پشاور (سلمان یوسف زئی سے) علیشا کو گزشتہ ہفتے جب شدید زخمی حالت میں پشاور کے سب سے بڑے ہسپتال لایا گیا تواس نے سفید کوٹ پہنے پیرا میڈیکل سٹاف اور سنجیدہ مزاج ڈاکٹروں کو گریز پر مجبور کردیا جو عموماً کسی بھی ایمرجنسی پر فوری طور پر قابو پالیتے ہیں۔
شہر کے ماہرینِ طب نے انسانی جسم کی گتھیوں کو سلجھانے کے لیے توبہت زیادہ عرق ریزی کررکھی ہے لیکن انہوں نے علیشاکی جنس کے باعث پیدا ہونے والے انسانی المیے کا مطالعہ نہیں کیا۔ بہ ظاہر یوں محسوس ہوتا ہے کہ انہوں نے خواجہ سرا کی اصلاح کے بارے میں کچھ نہیں پڑھاکیوں کہ جب علیشا موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا تھی تو وہ اس کو بچانے کے لیے آگے نہیں بڑھے۔
خواجہ سرا علیشا کے جسم پر گولیوں کے چھ زخم آئے تھے، جب اسے ہسپتال لایا گیا تو شعبۂ ایمرجنسی کا عملہ اس کشمکش میں مبتلا ہوگیا کہ اسے مردانہ وارڈ میں داخل کریں یا زنانہ وارڈ میں؟ ایک ایسی جنس، جسے مردانہ معاشرے میں مواقع نہ ہونے کے باعث بھیک مانگ کر، مختلف تقریبات پر ناچ گا کر اورجنسی سرگرمیوں میں شریک ہوکر اپنی گزر بسرممکن بنانا پڑتی ہے، علیشا موت و حیات کے ان لمحات میں خصوصی توجہ کی مستحق تھی۔
جب اسے کسی بھی وارڈ میں کوئی بھی بیڈ مل سکتا تھا، ڈاکٹر یہ فیصلہ کررہے تھے کہ اسے ہسپتال میں وی آئی پیز کے لیے مخصوص وارڈ میں کمرہ الاٹ کردیا جائے۔ اس سے قبل کہ وہ کوئی فیصلہ کرپاتے، علیشا نے دم توڑ دیا‘ وہ گمنامی اور حقارت کاایک اور شکار تھی کیوں کہ اس ملک میں مریض یہ نہیں چاہتے کہ ان کے ساتھ والے بستر پر، مردانہ یا زنامہ وارڈ میں، کوئی خواجہ سرا دم توڑ دے۔
علیشا اِس وقت صرف 19برس کی تھی جب اسے اس کے محبوب مراہ نے پشاور کے علاقے فقیرآباد میں قتل کردیا۔ ایک غیر سرکاری تنظیم بلیو وائنز، جو خواجہ سرائوں کے حقوق کے لیے کام کررہی ہے، کے کوارڈینیٹر قمر نسیم کہتے ہیں کہ خیبرپختونخوا میں جنوری 2015ء سے اب تک 45خواجہ سرائوں کو قتل کیا جاچکا ہے۔
انہوں نے مزید کہا:’’ خواجہ سرائوں پر ہونے والے جنسی تشدد کی روک تھام کے لیے کوئی کارروائی نہیں کی جارہی جب کہ اس حوالے سے مدد کے حصول کے لیے کی گئی بارہا کوششیں بھی بارآور ثابت نہیں ہوئیں اور خواجہ سرائوں کو سکیورٹی فراہم کرنے کے لیے کوئی اقدامات نہیں کیے گئے۔‘‘
علیشا کی خواجہ سرا کمیونٹی میں شہرت اس اَمر سے عیاں ہوتی ہے کہ اس کی موت اس کے بہت سے خیر خواہوں کو ہسپتال کھینچ لائی۔ یا غالباً یہ ظلم و جبر کا شکار کمیونٹی کا خوف اور درد تھا جو پنی ساتھی کی موت پر دُکھ اور ہمدردی کے اظہار کے لیے جمع ہوئی تھی کیوں کہ کوئی دوسرا ان کے لیے آنسو تو کیا بہاتا، کھڑا بھی نہ ہوتا۔حتیٰ کہ جب علیشا کے تیماردار ہسپتال میں جمع ہوئے تو وہ خود کو لوگوں کے طنزیہ جملوں سے بچانے کے لیے کمرے میں مقید ہوگئے۔ وہ اس واقعہ سے خوف زدہ ہوگئے تھے۔
نین گار سوسائٹی نے انسائٹس ریسرچ کنسلٹنٹس کے تعاون سے شہری آبادی کی ہوموفوبیا اور ٹرانس فوبیا کے بارے میں ان کی رائے معلوم کرنے کے لیے تحقیق کی جو مئی 2016ء میں جاری ہوئی۔
نین گار سوسائٹی کے ڈائریکٹر محمد فلک نے ملتان سے نیوز لینز پاکستان سے فون پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اس ریسرچ پول کو کروانے کا مقصد پاکستان میں ہوموفوبیا اور ٹرانس فوبیا کی شرح جانچنا تھا۔
انہوں نے کہا:’’ اس نوعیت کے رویے نجی و سرکاری اداروں کی خدمات اور ماہرین کے کام کو متاثر کرتے ہیںاور ہسپتالوں، کالجوں، سماجی شعبوںاور ملازمتوں کے حصول میں بھی اثرانداز ہوتے ہیں اور ساری آبادی یکساں طور پر اپنے حقوق حاصل نہیں کرپاتی۔‘‘
علیشا کی شہرت اس حقیقت سے بھی عیاں ہوتی ہے کہ وہ خیبرپختونخوا میں ٹرانس ایکشن الائنس کی کوارڈینیٹر تھیں اور اپنی کمیونٹی کے حقوق کے لیے آواز بلند کررہی تھیں۔ سماجی ماہرین کے مطابق خواجہ سرا انتہائی غربت کی زندگی بسر کررہے ہیں، وہ خود کو ان صلاحیتوں سے لیس نہیں کرپاتے کہ کوئی مہذب کام کرسکیں کیوں کہ سماج ان کو حقارت سے دیکھتا ہے،والدین قبول نہیں کرتے، سکولوں میں اساتذہ بے عزتی کرتے ہیں اور ساتھی طالب علم مارپیٹ کرتے ہیں ، وہ سماجی تنہائی کے باعث ملازمت کے لیے درکار صلاحیت بھی حاصل نہیں کرپاتے۔
پشاور سے تعلق رکھنے والے سماجی کارکن تیمور جمال کہتے ہیں کہ پشاور میں خواجہ سرائوں کو نہ صرف خاندان بلکہ سماج کی جانب سے بھی نظرانداز کیا جاتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا:’’ ان کی تعلیم، صحت اور عوامی مقامات تک بہت کم رسائی ہوتی ہے۔ معاشرتی رویہ ان کو بھرپور انداز سے سماجی و ثقافتی زندگی بسر نہیں کرنے دیتا۔ سیاست اور فیصلہ سازی کے عمل سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے اور خواجہ سرائوں کے لیے اپنے بنیادی شہری حقوق کے بارے میںآگاہی حاصل کرنا اور ان پر عمل کرنا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ ایل جی بی ٹی آئی کمیونٹی کی جنسی شناخت ظاہر ہوجائے تو ان کو تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ تیمور جمال نے کہا:’’خیبر پختونخوا میں بہت سے ہم جنس پرست ہیں لیکن سماجی بدنامی کے خوف کے باعث ایل جی بی ٹی آئی کمیونٹی اپنی شناخت پوشیدہ رکھتی ہے اور دوہری زندگی بسر کرتی ہے۔‘‘
پاکستان کا قانون، انگریزی اور اسلامی قوانین کا مجموعہ ہیں جو ہم جنس پرستی کی حوصلہ شکنی کرتا ہے اور اس کے لیے مختلف سزائیں تجویز کی گئی ہیں جن میں قید کی سزا بھی شامل ہے۔ تاہم قانون کی نسبت معاشرہ ایل جی بی ٹی آئی کمیونٹی کے لیے زیادہ مسائل پیدا کرتا ہے، پولیس کی بلیک میلنگ کے علاوہ جنسی و سماجی ہراساں کرنے کے واقعات، جرمانے اور جیل کی قید عمومی واقعات ہیں۔
2009ء میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے فیصلہ دیا کہ حکومت خواجہ سرائوں کو ہراساں کرنے اور تعصب کے واقعات سے تحفظ فراہم کرنے کے لیے فعال کردار ادا کرے۔ 2011ء میں ایپکس کورٹ نے خواجہ سرائوں کو ووٹ کا حق دیا اور قومی شناختی کارڈ جاری کیا جس میں ان کی شناخت ’’ شی میل‘‘ کے طور پر کی گئی۔
قمر نسیم کہتے ہیں کہ جنسی رویے وشناخت کے حوالے سے انسانی حقوق کی صورتِ حال نمایاں طور پر بہتر ہوئی ہے تاہم قانون سازی کے ثمرات حاصل نہیں ہوسکے اور جنسی رویے و شناخت کے حوالے سے سماجی ساختیاتی تعصب کو ختم کرنا ہنوز ایک چیلنج ہے۔
انہوں نے مزید کہا:’’ ایل جی بی ٹی آئی کمیونٹی کو دیگر پاکستانیوں کے مماثل حقوق حاصل نہیں ہیں۔ ان کو ہراساں کرنے اور ان کے ساتھ تعصب برتنے کے واقعات عام ہیں اورخواجہ سرا کمیونٹی کو اکثر و بیش تر صرف مختلف ہونے کی بنا پرتشدد سہنا پڑتا ہے جن کا سماج میں کردار محض جنسی کارکن، گداگر اور تفریح فراہم کرنے والے فنکاروں کا ہے۔‘‘
پاکستان میں ایل جی بی ٹی آئی کمیونٹی ایک حقیقت ہے جس سے انکار نہیں کیا جاسکتا، ملک میں ایسا کوئی قانون رائج نہیں ہے جس کے تحت ان کے حقوق کا تحفظ کیا جاسکے۔ قمر نسیم کہتے ہیں:’’ ایل جی بی ٹی آئی کمیونٹی کے لیے آواز بلند کرنے کا کوئی طریقہ نہیں ہے کیوں کہ سماج میں ان کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔ مذہب بھی ہم جنس پرستی کو ممنوع قرار دیتاہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ بچپن میں ایل جی بی ٹی آئی کمیونٹی کے ارکان کو خصوصی توجہ کی ضرورت ہوتی ہے کیوں کہ ان کارویہ ان کو تنہائی کا شکار کردیتا ہے۔
قمر نسیم نے نیوز لینز پاکستان سے بات کرتے ہوئے کہا:’’ خیبر پختونخوا میںجنسی رویہ و شناخت حساس موضوعات ہیں کیوں کہ زندگی کا دھارا قبائلی اقدار اور مذہبی تعلیمات کی روشنی میں تشکیل پایا ہے۔ اس وقت ان موضوعات کے بارے میں بات کرنے کی ضرورت ہے کیوں کہ لوگوں کی زندگیاں اور حقوق دائو پر لگے ہوئے ہیں۔‘‘
جنوبی ایشیائی تناظر میں خواجہ سراکی اصطلاح مرد و خواتین سے مختلف جنسی شناخت رکھنے والے لوگوں کے لیے استعمال کی جاتی ہے اور اس کی بنیاد خواجہ سرائوں کی تاریخ میں پنہاںہے جب وہ ترکی کی خلافتِ عثمانیہ سے انڈیا کی مغل سلطنت تک نگران، آرٹ کے انسٹرکٹرز اور شہزادوں و شہزادیوں کے ذاتی ملازمین اور شاہی پیغام رساں کے طور پر خدمات انجام دیا کرتے تھے۔
ان سلطنتوں کے زوال پذیر ہونے کے بعد خواجہ سرا، جن کا حرم میں انتہائی بلند مرتبہ تھا، عزت و توقیر سے محروم ہوگئے اور گداگری اورایسے ہی دوسرے پیشے اختیار کرنے پر مجبور ہوگئے۔ شاہی حرموں سے منسلک باعزت کارکنوں سے سماجی نفرت کا شکار ہونے تک، یہ امارت سے غربت کا شکار ہونے کی ایک دُکھ بھری داستان ہے اور اب خواجہ سرا سماج کے سب سے پست طبقے میں شمار ہوتے ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here