5.3بلین پنجاب میں پڑھے لکھے نوجوان بے روزگاری کی وجہ سے مایوس گھوم رہے ہیں۔ پنجاب حکومت نے گزشتہ کچھ ماہ سے محکمہ تعلیم میں خالی آسامیوں پر بھرتی کے لیے کئی بارکینسل کردی گئیں۔ جس کی وجہ سے نوجوانوں میں شدید غم وغصہ پایا جاتا ہے اور ستم ظریفی یہ بھی ہے کہ جو مختلف محکموں میں ڈیلی ویجز پر کام کررہے تھے ان کو بھی کام سے نکال دیا گیا ہے ۔ اسی حوالے سےبات کرتے ہوئے اعلیٰ تعلیم یافتہ لڑکے اور لڑکیاں ملتی ہیں جو کہ بے روزگار ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم لوگ شدید پریشان ہیں کہ ہمارے والدین نے ہم پر لاکھوں روپے خرچ کرکے ہمیں تعلیم یافتہ بنایا لیکن ہمیں روزگار میسر نہیں ہے جبکہ حکومت کو نوکریاں دینا فرض ہے ۔ شازیہ الطاف کا کہنا ہے کہ میں نے ایم اے انگلش کی تعلیم حاصل کی ہے لیکن پرائیوٹ سکول میں ہمیں زیادہ سے زیادہ 6ہزارروپے دیئے جاتے ہیں جو کہ آج کے اس مہنگائی کے رور میں کم ہیں اور میری تعلیم کے ساتھ بھی ممثالت نہیں کرتے ۔ روبینہ اشرف کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کی گورنمنٹ کھوکھلے وعدوں کے سوا اور کچھ نہیں کررہی ، افراءنوشین کہتی ہیں کہ ہم امید کرتے ہیں کہ حکومت وقت جلد محکمہ تعلیم کی سیٹوں کا اعلان کرے گی ۔ مسر ت ذوالفقار کا کہنا ہے کہ غربت کے ہاتھوں تنگ کو کیا پتا کہ حکومت کیا کررہی ہے ہمیں تو صرف روزگار فراہم کرے۔ راﺅ آصف، ذوالقرنین کا کہنا ہے کہ ایم فل کرنے کے بعد بھی بے روزگار ہونے کی وجہ سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کوئی ریڑھی یا رکشہ چلا لیتے تو آج گھریلو اخراجات تو برداشت کرسکتے ۔ عبد الرحمن خلجی کا کہنا ہے کہ اعلیٰ تعلیم کے ساتھ ساتھ ٹیکنکل تعلیم کو حاصل کرنے والے بے روزگار ہیں۔حکومت کوئی پالیسی واضع کرے جس سے لوگوں میں تعلیم حاصل کرنے کا ذوق بھی بڑھے اور روزگار بھی مہیا ہو۔ غلام مصطفی کا کہنا ہے کہ حکومت انتہائی ناکام ہوچکی ہے ۔ ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ عوام کے اوپر رحم کرے ۔ علی رضا کا کہنا ہے کہ بورڈ میں پوزیشن لینے والے بھی پریشان ہے سرکاری طور پر عمر کی جو رکھی گئی ہے اسی تناسب سے ملازمت بھی نکالی جائیں نہیں تو عمر پوری ہونے کے بعد ملازمت نہ ملنے کی وجہ سے ہم کیا کریں گے ، طاہر شفیق کا کہنا ہے کہ ڈگریوں کو ہاتھوں میں لیے جگہ جگہ پھر رہے ہیں کوئی ادارہ جاب دینے کے لیے تیار نہیں ہے ۔ شمشیر نذیرکا کہنا ہے کہ شفارش اور رشوت کا بول بالا ہے ۔سی ای او ملتان شمشیر خان کا کہنا ہے کہ ہم نے خالی آسامیوں کو دیکھ کر ان کی تفصیلات بنائی ہوئی ہیں گزشتہ چھ ماہ سے پنجاب گورنمنٹ نے خالی آسامیوں پر بین لگایا ہوا ہے جیسے ہی وہ بین ختم ہوتا ہے خالی سیٹوں پر اشتہار شائع کردیں گے ۔ یہ تمام مراحل جلد مکمل کرلیں ۔ بین ہٹانا ہمارے اختیار سے باہر ہے ۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی ڈپٹی جنرل سیکرٹری اور ایم این اے خان ابراہیم خان کا کہنا ہے کہ پنجاب گورنمنٹ نے تمام حکمت عملی کو واضع کردیا ہے جلد ہی خالی آسامیوں پر تعیناتی کا اعلان کیا جائے گا۔ ابھی تک اعلان نہ کرنے کی وجہ ملک کی مالی مشکلات سے نکالنے کا حل تلاش کرنا تھا۔ اگر ملکی خزانے پر مزید بوجھ بڑھ گیا تو ہمارے لیے اور پریشانیاں بڑھ جائیں گی۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.