پشاور (شیراز اکبر سے) ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ یہ قبریں زندہ انسانوں کے لیے ہیں، وہ لوگ جن کی ابھی وفات نہیں ہوئی ہے۔ الجزیرہ کی ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ لوگ قہر برساتے سورج میں قبرستان میں قبریں کھود رہے ہیں تاکہ گرمی کی لہر کے دوران ہنگامی صورتِ حال میں لاشوں کو دفنانے میں مشکلات پیش نہ آئیں کیوں کہ ماہرینِ موسمیات نے پیش گوئی کی ہے کہ 2016ء دنیا بھر میں گرم ترین سال ہوگا۔ گزشتہ برس شدید ترین گرمی کے باعث 13سو افراد ہلاک ہوگئے تھے جس کے باعث مردہ خانوں میں جگہ کم پڑگئی اور قبریں نہ ہونے کے باعث لاشیں خراب ہونے لگیں۔

گرمی کی شدید ترین لہر کے پیشِ نظر صوبے خود کو ان حالات کا سامنے کرنے کے لیے تیار کررہے ہیں جس نے گزشتہ برس اچانک ان کو اپنی گرفت میں لے لیا تھا۔ ملک بھر کی طرح خیبرپختونخوا میں بھی ایمرجنسی سروس کو فعال کیاجاچکا ہے تاکہ گرمی کی شدید لہر کے باعث ہونے والی ہلاکتوں پر قابو پایاجاسکے۔

ایمرجنسی ریسکیو سروس 1122کے ترجمان بلال فیضی نے پشاور ہیڈکوارٹرز میں بات کرتے ہوئے کہا:’’ ہم پشاور اور مردان میں اپنے سنٹرز کو ایمرجنسی کٹس اور دیگر سامان فراہم کرچکے ہیں تاکہ وہ شدید گرمی کے باعث پیدا ہونے والی ہنگامی صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے تیار رہیں۔‘‘

ڈائریکٹر جنرل ریسکیو ایمرجنسی سروس 1122اسد علی خان کے مطابق رمضان کی آمد اور پاکستان کے محکمۂ موسمیات کی آنے والے ہفتوں میں گرم اور حبس آلود موسم کی پیش گوئی کے باعث ریسکیو سروس نے ہیٹ سٹروک سے متاثر ہونے والے لوگوں کی سہولت کے لیے خصوصی یونٹ قائم کیے ہیں۔

امریکی ادارے نیشنل ایروناٹکس اینڈ سپیس ایڈمنسٹر یشن (ناسا) ، جو موسمی تغیرات کا جائزہ لیتا ہے، نے کہا ہے کہ اب تک کے ریکارڈ کے مطابق اپریل گرم ترین مہینہ تھاجس کے باعث 2016ء گرم ترین سال ہوگا اور درجۂ حرارت میں غیرمعمولی اضافہ ہوگا۔ اپریل میں زمینی اور سمندری درجۂ حرارت 1951ء سے 1980ء کے دوران رہنے والے اوسط درجۂ حرارت، ناسا موسم کے مطالعہ کے لیے اسے ایک معیاری حوالے کے طور پر استعمال کرتا ہے، سے1.11 سنٹی گریڈ زیادہ تھا۔

پاکستان میں رواں برس گرمی کی لہر نے ملک میں سب سے زیادہ درجۂ حرارت کا اپنا ہی ریکارڈ توڑا ہے۔ 2010ء میں پاکستان میں 26مئی کو گرم ترین دن ریکارڈ کیا گیا جب ملک کے جنوبی صوبے سندھ کے شہر موہنجو داڑو میں پارہ حیرت انگیز طور پر 53.5سنٹی گریڈ (128.5فارن ہائیٹ) پر پہنچ گیا۔ ویدر انڈرگرائونڈ کے مطابق 128.3فارن ہائیٹ پاکستان میں ریکارڈ کیا جانے والا اب تک کا سب سے زیادہ درجۂ حرارت تھا۔ اور اگردرجۂ حرات کی بنیاد پر پیش گوئی کی جائے تو 2016ء میں صورتِ حال تشویش ناک ہے۔ یکم مئی 2016ء کو سندھ کے شہر لاڑکانہ میں میں 54سنٹی گریڈ (129فارن ہائیٹ) درجۂ حرارت ریکارڈ کیا گیا جو ایک نیا ریکارڈ ہے۔

اس حوالے سے اگرچہ کوئی اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں کہ پاکستان میں ہربرس گرمی کی لہر سے کتنی ہلاکتیں ہوتی ہیں لیکن میڈیا مستقل طور پر ایسی خبریں رپورٹ کرتا رہا ہے۔

ڈاکٹر طاہرہ مفتی، جو پشاور میں ایک نجی کلینک چلاتی ہیں، نے نیوز لینز پاکستان سے بات کرتے ہوئے کہا:’’ جسم کا درجۂ حرارت بڑھنے کے باعث ہیٹ سٹروک ہوتا ہے جس کی بڑی وجہ انتہائی بلند درجۂ حرارت میں رہنا یا جسمانی کام کرنا ہے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ اگر جسم کا درجۂ حرارت 104فارن ہائیٹ ( 40سنٹی گریڈ) تک پہنچ جائے تو ہیٹ سٹروک ہوسکتا ہے۔ ہیٹ سٹروک فوری طور پر دماغ، دل، گردوں اور پٹھوں کو متاثر کرتا ہے۔ اگر علاج نہ کروایا جائے تو نقصان بڑھ جاتا ہے اور موت بھی واقع ہوسکتی ہے۔

ڈاکٹر طاہرہ مفتی نے کہا کہ عوام ہیٹ سٹروک سے متاثرہ مریضوں کو ابتدائی طبی امداد کی فراہمی کے حوالے سے آگاہ نہیں ہیں۔ اس وجہ سے ہی ہر برس ایسے بہت سے مریض ہسپتال جاتے ہوئے دم توڑ جاتے ہیں جنہیں آسانی کے ساتھ ابتدائی طبی امداد فراہم کرکے بچایا جاسکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا:’’ ہیٹ سٹروک کی علامات میں تیز تیز سانس لینا، جی متلانا ، قے آنا، گرمی کے باوجود پسینہ نہ بہنا، دل کی دھڑکن کا بڑھ جانا، سردرد، سرچکرانا اورجلد کا زرد پڑجانا شامل ہیں۔‘‘

انہوں نے کہا کہ ہیٹ سٹروک کی وجوہات میں گرم یا حبس آلود ماحول میں رہنا، جسمانی سرگرمی انجام دینا، زیادہ کپڑے پہننا، پانی کی کمی ہونا اور الکوحل پینا، جس کے باعث جسم کی درجۂ حراست کو معمول پر لانے کی صلاحیت متاثر ہوسکتی ہے، شامل ہیں۔

ڈاکٹرز یہ تجویز کرتے ہیں کہ ہیٹ سٹروک سے متاثرہ مریضوں کو فوری طور پر ٹھنڈے مقام پر لے جایا جائے، چادر تر کرکے اوڑھائی جائے،ٹھنڈے پانی سے نہلایا جائے اور پانی پلایا جائے۔

ڈاکٹر طاہرہ مفتی نے کہا:’’ ہنگامی علاج کا انتظار کرتے ہوئے گرمی سے متاثرہ شخص کو فوری طور پر ابتدائی طبی امداد فراہم کی جائے۔ اختیاط علاج سے بہتر ہے۔ احتیاط کرکے ہیٹ سٹروک سے بچا جاسکتا ہے۔‘‘

موسمِ گرما میں رمضان آنے کے باعث ڈاکٹر طاہرہ مفتی یہ تجویز کرتی ہیں کہ لوگ سحر اور افطار کے وقت چکنے کھانوں سے پرہیز کریں، سحر، افطار اور افطار کے بعد زیادہ سے زیادہ پانی پیئیں ، ہلکے کپڑیں پہنیں اور سر کو ڈھانپ کر باہر جائیں۔ چائے، کافی اور ایسے مشروبات سے پرہیز کیا جائے جن میں کیفین شامل ہوتی ہے کیوں کہ یہ پیشاب آور ہوتے ہیں جس کے باعث جسم میں پانی کی کمی واقع ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ احتیاط کے علاوہ اس حوالے سے لوگوں میں آگاہی پیدا کرنے اور ہسپتالوں کو متعلقہ سہولیات فراہم کرنے کی ضرورت بھی ہے تاکہ انسانی جانوں کے ضیاع کو کم سے کم کیا جاسکے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here