پشاور: رفعت اور جمیلہ اپنے افغان شوہروں سے خلع لینے کے لیے وکلا سے مشور ہ کرنے کی غرض سے پشاور ڈسٹرکٹ بار آئی ہیں۔ پشاور کی رہائشی ان دونوں سگی بہنوں کی شادی دو بھائیوں صدیق اکبر اور مجاہد اکبر سے 2010ء میں ہوئی تھی۔ پاکستانی حکومت نے جب افغان مہاجرین کے خلاف کریک ڈاؤن کا آغاز کیا تو دونوں بھائیوں نے گزشتہ برس مئی میں اپنے آبائی ملک جانے کا فیصلہ کیا۔ دونوں جوڑوں کے تین تین بچے ہیں اور ان کے شوہر اپنے بچوں کو اپنے ساتھ افغانستان لے جانا چاہتے ہیں۔

تاہم دونوں بہنیں پاکستان چھوڑنے پر تیار نہیں ہیں اور نہ ہی اپنے بچوں کو افغانستان جانے دینا چاہتی ہیں۔

رفعت نے نیوز لینز پاکستان سے بات کرتے ہوئے کہا:’’ہم اپنا ملک چھوڑ کر جانے کے لیے تیار نہیں ہیں اور نہ ہی اپنے بچوں کو اجنبی ملک بھیجنا چاہتی ہیں۔‘‘ انہوں نے سیاہ برقعہ اوڑھ رکھا تھا۔

انہوں نے مزید کہا:’’ہم اپنے شوہروں سے خلع لے لیں گی لیکن افغانستان نہیں جائیں گی۔‘‘

دونوں بہنیں غریب ہیں اور وکلا کے اخراجات ادا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتیں۔

رفعت نے کہا:’’ایک رشتہ دار نے ہمیں آگاہ کیا کہ ہم خلع کے بارے میں وکلاء سے مشورہ کرنے کے لیے پشاور ڈسٹرکٹ بار کے فری انفارمیشن ڈیسک سے رابطہ قائم کریں۔‘‘

فری انفارمیشن ڈیسک غیر سرکاری تنظیم بلیو وائنز اور پشاور ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن نے ملکر قائم کیا ہے جس کا بنیادی مقصد غریب خواتین کو بلامعاوضہ قانونی معلومات اور وسائل فراہم کر کے انصاف کے حصول میں مدد فراہم کرنا ہے۔

پشاور ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن سے منسلک خوشنود ذاکراللہ بیگم نے نیوز لینز پاکستان سے بات کرتے ہوئے کہا:’’ہم نے یہ منصوبہ اس لیے شروع کیا ہے تا کہ صنفی بنیادوں پر تشدد اور تعصب کا شکار ہونے والی خواتین کو موزوں قانونی تحفظ فراہم کیا جا سکے، جن میں گھریلو تشدد، جنسی حملوں اور انسانی سمگلنگ کا نشانہ بننے والی خواتین بھی شامل ہیں۔‘‘

خوشنود ذاکراللہ بیگم ان خواتین کی مدد کرتی ہیں جو فری انفارمیشن ڈیسک سے انصاف کے حصول میں مدد کے لیے ان سے رجوع کرتی ہیں۔

پاکستان میں خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی چند نمایاں ترین غیر سرکاری تنظیموں میں سے ایک عورت فاؤنڈیشن کی جانب سے 2014ء میں جاری کی جانے والی ایک رپورٹ کے مطابق، 2014ء میں ملک بھر میں خواتین کے خلاف تشدد کے 10,070 مقدمات رپورٹ ہوئے۔

عورت فاؤنڈیشن کی رپورٹ کے مطابق عورتوں کے خلاف تشدد میں گزشتہ برس کی نسبت 28.2 فی صد اضافہ ہوا ہے۔ مقدمات کی ایک بڑی تعداد پنجاب میں رپورٹ ہوئی جو پاکستان کا آبادی کے اعتبار سے سب سے بڑا صوبہ ہے جہاں رجسٹر ہونے والے مقدمات کی مجموعی تعداد قریباً 75 فی صد ہے۔ سندھ میں یہ شرح 14.27 فی صد رہی جو اس فہرست میں دوسرے نمبر پہ آتا ہے۔ خیبرپختونخوا میں ایسے 736 مقدمات درج ہوئے۔ بلوچستان، اسلام آباد اور فاٹا میں درج ہونے والے ایسے واقعات کی تعداد بالترتیب 190، 140 اور پانچ ہے۔

رفعت اور جمیلہ کو اپنے شوہروں کے ساتھ ان کے بچوں کو افغانستان لے جانے کے حوالے سے چل رہے تنازع کے حل کے لیے قانونی مشورہ درکار ہے۔

جمیلہ نے نیوز لینز سے بات کرتے ہوئے کہا:’’وکلا نے ہم سے کہا ہے کہ وہ اس معاملے کو حل کرنے کے لیے ہمارے شوہروں کو بلائیں گے۔‘‘

فری انفارمیشن ڈیسک خواتین کو قانونی معلومات ہی فراہم نہیں کرتا بلکہ وہ وکلا کی خدمات حاصل کرنے میں بھی ان خواتین کی مدد کرتا ہے۔

خوشنود ذاکراللہ نے کہا:’’سب سے پہلے تو ہم مقدمات کی نوعیت کے بارے میں آگاہی حاصل کرتے ہیں جس کے بعد ہم غریب خواتین کا مسئلہ حل کرنے کے حوالے سے ان کی رہنمائی کرتے ہیں۔‘‘

انہوں نے کہا کہ گزشتہ 10 ماہ کے دوران انہوں نے ضلع پشاور کی 60 خواتین کی مدد کی ہے اور ان کے مقدمات ایسے وکلا کو دیے ہیں جو ان خواتین کے لیے بلامعاوضہ یہ مقدمات لڑ رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس منصوبے کے تحت پشاور ڈسٹرکٹ بار کے 30 ارکان، جن میں 20 خواتین بھی مشتمل ہیں، کی یہ تربیت کی گئی ہے کہ وہ ساتھی وکلا کو یہ آگاہی دیں کہ وہ صنفی تعصب نہ برتیں اور ان کی ان خواتین کے مقدمات بلامعاوضہ لڑنے کے حوالے سے بھی حوصلہ افزائی کریں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ قانونی ماہرین کا ڈیٹابیس تیار کرنے کے لیے بھی کام کر رہے ہیں۔

خوشنود ذاکراللہ نے کہا کہ مقدمات کی اکثریت گھریلو تشدد یا شوہروں سے خلع لینے کے معاملات پر مشتمل ہے۔

بلیو وائنز سے منسلک پراجیکٹ منیجر طاہرہ کلیم نے نیوز لینز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی تنظیم نے ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن میں جنسی طور پر ہراساں کئے جانے کے واقعات کی تفتیش کے لیے انکوائری کمیٹی بھی قائم کی تھی۔ چھ برس قبل جنسی طور پر ہراساں کئے جانے کی روک تھام کے لیے قانون کے نفاذ کے بعد ضلعی عدالتوں میں یہ اس نوعیت کا ایسا پہلا منصوبہ تھا۔

تاہم بار کے کچھ وکلا اس منصوبے کے تحت کئے جا رہے کام پر تنقید کرتے ہیں، اور یہ کہتے ہیں کہ اس منصوبے کے تحت خواتین کی اپنے شوہروں سے خلع لینے کے لیے ان کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے اوران کو مفاہمت کی راہ دکھانے کے بجائے ان کی زندگیاں تباہ کی جا رہی ہیں۔

پشاور ڈسٹرکٹ بار کی رُکن ایک خاتون وکیل نے نیوز لینز سے، نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست پر بات کرتے ہوئے کہا:’’میں غیرسرکاری تنظیموں کے کام سے اتفاق نہیں کرتی کیوں کہ وہ خواتین کی خلع لینے کے حوالے سے حوصلہ افزائی کرتی ہیں اور جوڑوں میں ہونے جا رہی مفاہمت کی راہ میں روڑے اٹکاتی ہیں، تاکہ غیر ملکی ڈونرز سے فنڈز حاصل کر پائیں۔‘‘
انہوں نے کہا:’’جوڑوں کو علیحدگی اور خلع کا فیصلہ کرنے سے قبل سمجھوتہ اور مفاہمت کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن غیرسرکاری تنظیمیں خواتین کے حقوق کے نام پر ان کو موخرالذکر آپشن کے انتخاب پر اُکساتی ہیں۔‘‘

بلیو وائنز کے پروگرام کوارڈینیٹر قمر نسیم کہتے ہیں کہ خواتین کے خلاف تشدد پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی بدترین صورتوں میں سے ایک ہے۔

انہوں نے نیوز لینز سے بات کرتے ہوئے مزید کہا:’’خواتین کے حوالے سے روا رکھا جانے والا متعصبانہ رویہ نہ صرف سماجی، سیاسی، معاشی اور ثقافتی شعبوں میں ان کے آگے بڑھنے کی راہ میں حائل ہوتا ہے بلکہ خواتین کو اعتماد سے بھی محروم کر دیتا ہے۔‘‘

انہوں نے مزید  کہا کہ دنیا کے کسی بھی ملک کی طرح پاکستان میں بھی خواتین کی انصاف کے نظام تک محدود رسائی صرف متروک ہو چکے قوانین اور عدلیہ کی لاپروائی کا نتیجہ ہی نہیں ہے۔

قمرنسیم نے مزید کہا:’’اس کی وجہ بہت سی سماجی، ثقافتی، ساختیاتی اور قانونی پیچیدگیاں ہیں جنہیں عدالتی نظام اور اس کے نگرانوں کے بارے میں گہرائی سے تجزیہ کر کے ہی سمجھا اور حل کیا جا سکتا ہے۔‘‘

Leave a Reply