سکردو: علی کچھ عرصہ قبل تک سکردو کے بلند و بالا پہاڑوں پر اپنے خاندان اور مویشیوں کے ساتھ قیام پذیر تھے۔ وہ اور ان کے مویشی سرسبز و شاداب وادیوں میں ایک مطمئن زندگی گزار رہے تھے، اُن کے مویشی چراگاہوں میں بلا روک ٹوک اپنی خوراک تلاش کیا کرتے۔ لیکن ان دنوں ہی قریبی گلیشیئر کا ایک بڑا ٹکڑا ان کے گاؤں پر آگرا جس سے نا صرف مقامی عوام کی زندگیوں بلکہ ان کی جائیداد کے لیے بھی خطرات پیدا ہو گئے۔

علی نے نیوز لینز پاکستان سے بات کرتے ہوئے کہا:’’ہم اپنی دھرتی چھوڑنے پر مجبور ہو گئے اور سکردو شہر اور دیگر محفوظ مقامات کی جانب منتقل ہو گئے۔‘‘

گلوبل وارمنگ کے باعث درجۂ حرارت میں آنے والی تبدیلی سے گلیشیئرز کے پگھلنے کے عمل کو مہمیز ملی ہے، ان وجوہ کے باعث بہت سے سنگین نوعیت کے خطرات ابھرے ہیں جن میں لینڈ سلائیڈنگ، زلزلے اور بڑھتے ہوئے درجۂ حرارت کے باعث گلیشیئرز کا اپنی جگہ سے سرکنا یا برفیلے تودوں کا زمین پر گرنا شامل ہے جو سرد اور پہاڑوں سے ڈھکے گلگت بلتستان میں ایک معمول بنتا جا رہا ہے جس کے باعث خطے میں پہاڑوں پر آباد مقامی آبادی کی زندگیوں اور گزر بسر کے لیے خطرات پیدا ہو گئے ہیں۔

اس نوعیت کے واقعات عموماً موسمِ بہار اور موسمِ گرما کے شروع میں وقوع پذیر ہوتے ہیں اور حال ہی میں ’’دنیا کے بلند ترین میدان جنگ‘‘ سیاچن میں ہونے والی لینڈ سلائیڈنگ کے باعث پاکستان کے 150 فوجی اہلکار ہلاک ہو گئے تھے۔ 2010ء میں گلگت بلتستان کی وادئ گوجال کے عطاآباد گاؤں میں ہونے والی لینڈ سلائیڈنگ کے باعث 20 افراد ہلاک ہوئے تھے اور پورا گاؤں جھیل میں تبدیل ہو گیا تھا جس کے باعث چھ ہزار سے زائد مقامی شہری نقل مکانی کرنے پہ مجبور ہوگئے تھے۔

گلیشیئرز کی ماہر عائشہ خان نے نیوز لینز پاکستان سے بات کرتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان میں حال ہی میں قریباً پانچ سو جھیلیں منجمد ہو کر گلیشیئرز میں تبدیل ہو گئی ہیں جن کے نواح میں قائم آبادیوں کے مکینوں کے لیے خطرات بڑھ گئے ہیں کیوں کہ یہ گلیشیئرز کسی بھی وقت اپنی جگہ سے سرک سکتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا:’’ان گلیشیئرز میں سے قریباً نصف کسی بھی وقت ٹوٹ سکتے ہیں جس کے باعث ہزاروں لوگ نقل مکانی پہ مجبور ہو جائیں گے۔‘‘

2017ء میں گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (جی بی ڈی پی اے) کی جانب سے پیش کیے جانے والے ’’سیلاب سے بچاؤ کے منصوبے‘‘ میں کہا گیا ہے:’’دوردرازکے دیہاتوں، نقل وحمل کے مناسب انتظامات نہ ہونے، غیرمعیاری تعمیرات، درختوں کی کٹائی اور آگاہی کے فقدان کے باعث گلگت بلتستان کے لوگ قدرتی آفات سے متاثر ہونے کے خطرات سے دوچار ہیں۔‘‘

حالیہ برسوں کے دوران ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث درجۂ حرارت متاثر ہوا ہے جو ایک ایسے خطرے کے طور پر ابھرا ہے جو مقامی آبادیوں پر منفی طور پہ اثرانداز ہو سکتا ہے کیوں کہ اس کی وجہ سے گلیشیئرز اپنی جگہ سے سرکنے لگے ہیں اور لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ ’جی بی ڈی ایم اے‘ کے منصوبے میں کہا گیا ہے:’’پاکستان کے محکمۂ موسمیات کی جانب سے گلگت، بونجی، سکردو، یٰسین اور گوپیز میں قائم سٹیشنوں سے 1980ء سے 2006ء کے دوران حاصل کیے جانے والے جائزوں سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ خطے کے اوسط درجۂ حرارت میں اضافہ ہوا ہے۔‘‘ مزیدبرآں گزشتہ ایک دہائی کے دوران موسم گرما کے مہینوں میں خطے کے درجۂ حرارت میں اوسطاً 0.440 سنٹی گریڈ کا اضافہ ہوا ہے (سٹائن باراور زیلڈر 2008ء) ۔ گوپیز میں ایک دہائی کے دوران بارشوں میں ڈرامائی طور پر 157 ملی میٹر کا اضافہ ہوا جو 1980ء سے 2006ء کے دوران ہونے والی اوسط بارشوں سے چار گنا زیادہ ہے۔ قراقرم و ہندوکش کے پہاڑی سلسلوں میں گلیشیئرز کی اکثریت تیزی سے پگھل رہی ہے۔ گزشتہ دو سو برسوں کے دوران قراقرم میں جھیلوں کے بننے سے 35 تباہ کن سیلاب آنے کے علاوہ 34 گلیشیئرز اپنی جگہ سے سرک چکے ہیں۔ (ہیوٹ2007ء)

سکردو کے ڈپٹی کمشنر کیپٹن ندیم نذیر کہتے ہیں کہ خطے میں گلیشیئرز کے یوں سرکنے سے لاکھوں لوگ متاثر ہوسکتے ہیں اور سینکڑوں کی زندگیاں خطرات کی زد پر آسکتی ہیں۔

صوبائی وزیرِ ماحولیات حاجی خان نے کہا کہ گلگت بلتستان قدرتی آفات کی زد پر رہا ہے اور علاقے کی جغرافیائی ہیئت کے باعث اسے قدرتی آفات سے بچانے کے لیے بہت زیادہ اقدامات نہیں کیے جا سکتے۔ انہوں نے مزید کہا:’’تاہم، ہم نقصانات پر قابو پانے اور عوام کی زندگیاں محفوظ بنانے کے لیے کوشاں ہیں۔ اس مقصد کے لیے جی بی ڈی ایم اے قائم کی گئی ہے تاکہ قدرتی آفات کی صورت میں لوگوں کوتحفظ فراہم کرنے کے لیے کوئی ادارہ توموجود ہو۔‘‘

تاہم گلیشیئرز کے پگھلنے کے باعث متاثر ہونے والے مقامی شہری صورتِ حال پر قابو پانے کے لیے حکومت کی جانب سے کیے جا رہے اقدامات کے حوالے سے مطمئن نہیں ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اٹھارٹیز آفات سے متاثر ہونے کے خطرات سے دوچار مقامی آبادیوں کو بروقت خبردار نہیں کرتیں۔ دیہاتی کہتے ہیں کہ ان کی توجہ میدانی علاقوں کی جانب مبذول رہتی ہے اور وہ ان دیہاتوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں جو پہاڑوں پر قائم ہیں جہاں خطے کی 70 فی صد آبادی رہتی ہے۔

عطا آباد اور بلغار میں گلیشیئرز کے پگھلنے کے باعث متاثر ہونے والے لوگ کہتے ہیں کہ حکومت نے انہیں آٹے کا صرف ایک تھیلا، پانچ کلو چینی، ڈیڑھ لیٹر کوکنگ آئل اور ایک ٹینٹ فراہم کیا۔ ایک مقامی رہائشی یوسف حسین کہتے ہیں:’’ان چند ضروریاتِ زندگی کی فراہمی کے بعد حکومت کی جانب سے شاذو نادر ہی کوئی امداد فراہم کی گئی ہے۔ حکومت قدرتی آفات کے دنوں میں بہت کم مدد فراہم کرتی ہے۔ عموماً مقامی آبادی اور عزیزو اقارب ہی مدد کرتے ہیں۔ حکومت کی جانب سے ہماری دوبارہ آبادکاری کے لیے بھی کوئی امداد فراہم نہیں کی گئی۔‘‘

مقامی آبادی یہ شکایت بھی کرتی ہے کہ آفات کے حوالے سے آگاہی اور ان کو منتظم کرنے کے حوالے سے سیمیناروں اور ورکشاپوں کی اکثریت کا انعقاد آفات سے متاثرہ علاقوں کے بجائے سکردو اور اسلام آباد میں کیا جاتا ہے۔ یوسف حسین نے مزید کہا:’’انہی وجوہ کے باعث یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ حکومت مؤثر پروگرام بنانے کے بجائے آسانیاں تلاش کرتی ہے۔ یہ سیمینار اور ورکشاپس بڑے ہوٹلوں میں منعقد کیے جاتے ہیں اور عموماً انگریزی میں بات کی جاتی ہے جس کے باعث گلگت بلتستان کے عام لوگ ان سے مستفید نہیں ہو پاتے۔‘‘

سابق صوبائی وزیر برائے منصوبہ بندی راجہ اعظم خان کہتے ہیں کہ حکومت نے گلگت بلتستان مینجمنٹ اتھارٹی اس لیے قائم کی ہے تاکہ وہ گلیشیئرز کے پگھلنے کی صورت میں عوام کا تحفظ کرسکے لیکن لوگ عموماً حکومت کی جانب سے محفوظ مقامات کی جانب منتقل ہونے کی وارننگ نظرانداز کر دیتے ہیں حتیٰ کہ جب ان کو یہ تک کہا جاتا ہے کہ بہت جلد قدرتی آفت ان کے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔‘‘

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.