اسلام آباد: گزشتہ دنوں سپریم کورٹ آف پاکستان کے پانچ ججوں کی جانب سے متفقہ طور پر منتخب وزیراعظم نواز شریف کو نااہل کرنے کے فیصلے کے بعد حکمران جماعت مسلم لیگ نواز کے لیے سیاسی مشکلات پیدا ہونے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں اور اب یہ خوف پایا جاتا ہے کہ شریف خاندان کا 30 برس پر محیط اقتدار اختتام کے قریب پہنچ چکا ہے۔

اگرچہ سابق وزیراعظم نواز شریف نے اس فیصلے کو ’’کمزور‘‘ اور ’’مبہم‘‘ قرار دیتے ہوئے اپنی نااہلی کے خلاف سپریم کورٹ میں نظرثانی رٹ دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اپنے چھوٹے بھائی شہباز شریف کو وزیراعظم کے عہدے کے لیے نامزد کیا ہے جو اس وقت ملک کے سب سے بڑے صوبے کے وزیراعلیٰ ہیں، لیکن اب بھی برسرِاقتدار جماعت میں فارورڈ بلاک تشکیل پانے کے امکانات موجود ہیں۔

نواز شریف نے جماعت کی کمان اپنے خاندان میں رکھنے کے لیے کیے جانے والے عبوری بندوبست کے تحت پارٹی کے ایک سینئر رہنما کو اس وقت تک کے لیے وزیراعظم منتخب کیا ہے تاوقیتیکہ شہباز شریف صوبائی اسمبلی سے مستعفی ہو کر قومی اسمبلی کے رُکن منتخب نہیں ہو جاتے جو ان کی جانب سے وزیراعظم کا عہدہ سنبھالنے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ تاہم، پارٹی کے سنجیدہ حلقوں کی جانب سے اس فیصلے پر تنقید کی جا رہی ہے۔

پاکستان مسلم لیگ نواز 1988ء میں پاکستان مسلم لیگ سے الگ ہوئی تھی اور اس وقت بھی شریف خاندان کا جماعت پر گہرا اثر ورسوخ تھا۔ شریف خاندان کے اقتدار کے مختلف ایام کے علاوہ جلاوطنی کے دنوں میں بھی جماعت کو بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جن میں پاکستان مسلم لیگ نواز کے ارکان کی وفاداریاں تبدیل کرنا بھی شامل ہے، خاص طور پر 2000ء میں ایسا ہوا جب شریف خاندان نے اس وقت کے فوجی آمر جنرل پرویز مشرف سے معاہدہ کر کے جلاوطنی اختیار کر لی تھی، اور پاکستان مسلم لیگ نواز کے 70 فی صد سے زائد ارکان دیگر سیاسی جماعتوں میں شامل ہو گئے تھے۔

سینئر صحافی اور سیاسی تجزیہ کار ایم ضیاء الدین کہتے ہیں:’’نواز شریف کے لیے اس وقت سب سے بڑا چیلنج جماعت کو متحد رکھنا ہے لیکن پارٹی میں ٹوٹ پھوٹ کے امکانات بھی موجود ہیں۔‘‘ انہوں نے یہ پیش گوئی بھی کی کہ آنے والے دنوں میں جماعت کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

شریف خاندان کے لیے ایک اور مشکل یہ ہے کہ وہ اس وقت احتساب عدالتوں میں بدعنوانی کے مقدمات کا سامنا کر رہا ہے اور سپریم کورٹ نے نواز شریف، ان کے دو صاحب زادوں، بیٹی، داماد اور قریبی عزیزاسحاق ڈار کے خلاف الگ سے مقدمات دائر کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں جو ان کے دورِاقتدار کے دوران وزیرِخزانہ کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے ہیں۔ 

شریف خاندان کے خلاف یہ مقدمات پاناما پیپرز میں ظاہر کی گئی آف شور کمپنیوں کے ذریعے لندن میں پرتعیش فلیٹوں کی خریداری کے لیے قانونی منی ٹریل ظاہر کرنے میں ناکامی پر قائم کیے گئے ہیں۔

دوسری جانب ماہرینِ قانون کے خیال میں سابق وزیراعظم نوازشریف کو کمزور شواہد کی بنا پر نااہل کیا گیا ہے اور اب ان خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ نواز شریف کی اقتدار سے برطرفی میں فوجی ہیئتِ مقتدرہ کارفرما ہے۔ تاہم یہ بھی واضح رہے کہ عدالت کی جانب سے شریف خاندان کو گزشتہ نو ماہ کے دوران لندن میں خریدی گئی جائیدادوں کی قانونی منی ٹریل ظاہر کرنے کے لیے بہت زیادہ وقت دیا گیا تھا لیکن وہ ایسا کرنے میں ناکام رہا۔

سینئر صحافی اور سیاسی تجزیہ کار حامد میر کہتے ہیں کہ اس فیصلے پر مختلف ادارے عملدرآمد کروانے کے ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے مزید کہا:’’عدالتی فیصلے کے باعث پاکستان مسلم لیگ نواز اور نواز شریف کے لیے مشکلات پیدا ہو گئی ہیں۔ ان کو ناصرف پارٹی قیادت سے مستعفی ہونا پڑا ہے بلکہ پارٹی صدارت کے عہدے کے لیے اپنی جگہ کسی اور کو نامزد کرنا ہے۔ اور اس کے ساتھ ہی نواز شریف کو اگلے انتخابات کے انعقاد تک پارٹی اتحاد اور مقبولیت برقرار رکھنے کے لیے جدوجہد کرنے کی ضرورت بھی ہے۔‘‘
سینئر قانون دان عابد حسن منٹو مذکورہ فیصلے کو انتہائی کمزور قرار دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں:’’ فیصلے میں موجود تضادات ’’پریشان کن‘‘ ہیں، انہوں نے زور دیا کہ شریف خاندان کو سپریم کورٹ کے فیصلے اور نواز شریف کی نااہلی کے خلاف عدالت کا رُخ کرنا چاہئے، عابد حسن منٹو کی رائے میں یہ فیصلہ انتہائی غیرسنجیدہ ہے۔

نواز شریف نے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اپنی نااہلی کے بارے میں کہا:’’عدالت نے مجھے بے وجہ نااہل قرار دیا ہے۔ انہوں نے مجھے اس بنا پر نااہل قرار دیا ہے کیوں کہ میں نے اپنے بیٹے کی کمپنی سے تنخواہ وصول نہیں کی۔ اوریہ دنوں کی بات ہے جب ہم جلاوطنی کی زندگی گزار رہے تھے اور یہ ملازمت میں نے محض یہ رسمی کارروائی پورا کرنے کے لیے کی تاکہ برطانیہ کا ویزا آسانی کے ساتھ مل سکے اور اس بنا پر ہی میرے بیٹے نے متحدۂ عرب امارات میں کمپنی قائم کی۔‘‘ انہوں نے مزید کہا:’’اگر آپ کے خیال میں یہ ایک سنجیدہ نوعیت کا جرم ہے تو اس صورت میں میَں مجرم ہوں۔ یہ صورتِ حال انتہائی تکلیف دہ ہے۔ اس ملک میں ایسے لوگوں کی تعداد ہزاروں میں ہے جو ٹیکس چوری کرتے ہیں یا خود کو احتساب کے لیے پیش کرنے کے حوالے سے پس و پیش کرتے ہیں تو اس صورت میں صرف میرا خاندان ہی کیوں نشانے پر ہے۔‘‘

نواز شریف کی نااہلی کی مدت کے حوالے سے بھی تنازع زیرِگردش ہے۔ بہت سے قانونی ماہرین یہ حقیقت تسلیم کرتے ہیں کہ نااہلی کی مدت کے حوالے سے قانون واضح نہیں ہے، اگرچہ وہ یہ دلیل دیتے ہیں کہ عام حالات میں یہ نااہلی تاحیات ہوتی ہے۔ سپریم کورٹ نے نواز شریف کو اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کی شق 62 کی خلاف ورزی پر نااہل قرار دیا ہے جس کے تحت ایک رُکن قومی اسمبلی کو اس وقت نااہل قرار دیا جاتا ہے جب وہ ’’صادق‘‘ اور ’’امین‘‘ نہ رہے۔ عدالت نے نواز شریف کی جانب سے متحدۂ عرب امارات کی کمپنی سے تنخواہ وصول نہ کرنے پر متفقہ طور پر ان کے خلاف یہ فیصلہ دیا ہے جو وہ وصول کرنے کے حقدار تھے لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ عدالت یہ یقین رکھتی ہے کہ نواز شریف نے مذکورہ کمپنی سے تنخواہ وصول نہیں کی لیکن انہوں نے الیکشن کمیشن میں جمع کروائے گئے اپنے کاغذاتِ نامزدگی میں اپنی اس حیثیت کا ذکر نہیں کیا جس کے باعث وہ ’’صادق و امین‘‘ نہیں رہے۔

سیاسی تجزیہ کار رضا رومی کہتے ہیں:’’بظاہریہ دکھائی دیتا ہے کہ نواز شریف اور عسکری ہیئتِ مقتدرہ میں گزشتہ چار برسوں سے محاذ آرائی جاری ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا:’’نواز شریف کا حقیقی جرم یہ ہے کہ انہوں نے آئین کی خلاف ورزی پر سابق فوجی سربراہان میں سے ایک کے خلاف قانونی کارروائی کی۔ وہ یہ استفسار کرتے ہیں کہ کیا فوج کی سیاسی عمل میں براہِ راست مداخلت کے امکانات کم ہونے کی وجہ نواز شریف کی مضبوط سیاسی ساکھ یا سیاست دانوں کی بڑھتی ہوئی طاقت اور آئینی بندوبست ہے؟
پاکستان مسلم لیگ نواز کے پارٹی رہنماء اپنے سیاسی تاثر کی بحالی اور 2018ء کے انتخابات کے لیے عوامی ہمدردی حاصل کرنے کے لیے بھی کوشاں ہیں۔ پارٹی کے سینئر رہنماء خواجہ سعد رفیق کہتے ہیں کہ یہ عزم و حوصلے سے موجودہ حالات کا مقابلہ کرنے کا وقت ہے۔ انہوں نے یہ انکشاف بھی کیا کہ پارٹی میں نیا سماجی معاہدہ تشکیل دینے پر بات چیت ہوئی ہے کہ کون ملک کا حقیقی حکمران ہو گا جب کہ محکموں کے معاملات میں غیر قانونی مداخلتوں کو روکنے کے معاملات وغیرہ بھی زیرِبحث آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف جمہوریت دشمنوں کے خلاف ایک طاقت کے طورپر ابھریں گے۔

نواز شریف کے رویے سے کوئی پشیمانی، افسردگی یا غصہ ظاہر نہیں ہوتا۔ انہوں نے یہ اعتراف کیا کہ گزشتہ ربع صدی کی جدوجہد کے باعث وہ ایک نظریہ ساز کے طورپر ابھرے ہیں۔ ان کی جدوجہد کا انداز اب مختلف ہو گا۔ وہ پہلے ہی اپنے اور پارٹی کے لیے درپیش چیلنجوں کو پاکستان میں جمہوریت کے لیے خطرہ قرار دے رہے ہیں۔ اگرچہ وہ محاذ آرائی سے گریز کر رہے ہیں اور بظاہر اپنی مدد کے لیے فکری ہتھیار استعمال کر رہے ہیں جیسا کہ وہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ ریاستی اداروں کا احترام کرتے ہیں۔ اگلے چند ہفتوں کے دوران یہ واضح ہو جائے گا کہ نواز شریف اور ان کی جماعت اس ساری صورتِ حال سے کس طرح پیش آئے گی۔
نواز شریف کہتے ہیں کہ وہ موت سے خوف زدہ نہیں ہیں، انہوں نے مزید کہا:’’میں ایک پاکستانی سپاہی ہوں جو اپنی ذمہ داریاں پوری تندہی سے ادا کررہا ہے اور میں پاکستان میں قانون اور جمہوریت کی عملدآری کے لیے اپنی یہ جدوجہد جاری رکھوں گا۔‘‘ ایک بے خوف شخص خطرناک دشمن ہوتا ہے۔ اگر پاکستان مسلم لیگ نواز اپنے پتے درست طور پر کھیلتی ہیں تو وہ آئندہ انتخابات میں کامیابی حاصل کر سکتی ہے۔

Leave a Reply