پشاور: کلثوم بی بی کو ایچ آئی وی، ایڈز کا علاج کروانے کی غرض سے کرم ایجنسی سے پشاور کے فیملی ہیلتھ کیئر سنٹر جانے کے لیے 250 کلومیٹر کا طویل فاصلہ طے کرنا پڑا۔

وہ کہتی ہیں:’’بیماری کے باعث میرے لیے  پبلک ٹرانسپورٹ پر پاراچنار سے پشاور تک اس قدر طویل فاصلہ طے کرنا انتہائی مشکل تھا۔‘‘ کلثوم بی بی کرم ایجنسی کے قصبے پاراچنار سے تعلق رکھتی ہیں، یہ وفاق کے زیرِانتظام قبائلی علاقوں (فاٹا) کی سات ایجنسیوں میں سے ایک ہے۔

خیبرپختونخوا ایڈز کنٹرول پروگرام کے مطابق فاٹا کی ساتوں ایجنسیوں میں سے کسی ایک میں بھی ایچ آئی وی، ایڈز کے مریضوں کے علاج کے لیے کوئی طبی مرکز قائم نہیں ہے۔

کلثوم بی بی اس وقت اپنے پانچ بچوں کے ساتھ کرایے کے ایک مکان میں رہائش پذیر ہیں۔ ان کے خاوند دو برس قبل ایچ آئی وی، ایڈز کے باعث وفات پا گئے تھے۔

اس خطے کے مریضوں کو علاج کے لیے خیبرپختونخوا کے شہروں جیسا کہ پشاورمیں قائم حیات آباد میڈیکل کمپلیکس اور کوہاٹ کے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز ہسپتال کا رُخ کرنا پڑتا ہے۔

خیبرپختونخوا ایڈز کنٹرول پروگرام کی جانب سے فراہم کیے جانے والے اعداد و شمار سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ نومبر 2016ء تک فاٹا میں ایچ آئی وی، ایڈز کے مریضوں کی تعداد 485 تھی۔ ان میں سے 33 مریضوں کا تعلق باجوڑ ایجنسی، 87 کا خیبر ایجنسی، 98 کا کرم ایجنسی، 218 کا بنوں، 34 کا مہمند ایجنسی، 28 کا اورکزئی ایجنسی، 72 کا جنوبی وزیرستان اور 133 کا شمالی وزیرستان سے ہے۔

خیبرپختونخوا اور فاٹا میں خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم ’خویندہ کور‘ کے مطابق فاٹا سے تعلق رکھنے والے 55 محنت کشوں کو ایچ آئی وی انفیکشن کی تشخیص ہونے کے باعث خلیجی ملکوں سے ڈیپورٹ کیا گیا ہے۔

تحقیقی مقالے بعنوان ’’پاکستان میں ایچ آئی وی کی وباء‘‘ کے مطابق مہاجر محنت کشوں کی بڑی تعداد غیر تربیت یافتہ دیہاتی مردوں پر مشتمل ہے جو محنت مزدوری کے لیے بیرونِ ملک یا ملک کے دیگر شہروں کا رُخ کرتے ہیں اور کئی کئی ماہ تک خاندانوں سے دور رہتے ہیں۔ اس تحقیق میں مزید کہا گیا ہے کہ ان محنت کشوں کی بڑی تعداد شہروں میں قیام کے دوران ایچ آئی وی سے متاثر ہونے کے خطرات سے آگاہ نہیں ہوتی۔

اس تحقیق کے مطابق:’’پشاور میں آیچ آئی وی کے علاج کے لیے طبی مراکز میں رجسٹرڈ قریباً تمام مریض وہ ہیں جو بیرونِ ملک ایچ آئی وی سے متاثر ہونے کے بعد ڈیپورٹ کیے گئے، ان میں سے ایک بڑی تعداد مشرقِ وسطیٰ کے ملکوں میں کام کررہی تھی۔ مشرقِ وسطیٰ میں ملازمت کرنے اور بعدازاں ورک پرمٹ کی تجدید کے لیے ایچ آئی وی کا ٹیسٹ کروانا لازمی ہے۔ ایچ آئی وی سے متاثرہ مریضوں کی تشخیص ہوتے ساتھ ہی انہیں ڈیپورٹ کر دیا جاتا ہے اور اکثرو بیشتر ڈیپورٹ کیے جانے کی وجہ بھی نہیں بتائی جاتی۔ جب ان لوگوں کی تشخیص ہوتی ہے تو ان کی ایک بڑی تعداد صحت مند ہوتی ہے اور وہ اس وجہ سے اپنی بیویوں کو بھی یہ انفیکشن منتقل کر سکتے ہیں۔‘‘

اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بہت سوں نے ڈیپورٹ ہونے کے بعد شادی کر لی یا ان کے اس بیماری سے متاثر ہونے کے خدشات موجود رہے اور انہوں نے اپنی بیویوں میں بھی یہ انفیکشن منتقل کر دیا۔ مذکورہ رپورٹ کے مطابق اس وقت مشرقِ وسطیٰ میں قریباً 20 لاکھ پاکستانی کام کر رہے ہیں (بیورو آف ایمیگریشن، پاکستان)، اور ایچ آئی وی سے متاثر ہونے کے خطرات سے دوچار لوگوں کی تعداد بھی بہت زیادہ ہے۔ تاہم اس حوالے سے کوئی قومی میکانزم موجود نہیں ہے جس کے تحت ایچ آئی وی مثبت آنے والے مریضوں کی وطن واپسی کے بعد ان کی تعداد کا اندازہ مرتب کیا جا سکے یا ان کے بارے میں کچھ معلوم ہو پائے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ،’’کراچی کے علاوہ ان محنت کشوں کی بڑی تعداد خیبرپختونخوا، فاٹا اور جنوبی پنجاب کے دیہی علاقوں سے تعلق رکھتی ہے۔ یہ وبا محدود پیمانے پر ہی منتقل ہوتی ہے (یہ ایک ایسی وبا ہے جس کے مزید پھیلنے کا امکان نہیں ہوتا کیوں کہ ان محنت کشوں کے غیرازدواجی ساتھیوں کی تعداد محدود ہوتی ہے یا ان کا سرے سے کوئی غیرازدواجی ساتھی نہیں ہوتا)، کیوں کہ ایچ آئی وی سے متاثر یہ مریض صرف اپنی بیویوں اور چند غیر ازدواجی ساتھیوں کو ہی اس انفیکشن سے متاثر کرتے ہیں۔‘‘

فاٹا کی طرح خیبرپختونخؤا کے زیرِانتظام قبائلی علاقوں (پاٹا) میں بھی ایچ آئی وی، ایڈز کے مریضوں کے لیے طبی مراکز موجود نہیں ہیں۔

پاٹا ریجن میں ایچ آئی وی، ایڈز کی روک تھام کے لیے کام کرنے والی تنظیم ایسوسی ایشن فار کمیونٹی ڈویلپمنٹ (اے سی ڈی) کے منیجر آصف علی کہتے ہیں کہ خلیجی ملکوں سے بے دخل کیے جانے والے محنت کشوں کے حوالے سے 2016ء میں جمع کیے جانے والے اعداد و شمار سے یہ ظاہر ہوا کہ سوات میں ایچ آئی وی، ایڈز کے مریضوں کی تعداد 34، باجوڑ ایجنسی میں  25، بونیر میں 18، مالاکنڈ ایجنسی میں 17، لوئر دیر میں 54، اپر دیر میں 21، شانگلہ میں چھ اور چترال میں ایک تھی۔ 

خیبرپختونخوا کے وزیرِ صحت شہرام ترکئی نے دسمبر 2016ء میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان میں ایک اندازے کے مطابق ایچ آئی وی، ایڈز کے مریضوں کی تعداد 97,400 ہے۔ ان میں سے قریباً 16 ہزار مریض نیشنل ایڈز کنٹرول پروگرام میں رجسٹرڈ ہیں، 2,584 حیات آباد میڈیکل کمپلیکس اور کوہاٹ ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز ہسپتال میں رجسٹرڈ ہیں اور 485 مریضوں کا تعلق فاٹا سے ہے۔ ان میں سے ایچ آئی وی، ایڈز کے 235 مریض غیر ملکی ہیں جن کی اکثریت افغان مہاجرین پر مشتمل ہے۔

ایک تحقیقی رپورٹ بعنوان ’’پاکستان میں ایچ آئی وی اور ایڈز‘‘ میں کہا گیا ہے:’’دیگر ایشیائی ملکوں کی طرح پاکستان میں بھی ایچ آئی وی کی وبا موجود ہے جس کی نشاندہی مختلف عوامل سے ہوتی ہے۔ قبل ازیں پاکستان ایک ایسا ملک شمار ہوتا تھا جہاں ایڈز کے مریضوں کی تعداد زیادہ نہیں تھی لیکن اب اس کا شمار ان ملکوں میں ہوتا ہے جہاں یہ وبا ان گروہوں میں تیزی سے پھیل رہی ہے جو اس حوالے سے خطرات کا شکار ہیں اور ایسا گزشتہ پانچ برسوں سے ہو رہا ہے۔ اگر درست طور پر سکریننگ کی جاتی ہے تو ایچ آئی وی سے متاثرہ مریضوں کی تعداد لاکھوں میں ہو سکتی ہے۔‘‘

رپورٹ میں ان رویوں کی نشاندہی بھی کی گئی ہے جن کے باعث یہ مرض نوجوانوں میں پھیل رہا ہے۔ ان میں جنسی تعلقات اور منشیات کے بارے میں تجسس، ساتھیوں کا منفی دباؤ اور پاکستان میں فروغ پذیر معاشی مایوسی وغیرہ شامل ہیں۔ رپورٹ میں دیگر عوامل کی نشاندہی بھی کی گئی ہے جن میں’’بڑے پیمانے پر غربت، مرد اور عورت میں طاقت کا عدم توازن، محنت کشوں کی ہجرت، ایچ آئی وی سے متاثرہ مریضوں کی تشخیص کا کوئی نظام موجود نہ ہونا، غیر تصدیق شدہ خون لگانا، منشیات کے عادی افراد کی تعداد میں اضافہ اور کنڈوم کے استعمال کنندگان کی کم شرح وغیرہ شامل ہیں ، متذکرہ بالا عوامل کے باعث ملک میں ایچ آئی وی، ایڈز کے تیزی کے ساتھ پھیلنے کے خطرات پیدا ہو گئے ہیں۔‘‘

فاٹا کے ڈائریکٹر ہیلتھ ڈاکٹر جواد حبیب نے نیوز لینز پاکستان سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حکام نے یونیسیف کو قبائلی علاقوں میں ایچ آئی وی، ایڈز کے مریضوں کے لیے طبی مراکز قائم کرنے میں مدد کرنے کی تجویز دی تھی۔

انہوں نے فاٹا میں ایچ آئی وی، ایڈز کے مراکز کے قیام کی راہ میں درپیش چیلنجوں کی نشاندہی بھی کی اور کہا:’’ہم اب تک ایسے طبی مراکز قائم کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ سماجی و ثقافتی رکاوٹوں کے باعث ہم اس معاملے پر پیشرفت کرنے سے قاصر رہے ہیں۔ ایچ آئی وی سے متاثرہ مریضوں کو اکثر و بیشتر اپنی ہی کمیونٹی کے منفی برتاؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔‘‘

ڈاکٹر جواد حبیب نے مزید کہا کہ کلثوم بی بی اور ایچ آئی وی، ایڈز سے متاثر ہونے والے فاٹا کے دیگر مریضوں کا پشاور اور کوہاٹ میں علاج کیا جا رہا ہے اور ممکن ہے، انہیں اپنے علاج کے لیے طویل سفر طے کرنا پڑتا ہو لیکن اس طرح وہ اپنی کمیونٹی کا سامنا کرنے سے ضرور بچ جاتے ہیں۔

Leave a Reply