لاہور: آپ جب ریستوان جاتے ہیں اور اپنے پسندیدہ پکوان پر نظر دوڑاتے ہیں تو آپ کے منہ میں پانی آ جاتا ہے لیکن آپ کے ذہن میں آخری خیال ویٹر کی صحت کے متعلق آتا ہے۔ آپ اپنی پلیٹ سے کھانا تناول کرتے ہیں اور ذائقے سے لطف اندوز ہوتے ہیں، اس وقت اُن جراثیم کے بارے میں تصور کرنا بھی مشکل ہوتا ہے جو بہت سی مہلک بیماریوں کی وجہ بن سکتے ہیں اور یہ جراثیم آپ کے کھانے میں موجود ہوتے ہیں۔ پنجاب فوڈ اتھارٹی کی جانب سے لاہور کے مختلف ہوٹلوں میں کام کرنے والے 4572 ویٹروں کی بلڈ سکریننگ سے حاصل ہونے والے نتائج خوش خوراک لاہوریوں کے لیے کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہیں ہیں۔

شہر کی بے مثل تاریخ کے بعد کھانے کی صنعت مقبول ترین ہے جسے حفظانِ صحت کے تناظر میں بہت سے مسائل کا سامنا ہے۔ پنجاب فوڈ اتھارٹی (پی ایف اے) ایسے معاملات میں عموماً اہم ترین کردار ادا کرتی ہے۔ زیادہ عرصہ نہیں گزرا جب پی ایف اے کی ڈائریکٹر آپریشنز عائشہ ممتاز سنسنی خیز شہ سرخیوں کی زینت بنتی رہی ہیں، خاص طور پر جب انہوں نے شہر کے کچھ معروف ریستورانوں پر چھاپے مارے۔ حال ہی میں پی ایف اے نے اپنے آفیشل فیس بک صفحے پر ایک سرکاری اعلامیہ جاری کیا ہے جو کھانے کے شوقین لاہوریوں کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔

ویٹرز کی صفائی ستھرائی اور ہوٹلوں کے باورچی خانوں کا جائزہ لینے کے بعد بہت سارے ریستوران حفظانِ صحت کے اصولوں پر پورا نہیں اتر پائے۔ لاہور شہر میں لوگ لذیذ پکوانوں کے دلدادہ ہیں اور اس کا تعلق ان کی تاریخ سے بھی ہے لیکن پی ایف اے کی حالیہ کارروائیوں نے بہت سوں کی آنکھوں کھول دی ہیں۔ نیوزلینز پاکستان کو حاصل ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق شہر کے ریستورانوں میں کام کرنے والے ویٹروں میں سے ہر 28 واں ویٹر کسی نہ کسی مہلک بیماری کا شکار ہے۔ ان میں سے کچھ مہلک ترین وائرس ہیپاٹائٹس بی اور سی سے متاثر ہیں جن کے مریضوں کی تعداد 756 ہے، جب کہ ٹی بی سے متاثرہ مریضوں کی تعداد 26 ہے اور تین ویٹر ایسے بھی ہیں جو ایچ آئی وی، ایڈز کا شکار ہیں۔

Noorul Amin Mengal
Director General PFA Noorul Amin Mengal | Photo by news lens Pakistan.

پی ایف اے نے متاثرہ ویٹرز کو ریڈ کارڈز جاری کیے ہیں۔ پی ایف اے کے ڈائریکٹر جنرل نورالامین مینگل نے نیوز لینز پاکستان سے بات کرتے ہوئے کہا:’’ان کارکنوں کو بے سہارا نہیں چھوڑا جائے گا اور حکومت خود ان کا علاج کروائے گی۔ ہم یہ معلوم کرنے کے لیے ان ہوٹلوں کا دوبارہ دورہ کریں گے کہ آیا ہوٹل مالکان حکومتی احکامات پر عمل کر رہے ہیں یا نہیں۔‘‘

فوڈ انڈسٹری سے منسلک کارکنوں سے جب رابطہ قائم کیا گیا تو انہوں نے اپنا صحت مند ہونا ضروری قرار دیا۔ مذکورہ بالا بیماریوں پر قابو پانے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیارکرنے کی ضرورت ہے کیوں کہ ان بیماریوں سے متاثرہ مریض کے خون سے ایک صحت مند شخص بھی بیمار پڑ جاتا ہے۔ اختیاطی تدابیر کیے بغیر ان بیماریوں کو روکنا ممکن نہیں ہے کیوں کہ یہ بیماریاں لعابِ دہن اور پسینے کے علاوہ خون سے بھی پھیلتی ہیں۔

پی ایف اے کے ان اعداد و شمار کے بارے میں جب عام شہریوں کو معلوم ہوا تو انہوں نے شدید نوعیت کے تحفظات کا اظہار کیا۔ ان سے جب اس بارے میں بات کی گئی کہ کیا اب وہ مقامی ہوٹلوں میں جانے سے اجتناب برتیں گے؟ انہوں نے کہا کہ اب وہ شاذو نادر ہی گھر سے باہر کھانا کھائیں گے۔ ایک زیادہ بہتر حل یہ ہے کہ عوام کی جانب سے حالات بہتر کرنے کا مطالبہ کیا جائے۔

نیوز لینز پاکستان نے اس حوالے سے لاہور کے مختلف ریستورانوں کے مالکان سے رابطہ قائم کیا۔ ان سے جب ان کے ریستورانوں کے باورچی خانوں اورعملے کی صفائی ستھرائی کے بارے میں استفسار کیا گیا تو انہوں نے یہ دعویٰ کیا کہ باورچی خانے میں کام کرنے والے تمام ملازمین پر یہ پابندی عائد کی گئی ہے کہ وہ پلاسٹک کے دستانے اور کیپ پہنیں تاکہ صفائی کے معاملے میں کوئی کمپرومائز نہ ہو۔ تاہم ویٹرز اور دیگر عملہ عموماً ان شرائط کو پورا نہیں کرتا اور وہ ان میں اپنے تئیں تبدیلیاں کر لیتے ہیں۔ لہٰذا یہ یقین دہانی کس طرح حاصل کی جائے کہ مذکورہ ویٹرز بیماریوں سے محفوظ اور صحت مند ہیں، ہوٹل مالکان یہ خیال کرتے ہیں کہ ان ویٹرز کی مستقل بنیادوں پر سکریننگ ہی ان کو بیماریوں سے محفوظ رکھنے کا واحد حل ہے۔

فوڈ انڈسٹری میں کام کرنے والے کارکنوں کی اکثریت کم آمدن والے طبقے سے تعلق رکھتی ہے جس کے باعث ان کا طرزِ زندگی غیرمعیاری ہوتا ہے اور یوں وہ مختلف نوعیت کی بیماریوں کا شکار ہوجاتے ہیں۔ تشخیص کے حوالے سے تعلیم و آگاہی اور بعدازاں علاج نہ ہونے کی بنیادی وجہ مالی ناآسودگی بھی ہے۔ ان لوگوں کو ان کی بیماری کے باعث بے مصرف قرار دے ڈالنا کوئی حل نہیں ہے۔ انہیں اس بارے میں آگاہی فراہم کرنے کی ضرورت ہے جس کے ساتھ ہی انہیں علاج کے لیے خصوصی رعایت دی جائے جس سے اس المیے پر قابو پانے میں مدد حاصل ہو سکتی ہے۔

دوسری جانب ہوٹلنگ کی صنعت کو بھی ایسے ملازمین کو بھرتی کرتے ہوئے محتاط رہنے کی ضرورت ہے جن کا کھانے کی اشیاء کے ساتھ براہِ راست رابطہ ہوتا ہے۔ پسندیدہ ریستوران سے لذیذ کھانا تناول کرنا کبھی زندگی بھر کا روگ نہیں بننا چاہئے۔

ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے سینئر عہدیدار ڈاکٹر سلمان کاظمی نے نیوزلینز پاکستان سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہیپاٹائٹس بی و سی اور ایچ آئی وی خون کی منتقلی سے پیدا ہونے والی بیماریاں ہیں اور یہ مریضوں سے خارج ہونے والی رطوبت سے دوسروں کو منتقل ہوتی ہیں۔ مثال کے طورپر اگر ایک مریض کی رطوبت کھانے میں گرجاتی ہے لیکن وہ پک جاتا ہے یا شدید درجۂ حرارت پر گرم ہوتا ہے تو وائرس ختم ہو جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا:’’اور، اگر خوراک کچی یا سرد ہو تو اس صورت میں یہ خوراک کھانے والا شخص اس بیماری سے متاثر ہو سکتا ہے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ ٹی بی ایک وبائی بیماری ہے اور یہ کھانسی اور تھوک سے پھیلنے والی بیماریوں میں سے ایک ہے۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.