂ نفسیات کے قائم نہ ہونے کے باعث متعلقہ حکام کی سنجیدگی پر سوالیہ نشان کھڑا ہوجاتا ہے۔
 جنرل ہسپتال لاہور سے منسلک ماہر نفسیات ڈاکٹر انیلہ جبین نے زور دیا کہ غیر ضروری ثقافتی اور سماجی رکاوٹوں کے باعث خواتین کو بڑے پیمانے پر مردوں کی جانب سے ہراساں کیا جاتا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا:’’اُن کا ایسی سینکڑوں لڑکیوں سے واسطہ پڑچکاہے جو اپنے گھروں سے بھاگ گئیں اور بعدازاں ان کو بے وفائی کا سامنا کرنا پڑا جس کے بعد ان کے خاندان کے مرد ارکان نے ان کے ساتھ مزید ناروا رویہ اختیار کیا۔ خواتین کا مذہب اور غیرت کے نام پراستحصال کیا جارہا ہے۔‘‘

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.