اسلام آباد: پاکستان مسلم لیگ نواز کی حکومت دہشت گردی میں ملوث مجرموںکے خلاف جلد از جلد کارروائی کرنے کے لیے متنازع فوجی عدالتوں کی توسیع چاہتی ہے جب کہ انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیمیں اور حزبِ اختلاف کی سیاسی جماعتیں حکومت کے اس فیصلے کے خلاف ہیں۔

وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے جاری ہونے والے سرکاری بیان میں کہا گیا ہے:’’ حکومت نے مشتبہ عسکریت پسندوں کے خلاف مقدمات کی تیز تر سماعت کے لیے متنازع فوجی عدالتوں کو بحال کرنے کے لیے گزشتہ ہفتے اجلاس کیا اور سیاسی قوتوں کے ساتھ مشاورت کرنے کا فیصلہ کیا۔‘‘

ملک کی 11فوجی عدالتوں نے سات جنوری کو کام کرنا بند کردیا تھاجب ان کی مدت ختم ہوگئی تھی۔

انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے مقامی و عالمی اداروں اور قانونی ماہرین نے اسلامی عسکریت پسند گروہوں کی جانب سے ایک دہائی سے زائد عرصہ سے جاری دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث مبینہ عسکریت پسندوں کے خلاف مقدمات چلانے کے لیے ان خصوصی عدالتوں کو قائم کرنے کی مخالفت کی تھی۔

یہ فوجی عدالتیں 2015ء میں سیاسی و فوجی قیادت کے اتفاقِ رائے سے تشکیل پائی تھیں۔ یہ عدالتیں ایک آئینی ترمیم کے تحت دو برس کے لیے قائم کی گئیں جسے پارلیمان نے متفقہ طورپر منظور کیا تھا۔

پاکستان میں دہشت گردی اور عسکریت پسندی کا مقابلہ کرنے کے لیے 20نکاتی قومی ایکشن پلان کے تحت فوجی عدالتیں متعارف کروائی گئیں۔ سیاسی و فوجی قیادتوں نے آرمی پبلک سکول پر ہونے والے ہولناک حملے کے بعد مشترکہ طورپر قومی ایکشن پلان تشکیل دیا، دہشت گردی کی اس کارروائی میں تقریباً150افراد ہلاک ہوگئے تھے جن کی بڑی تعداد طالب علموں پر مشتمل تھی۔ قومی ایکشن پلان کی شق نمبردوپاکستانی فوج کی زیرِنگرانی دو برس کے لیے ’’خصوصی عدالتوں‘‘ کے قیام سے متعلق ہی ہے۔

وفاقی حکومت نے گزشتہ ہفتے مجوزہ فوجی عدالتوں کو ایک مخصوص مدت کے لیے آئین کے دائرہ کار میں لانے کے لیے تمام سیاسی جماعتوں سے مشاورت کرنے کا فیصلہ کیا، جیسا کہ پاکستانی میڈیا پر نظر آرہے سیاسی رہنماء یہ زور دیتے ہیں کہ اس ساری کوشش کا مقصد’’قومی ایکشن پلان کا اس کی روح کے مطابق نفاذ ‘‘ ہے۔

پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف اور نئے تعینات ہونے والے چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے اس حوالے سے ہونے والے اجلاس میں شرکت کی جس میں دیگر وزرا، عسکری قیادت اور انٹیلی جنس اداروں کے سربراہ بھی شریک ہوئے۔ ایک افسر کہتے ہیں کہ اجلاس کے شرکاء نے اس اَمر پر اتفاق کا اظہار کیا کہ فوجی عدالتوں نے انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خلاف انتہائی اہم کردار کیا ہے اور ان عدالتوں کو ایک بار پھر قائم کیا جانا چاہئے۔

دوسری جانب انسانی حقوق کے ادارے اور بہت سے ماہرینِ قانون اور سابق جج یہ یقین رکھتے ہیں کہ حکومت کو ایک بار پھر متنازع فوجی عدالتیں قائم نہیں کرنی چاہئیں۔

سپریم کورٹ آف پاکستان کے سابق جج ناصر اسلم زاہد کہتے ہیں:’’ فوجی عدالتیں قائم کرنے کے بجائے فوجداری انصاف کی فراہمی کے موجودہ نظام کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ ‘‘ انہوں نے مزید کہا؛’’ ایسی عدالتی اصلاحات اور منصوبہ بندی کے بغیر قائم کیا گیا نظام اس وقت تک کامیاب نہیں ہوسکتا تاوقتیکہ سماج کو اس بارے میں آگاہی فراہم نہ کردی جائے۔‘‘

ناصر اسلم زاہد نے کہا کہ معمول کی عدالتوں کے ریکارڈ کے مطابق ہر برس قانون کے مطابق سینکڑوں مجرموں کو سزائے موت دی جارہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا:’’تعلیم، فوجداری عدالتی نظام کو درست کرنے کے لیے سیاسی عزم اور پارلیمان ہی سماج کو بہتر اور زیادہ مہذب بنانے کے حوالے سے اہم کردار اداکرسکتے ہیں اوراس وقت عوام یہ محسوس کریں گے کہ فوجی عدالتوں کے قیام کی طرح کے غیرمعمولی اقدامات کرنے کی اب کوئی ضرورت نہیں ہے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ مہذب معاشرے تعلیم یافتہ ہیں اور وہاں قانون کی حکمرانی ہے جس کے باعث ان معاشروں میں فوجی عدالتوں کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ ناصر اسلم زاہد کا کہنا تھا:’’ اور اگرہم سماج اور نظام میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں لائے بغیر ایسا ہی کرتے رہے تو افریقی ملک سینیگال کی طرح تباہ ہوجائیں گے اور ایسا ہونے کا خدشہ موجود ہے۔‘‘ناصر اسلم زاہد نظام کی درستی کے لیے اگلے کچھ عرصہ میں خونی انقلاب بپا ہونے کی پیشگوئی بھی کرتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا:’’ ان تیز رفتار عدالتوں کے ذریعے ایک متوازی عدالتی نظام تشکیل دینے کی کوئی ضرورت نہیں ہے تاوقتیکہ پورے نظام کی اصلاح نہیں کی جاتی اور  اجتماعی ذمہ داری کا احساس پید انہیں کیا جاتا اوریہ بھی واضح رہے کہ فوجی عدالتوں کو قائم کرنے کی طرح کے اقدامات پہلے سے موجود خلا پر نہیں کرسکتے۔‘‘

سابق سینیٹر اور برسرِاقتدار جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز کے سینئر رہنما ء ظفر علی شاہ نے فوجی عدالتوں کے تصور کی مخالفت کی۔ انہوں نے کہا:’’ میں پہلے دن سے ہی ان عدالتوں کے قیام کے خلاف ہوں۔ ہمیں عام شہریوں اور دہشت گردوں کے خلاف ملک میں رائج قانون کے تحت مقدمات چلانے اور تفتیش و پراسیکیوشن کا معیار بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔‘‘

تاہم بہت سے گروہ اور دہشت گردی کے متاثرین فوجی عدالتوں کی حمایت کرتے ہیں۔ وہ موجودہ عدالتی نظام سے مایوس ہوچکے ہیں اور اس میں بہتری اور قانون کی عملدآری کی کوئی امید نہیں رکھتے اور وہ اس کی وجہ اس حوالے سے سیاسی عزم نہ ہونے کو قرار دیتے ہیں۔ وہ یہ یقین رکھتے ہیں کہ عسکریت پسندوں کو ان تیز رفتارفوجی عدالتوں کے ذریعے ہی سزا سنائی جانی چاہئے، خاص طورپر جب عام عدالتیں ان مقدمات میں درست فیصلہ دینے میں ناکام ہوچکی ہیں۔

لاہور ہائیکورٹ کے ایک سابق جج نے، نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر، کہا:’’ انصاف کی فراہمی اور پاکستان کے معصوم لوگوں کے قتل میں ملوث ان دہشت گردوں کو سزا دینے کے لیے ہم ان خصوصی (فوجی) عدالتوںکے قیام کی حمایت کرتے ہیں۔ عدالتی نظام میں بہتری اور کرپشن ختم ہونے کی کوئی امید نہیں ہے جس کے باعث دہشت گردوں کے خلاف فوجی عدالتوں میں مقدمات چلانا ہی آخری آپشن رہ جاتا ہے۔‘‘

انہوں نے اسی بنا پر یہ زور دیا کہ گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران دہشت گرد حملوں میں ہلاک ہورہے معصوم شہریوں کے انسانی حقوق اور انصاف کی عدم فراہمی کے باعث ان کے خاندانوںکے لیے پیدا ہونے والی مشکلات کو بھی پیشِ نظر رکھنے کی ضرورت ہے کیوں کہ ردِعمل کے خوف کے باعث ریاست درست طورپر اقدامات کرنے میں ناکام رہی ہے۔

ملک کے وزیرِداخلہ چودھری نثار علی خان نے کہا کہ فوجی عدالتوں کے غیر فعال ہونے کے بعد زیرِالتوا مقدمات انسدادِ دہشت گردی کی عدالتوں کو منتقل کئے جاچکے ہیں۔

پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ انٹرسروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے مطابق فوجی عدالتوں نے گزشتہ دو برسوں کے دوران 274مقدمات کی سماعت کی، 161مجرموں کو سزائے موت دی گئی جن میں سے 12کی سزا پر عمل ہوچکا ہے۔ آئی ایس پی آر نے ایک بیان میں کہا:’’ اپنی مقررہ مدت ختم ہوجانے کے بعد فوجی عدالتوں نے کام کرنا بند کردیا ہے اور فوجی عدالتوں کی جانب سے تیزی کے ساتھ مقدمات نمٹائے جانے کے باعث ایک ایسے وقت پر دہشت گردی کی سرگرمیوں میں کمی آئی ہے جب یہ پوری شدت سے جاری تھیں۔‘‘

اگست2015ء میں سپریم کورٹ نے ان متنازع فوجی عدالتوں کے خلاف دائر کی جانے والی آئینی درخواستوں کو اکثریتی رائے سے مسترد کردیا تھا۔ تاہم سپریم کورٹ نے کہاتھاکہ ایپیلیٹ کورٹ میں فوجی عدالتوں کے تمام فیصلوں کاعدالتی جائزہ لیا جائے گا۔

بعدازاں 29اگست 2016ء کو سپریم کورٹ نے فوجی عدالت کے سزا یافتہ 16مجرموں کی اپیلیں مسترد کر دی تھیں۔

پاکستان کی پوری تاریخ میں فوجی عدالتیں متنازع رہی ہیں۔ ایسی عدالتیں بنیادی طورپر مارشل لا کے دور میں متعارف کروائی گئیں۔

انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک عالمی تنظیم انٹرنیشنل کمیشن آف جیورسٹس (آئی سی جے) نے اپنے ایک حالیہ بیان میں پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ فوجی عدالتوں کو ختم کرے اور ان عدالتوں کو یہ قانونی اختیار نہیں دیا جانا چاہئے کہ وہ دہشت گردی سے متعلقہ جرائم میں شہریوں کے خلاف مقدمات کی سماعت کریں، ادارے نے اس سارے عمل کو ’’پاکستان میں انسانی حقوق کے لیے تباہ کن‘‘ قرار دیا۔

آئی سی جے ان فوجی عدالتوں میں زیرسماعت مقدمات کو ’’خفیہ اور مبہم قرر دیتی ہے اور کہتی ہے کہ یہ منصفانہ سماعت کے بنیادی حق کی خلاف ورزی کرتی ہیں اور ان کا لوگوں کو دہشت گردی کی سرگرمیوں سے محفوظ رکھنے کے حوالے سے کوئی کردار نہیں ہے۔‘‘ آئی سی جے نے پاکستان پر فوجی عدالتوں کا دائرہ کار نہ بڑھانے پربھی زور دیا اور کہا کہ وہ انسدادِ دہشت گردی کے تمام قوانین اور کارروائیاں انسانی حقوق کے حوالے سے خود پر عائد ہونے والی عالمی ذمہ داریوں کو مدِنظر رکھتے ہوئے انجام دے۔

Leave a Reply