اسلام آباد: اسلام آباد کی جامعات کی اکثریت میں جنسی ہراسگی کو روکنے کے لیے کوئی مؤثر میکانزم موجود نہیں ہے۔

جنسی ہراسگی سے تحفظ فراہم کرنے کے حوالے سے موجود قانون کے بارے میں طالبات کی اکثریت کو کچھ معلوم نہیں جس کے باعث ان کے لیے اس نوعیت کے جرائم سے بچنا مشکل ہوگیا ہے۔

فیڈرل اردو یونیورسٹی آف آرٹس، سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اسلام آبادمیں زیرِتعلیم انجینئرنگ کی طالبہ مریم علی نے نیوز لینز سے بات کرتے ہوئے کہا: ’’ہم اس نوعیت کے واقعات کو نظرانداز کرنا ہی بہتر خیال کرتے ہیں۔ دوسری صورت میں اگر ہم اس معاملے کو حکام تک لے کر جائیں تو ہمیں اس کے منفی نتائج بھگتنا پڑتے ہیں۔‘‘

انہوں نے مزید کہا:’’اگر ہم اس معاملے کی شکایت کرتے ہیں تو ناکامی ہمارا مقدر ٹھہرتی ہے اور اس صورت میں ہم اپنے استاد اور حتیٰ کہ ان کے دوستوں کا ہدف بن جائیں گے۔‘‘

مریم علی کا معاملہ تعلیمی اداروں میں جنسی ہراسگی کے اس نوعیت کے واقعات کی ایک بدنما تصویر پیش کرتاہے۔

جامعات میں جنسی ہراسگی کے واقعات کو روکنے کے لیے کوئی کمیٹیاں قائم نہیں کی گئیں۔ ایسا کوئی قانون موجود نہیں ہے جس کے تحت متاثرہ افراد کو تحفظ فراہم کیا جاسکے یا ملزموں کوقانون کے کٹہرے میں لایا جاسکے۔

نیوز لینز نے یونیورسٹیوں کی ویب سائٹوں کا جائزہ لیا اور ان کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ سے معلومات حاصل کیں۔ نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے علاوہ اسلام آباد میں قائم دیگر درجن بھر سے زائد جامعات جنسی ہراسگی سے متعلق پالیسیوں یا سزاؤں کے بارے میں سرے سے ہی کوئی واضح آگاہی نہیں رکھتیں۔

کام کی جگہوں پر خواتین کو ہراساں کیے جانے سے تحفظ کے ایکٹ 2010ء کے نفاذ کے بعد ہائر ایجوکیشن کمیشن پاکستان نے نہ صرف اس قانون کو اختیار کیا بلکہ اس حوالے سے ایک کتابچہ بھی مرتب کیا۔ مذکورہ ایکٹ کے تحت انکوائری کمیٹیاں قائم کرنے کی شرط عائد کی گئی ہے جن میں شامل ارکان میں سے ایک کا خاتون ہونا لازمی ہے۔

2014ء میں میڈیا نے یہ رپورٹ کیا کہ اسلام آباد کی نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگوئجز نے ایچ ای سی کی جانب سے مرتب کی گئی پالیسی کی اس وقت خلاف ورزی کی جب ہراسگی کی ایک شکایت کی تفتیش کے لیے تین رُکنی کمیٹی قائم کی گئی جس میں شامل تمام ارکان مرد تھے۔ مذکورہ کمیٹی میں بعدازاں اس وقت ایک خاتون شامل کرلی گئی جب ملزم نے کمیٹی کے روبرو پیش ہونے سے انکار کردیا۔ الزامات کی زد پر آنے والے پروفیسر کے خلاف صرف یہ کارروائی ہوئی کہ ان سے شعبہ کی سربراہی چھن گئی اور بعدازاں موصوف کو ایک دوسرے شعبے کا سربراہ تعینات کردیاگیا جب کہ حقیقت یہ ہے کہ جنسی ہراسگی کے اس معاملے کی تفتیش کے لیے قائم کی جانے والی کمیٹی نے یہ تجویز دی تھی کہ ان کو کوئی سپروائزی یا شعبہ کے سربراہ کا کردار نہ سونپا جائے۔

قائداعظم یونیورسٹی میں بھی جنسی ہراسگی کے منظرِعام پر آنے والے ایک معاملے کے بعدشعبۂ حیاتیاتی سائنس کے ایک استاد کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا جنہیں بعدازاں اس وقت کے صدر آصف علی زرداری نے بحال کردیا۔ یونیورسٹی کے افسرِ تعلقاتِ عامہ نے نیوزلینز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ صدر نے وزارتِ قانون وانصاف کے اس نوٹ کے ساتھ جواب دیا کہ’’ ہراسگی کا قانون طالب علموں پر لاگو نہیں ہوتا کیوں کہ وہ سرکاری ملازمین نہیں ہیں۔‘‘

قانون

یہ ایسا پہلا موقع تھا جب وزارتِ قانون و انصاف نے مذکورہ قانون میں اس قدر بڑی خامی کی نشاندہی کی جو ملک میں تشکیل پانے والے قانونی مسودات کا جائزہ لیتی ہے اور ان کی منظوری دیتی ہے۔ 27 فروری کو وزارتِ قانون و انصاف کے ایک سینئرافسر سجاد شاہ نے پارلیمانی کمیٹی برائے انسانی حقوق کے روبرو یہ اعتراف کیا کہ 2010ء میں منظور ہونے والے قانون کا اطلاق تعلیمی اداروں پر نہیں ہوتا جیسا کہ مذکورہ قانون ’’ سرکاری ملازمین کے طالبات کو ہراساں کرنے کے بجائے ملازمین کے ملازمین کو ہراساں کرنے کے معاملات کا احاطہ کرتاہے۔‘‘

یہ معاملہ رکنِ قومی اسمبلی آسیہ نصیر کی درخواست پر زیرِبحث آیا جو پارلیمان کی جانب سے 2010ء میں منظور ہونے والے اس بل میں ترمیم کی خواہاں ہیں تاکہ طالبات کو بھی ہراسگی کے خلاف تشکیل دیے گئے قانون کے دائرہ کار میں لایا جاسکے۔
سجاد شاہ کا بیان پارلیمانی کمیٹی کے تمام ارکان کے لیے پریشان کن تھا جس کے ارکان کی اکثریت خواتین پر مشتمل ہے جو پہلے ہی مجوزہ ترمیم کی حمایت کررہی ہیں۔

انہوں نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ قانون میں ترمیم کی کوئی ضرورت نہیں ہے جیسا کہ آئین کا آرٹیکل 509خواتین کے خلاف کسی بھی جگہ پر ہر طرح کی ہراسگی کے معاملات کا احاطہ کرتا ہے جس کے لیے کچھ سزائیں بھی متعین کی گئی ہیں۔
قائداعظم یونیورسٹی کے وائس چانسلر جاوید اشرف نے کہا کہ یونیورسٹی میں انضباطی کمیٹی قائم ہے جو طالب علموں یا ملازمین کی جانب سے شکایات موصول ہونے پر کارروائی کرتی ہے۔

انہوں نے نیوز لینز پاکستان سے بات کرتے ہوئے کہا:’’ ان دنوں طالب علم محتاط ہوچکے ہیں اور وہ ایسی سرگرمیوں کے بارے میں بہت زیادہ آگاہ ہیں اور یہ بھی کہ ان معاملات کے حوالے سے کس طرح اور کہاں رپورٹ درج کروائی جائے۔‘‘

یونیورسٹی کے وائس چانسلر جاوید اشرف نے مزید کہا:’’ یونیورسٹی نے گزشتہ برس کے دوران کوئی شکایت موصول نہیں کی جس سے اس حقیقت کی عکاسی ہوتی ہے کہ ہم سخت انضباطی اقدامات کرتے ہیں۔‘‘

بہت سی طالبات سے جب یہ استفسار کیا گیا کہ کیا وہ ایسے کسی ادارے یا کمیٹی کے بارے میں جانتی ہیں جہاں وہ ایسے واقعات کی رپورٹ درج کرواپائیں توان کی اکثریت نے اس حوالے سے لاعلمی کا اظہار کیا۔

شعبۂ حیاتیاتی سائنس کی ایک طالبہ نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا:’’ ہم نے جنسی ہراسگی کے بارے میں اب تک کسی کمیٹی کے بارے میں کچھ نہیں سنا کیوں کہ اس بارے میں پراسپیکٹس میں کوئی معلومات نہیں دی گئیں اور نہ ہی مختلف شعبہ جات میں اس حوالے سے کوئی آگاہی فراہم کی گئی ہے۔‘‘

قائداعظم یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر معصوم یٰسین زئی اب انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد کے ریکٹر ہیں۔

وہ انسدادِ ہراسگی کمیٹی اور کیمپس میں اس حوالے سے آگاہی نہ ہونے کے حوالے سے کوئی جواز فراہم نہیں کرسکے۔

انہوں نے نیوز لینز پاکستان سے بات کرتے ہوئے کہا:’’ یونیورسٹی میں نظم و ضبط پر عملدرآمد کروانے کی ذمہ دار بااختیار کمیٹیاں قائم ہیں جو ایسے معاملات کے ساتھ سختی کے ساتھ پیش آتی ہیں اور معاملے کی گہرائی تک جانے اور ملزموں کو پکڑنے کے حوالے سے کوئی کسر نہیں چھوڑتیں۔‘‘

ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی میڈیا ڈائریکٹر عائشہ اکرام نے کہا کہ کام کی جگہوں پر خواتین کو جنسی تشدد سے تحفظ فراہم کرنے کے ایکٹ2010ء کے لاگو ہوجانے کے بعد ایچ ای سی کواب ایسی شکایات بھیجنے کی ضرورت ختم ہوگئی ہے۔

انہوں نے نیوز لینز پاکستان سے بات کرتے ہوئے کہا:’’گزشتہ 12ماہ کے دوران ایچ ای سی میں ہراسگی کی صرف ایک شکایت درج کروائی گئی ہے۔‘‘

اس معاملے کی نشاندہی بھی کام کی جگہوں پر جنسی ہراسگی کے حوالے سے شکایات پر کارروائی کی ذمہ دار وفاقی محتسب نے کی۔
کامسیٹس یونیورسٹی کے ریکٹر نے نیوز لینز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کامسیٹس انسٹی ٹیوٹ آف انفارمیشن ٹیکنالوجی میں شعبہ آرکیٹیکچر کی چار طالبات نے ایک استاد پر نہ صرف ہراساں کرنے بلکہ ان پر جسمانی تشدد کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔ یہ معاملہ اب بھی کمیٹی میں زیرِسماعت ہے۔

کامسیٹس کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر جنید زید نے نیوز لینز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ طالبات کی شکایات پر تفتیش کے حوالے سے تمام تر اقدامات کیے جارہے ہیں۔

نیشنل کمیشن آن سٹیٹس آف وومن کی سربراہ خاور ممتاز نے نیوز لینز سے بات کرتے ہوئے کہا:’’ جنسی ہراسگی کے قانون کے حوالے سے موجود تذبذب کے بعد یقین کے ساتھ یہ کہا جاسکتا ہے کہ ہر فریق کی جانب سے ظاہر کی جانے والی سردمہری ایک جرم اور غیرانسانی طرزِ عمل ہے، خاص طورپر جب ایسے معاملات میں طالبات شامل ہیں۔‘‘

انہوں نے کہا کہ کمیشن کے دفتر میں اس نوعیت کے معاملات کا جائزہ لینے کے لیے خصوصی ڈیسک قائم کیا جائے گا۔

رُکن قومی اسمبلی آسیہ نصیر نے کہا:’’ میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ اگر حالات اسی طرح خراب رہتے ہیں تو تعلیمی اداروں میں کون ہماری بیٹیوں کو تحفظ فراہم کرے گا اور ان کو یہ نصیحت کرے گا کہ کس طرح ایسے واقعات سے پیش آیا جائے۔‘‘

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.