پشاور: آگ سے جھلسنے والے مریضوں کے لیے شہر کا واحد ہسپتال گزشتہ ایک دہائی سے زیادہ عرصہ سے زیرِتعمیر ہے ،اور اس نے 1,785,000آبادی کے شہر میں اب تک کام شروع نہیں کیا۔ اگر یہ مکمل ہوجاتا ہے تو یہ صوبہ خیبرپختونخوامیں ایسا پہلا ہسپتال ہوگا، اس وقت صوبے کی آبادی 2.69کروڑ ہے اور پشاور اس کا صوبائی دارالحکومت ہے۔

Marble Slab on Burn, Trauma and Reconstructive Surgery Centre: Photo by News Lens Pakistan

پشاور کے حیات آباد میڈیکل کمپلیکس کے ’’برن، ٹرائوما و ری کنسٹرکٹیو سرجری سنٹر‘‘ کی نامکمل عمارت کے باہر نصب سنگِ مرمر کی تختی پر لکھا ہے کہ اس منصوبے کا آغاز تین جولائی 2003ء کو ہوا۔ اس کا افتتاح سابق وزیراعلیٰ اکرم خان درانی نے اس وقت کیا جب چھ مذہبی جماعتوں پر مشتمل اتحاد متحدۂ مجلسِ عمل صوبہ خیبرپختونخوا میں برسرِاقتدار تھا۔ تاہم 13برس گزر جانے کے باوجود صوبے کے واحد برن سنٹر نے اب تک کام شروع نہیں کیا۔

ورکرز ویلفیئر بورڈ کے ایک افسر کہتے ہیں کہ2003ء کے بعد سے برسرِاقتدار آنے والی سیاسی جماعتوں کے رہنمائوں کی بڑی تعداد نے بارہا اس طبی مرکز کا افتتاح کیاہے ،انہوں نے ہسپتال تعمیر کرنے کے لیے فنڈز مختص کئے اور یہ امید دلائی کہ ان کے دورِ حکومت میں یہ ہسپتال جلد مکمل ہوجائے گا۔

مذکورہ افسر نے ٹروتھ ٹریکر سے، نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کیوں کہ ان کو میڈیا سے بات کرنے کی اجازت نہیں ہے، کہا:’’ اکرم خان درانی کے علاوہ دیگر افسر اور سیاست دان بھی اس منصوبے کا افتتاح کرچکے ہیںجن میں سابق صدر آصف علی زرداری، سابق وزیراعلیٰ حیدر خان ہوتی اور صوبائی اسمبلی کے سابق رکن ظاہر علی شاہ شامل ہیں جنہوں نے حال ہی میں اس کا ایک بار پھر افتتاح کیا ہے۔‘‘

خیبرپختونخوا کے محکمۂ صحت اور ورکرز ویلفیئر فنڈ کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کے مطابق محکمۂ صحت کو ہسپتال کے لیے زمین فراہم کرنا تھی جب کہ ورکرز ویلفیئر فنڈ نے 120بستروں پر مشتمل ہسپتال تعمیر کرنا تھا۔ ہسپتال مکمل ہو جانے کے بعد اس کے اخراجات برداشت کرنے اور اسے منتظم کرنے کی ذمہ داری محکمۂ صحت کی ہے۔

مذکورہ افسر کہتے ہیں:’’ یہ ہسپتال ورکرز ویلفیئر فنڈ اپنے فنڈز سے تعمیر کررہا ہے لیکن وفاقی و صوبائی حکومتوں کی جانب سے پیدا کی جارہی رکاوٹوں کے باعث اس کی تعمیر میں تاخیر ہورہی ہے۔‘‘

ورکرز ویلفیئر فنڈ کے ڈائریکٹر ورکس آصف مجید کہتے ہیں کہ برن ہسپتال کی تعمیر میں کئی وجوہات کے باعث تاخیر ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ افتتاح کے بعد تعمیر کا آغاز نہیں ہوا بلکہ اگست 2010ء میں کام کا آغاز ہوا جس کی وجہ حکام کی عدم دلچسپی اور ورکرز ویلفیئر فنڈ کی گورننگ باڈی کی تحلیل تھی۔

18ویں آئینی ترمیم (2008ئ) کے باعث بہت سے وفاقی ادارے صوبائی حکومتوں کے دائرہ اختیار میں آگئے۔ آصف مجید کہتے ہیں کہ ورکرز ویلفیئر فنڈکا صوبائی حکومت کے دائرہ اختیار میں جانا بھی ہسپتال کی تعمیر میں تاخیر کی ایک اہم وجہ ہے جس کے باعث بدنظمی پیدا ہوئی کیوں کہ محکمے کو صوبے میں اپنی سرگرمیوں کا ایک بار پھر آغاز کرنا تھا۔ انہوں نے مزید کہا:’’ ان وجوہات کے باعث اس منصوبے پر بروقت عملدرآمد نہیں ہوپایا۔اور یوں نا صرف صوبے کے واحد ہسپتال کی تعمیر میں تاخیر ہوئی بلکہ منصوبے کی تعمیر پر اٹھنے والے اخراجات بھی بڑھ گئے۔ آصف مجید کہتے ہیں کہ ہسپتال کی تعمیر میں غیر معمولی تاخیر کے باعث ہسپتال پر ہونے والے اخراجات جو 2003ء میں 53.20کروڑتھے،وہ 23.3کروڑ بڑھ کر اب 76.5کروڑ ہوچکے ہیں۔

تاہم وہ منصوبے کے قبل از وقت مکمل ہونے کے حوالے سے پرامید ہیں۔ انہوں نے کہا:’’ 80فی صد سے زائد تعمیراتی کام پہلے ہی مکمل ہوچکا ہے۔‘‘آصف مجید کا کہنا تھا:’’ ہم نے دسمبر 2016ء میں فنڈز کے حصول کے لیے ورکرز ویلفیئر فنڈ میں نظرثانی شدہ منصوبہ داخل کروا دیا تھا۔ ہم پرامید ہیں کہ یہ جلد منظور ہوجائے گاجس کے بعد تعمیراتی کام بھی مکمل ہوجائے گا۔‘‘

ٹروتھ ٹریکر نے پشاور کے دو اہم ہسپتالوں کے ڈاکٹروں سے اس حوالے سے بات کی جنہوں نے صوبے میں آگ سے جھلسنے والے مریضوں کے لیے ایک الگ ہسپتال قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے مزیدکہا کہ ایسا مرکز نہ ہونے کے باعث آگ سے جھلسنے والے مریضوں کو بدترین مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

خیبرٹیچنگ ہسپتال کے برن یونٹ کے سربراہ محمد طاہر کہتے ہیں کہ شعبہ کے سالانہ اعداد و شمار سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ہر برس مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پورے صوبے میں آگ سے جھلسنے والے مریضوں کے لیے صرف لیڈی ریڈنگ ہسپتال اور خیبرٹیچنگ ہسپتال میں ہی برن یونٹ قائم ہیں۔

محمد طاہر نے کہا:’’ دونوں برن یونٹس میں آگ سے جھلسنے والے مریضوں کے لیے خصوصی مہارت کی حامل سہولیات دستیاب نہیں ہیں۔ حتی کہ ان شعبہ جات میں سیکنڈ ڈگری برن کے مریضوں کا علاج بھی نہیں کیا جاسکتاجنہیں اسلام آباد کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) یا کھاریاں کے کمبائنڈ ملٹری ہسپتال کے برن کیئر یونٹ میں ریفر کردیا جاتا ہے۔‘‘

محمد طاہر نے کہا کہ ان ہسپتالوں میں زیادہ گنجائش بھی نہیں ہے اور رمقامی مریضوں کی بڑی تعداد علاج کے لیے یہاں آتی ہے۔ انہوں نے کہا:’’ مریضوں کو صرف اسی صورت میں داخل کیا جاتا ہے جب ڈاکٹر ان کے بارے میں یہ تجویز کریں کہ ان کو انتہائی نگہداشت کی ضرورت ہے۔ دیگر مریضوںکو ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد ڈسچارج کردیاجاتاہے۔‘‘

زیرِتعمیر ہسپتال کے حولے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں صوبائی محکمۂ صحت کے ایک افسر نے، نام ظاہر نہ کرنے کی خواہش پر کہاکہ ورکرز ویلفیئر بورڈ کے ساتھ کی گئی مفاہمتی یادداشت کے باعث محکمے کا منصوبے سے اس وقت تک کوئی تعلق نہیں ہے جب تک یہ مکمل نہیں ہوجاتا اور محکمۂ صحت کے حوالے نہیں کردیاجاتا۔

محمد طاہر نے کہا کہ ان ہسپتالوں کے حکام برن ہسپتال پر کام کی رفتار بڑھانے کے لیے ورکرز ویلفیئر فنڈ اور صوبائی محکمۂ صحت سے متعدد بار رابطہ قائم کرچکے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا:’’ ہم نے حکام کو صورتِ حال سے آگاہ کردیا ہے لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا۔‘‘

Leave a Reply