کراچی: سپریم کورٹ کی جانب سے خواجہ سرائوں کے حق میں فیصلہ دیے سات برس گزر چکے ہیں۔ تاہم ملک کے خواجہ سرائوں کو اب بھی تکنیکی و قانونی رکاوٹوں کے باعث کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈز (سی این آئی سی) کے حصول میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔

2009ء میں پاکستان کی سپریم کورٹ نے قومی شناختی کارڈمیں تیسری صنف کا خانہ شامل کرنے کے واضح احکامات جاری کیے تھے اور یہ حکم دیا تھا کہ خواجہ سرائوں کو یکساں حقوق حاصل ہیں۔ بدقسمتی تو یہ ہے کہ عدالتی احکامات کے باوجود بھی افسرِشاہی اور مجموعی طورپر سماج کی جانب سے خواجہ سرائوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے امتیازی رویے کا خاتمہ نہیں ہوا۔

وزارتِ داخلہ کا ماتحت ادارہ نیشنل ڈیٹابیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا)شہریوںکے لیے شناختی کارڈ بنانے کا ذمہ دار ہے جس نے 2012ء میں خواجہ سرائوں کے لیے شناختی کارڈ میں تیسری صنف کا خانہ شامل کردیا تھا لیکن پالیسی سازی اور قانونی حوالوں سے درپیش رکاوٹوں کے باعث خواجہ سرائوں کو شناختی کارڈز کے حصول میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔

جینڈر انٹرایکٹو الائنس ( جی آئی اے) کی صدر اور خواجہ سرابندیا رانا نے نیوز لینز پاکستان سے مایوسی کے عالم میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ریاست درحقیقت سپریم کورٹ کے احکامات پر عمل نہیں کرنا چاہتی جس کے باعث نادرا کی جانب سے اعتراضات لگا ئے جا رہے ہیں جنہیں دور کرناخواجہ سرائوں کے لیے عملی طورپر ناممکن ہے۔

انہوں نے کہا:’’ نادرا کے اہل کار اکثر و بیشتر حلف نامہ، سرٹفیکیٹ اور عدالتی احکامات وغیرہ لانے کا کہتے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ہمیں قومی شناختی کارڈ جاری نہیں کرنا چاہتے۔ ‘‘ انہوں نے استفسار کیا کہ کیا ملک بھر میں ایک ہی پالیسی پر عمل کیا جارہا ہے کیوں کہ ان کے علم میں یہ بات آئی ہے کہ مختلف مراکز پر نادرا کے اہلکار قومی شناختی کارڈ کے حصول کے لیے مختلف شرائط بتارہے ہیں؟

2009ء میں سپریم کورٹ کے تین رُکنی بنچ نے اس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سر براہی میں یہ تاریخ ساز فیصلہ دیا تھا کہ خواجہ سرائوں کو بھی وہ تمام حقوق حاصل ہیں جن کی ضمانت آئین کے تحت ملک کے دیگر تمام شہریوں کو دی گئی ہے۔ عدالت نے یہ بھی کہا تھا کہ یہ حقوق والدین کی وفات کے بعد صرف وراثت تک ہی محدود نہیں ہیں بلکہ ان میں ملازمت کے مواقع، تعلیم اور صحت کی سہولیات کی بلامعاوضہ فراہمی بھی شامل ہے۔

بندیا رانا کے مشاہدے کے مطابق خواجہ سرا یہ یقین رکھتے ہیں کہ ان کے حقوق کی ضمانت صرف کاغذوں میں ہی دی گئی ہے اور عملی طورپر کوئی اقدامات نہیں کیے جا رہے کیوں کہ وفاقی حکومت اور صوبائی محکمۂ ویلفیئر کو اب بھی سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد کرنا ہے۔

وہ مزید کہتی ہیں:’’ ان وجوہات کے باعث خواجہ سرا اب بھی سماج کی جانب سے امتیازی سلوک کا سامنا کررہے ہیں۔ ان کی گزر بسر کا انحصار بڑی حد تک شادی بیاہ اور بچوں کی پیدائش کے مواقع پر ناچنے گانے پہ ہے۔ ان کے ساتھ کچھ ایسا سلوک روا رکھا جارہا ہے، گویا وہ صرف جنسی سرگرمیاں انجام دینے کے لیے ہی رہ گئے ہیں اور اکثر اوقات انہیں بدترین تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔‘‘

نادرا ہیڈکوارٹرز سے منسلک ایک افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر، کیوں کہ ان کو میڈیا سے بات کرنے کی اجازت نہیں ہے، نیوز لینز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کو (نادرا افسران) قانون اور پالیسیوں پر عمل کرنا پڑتا ہے جس کے باعث اگر والدین کا

ریکارڈ دستیاب نہیں ہے تو وہ قومی شناختی کارڈ جاری نہیں کرسکتے تاوقتیکہ درخواست گزار عدالت سے حاصل کردہ سرٹفیکیٹ پیش نہیں کردیتا۔

مذکورہ افسر نے مزید کہاکہ یہ ایک عمومی پالیسی ہے اور اس کا اطلاق تمام شہریوں پہ ہوتاہے جن میں خواجہ سرا بھی شامل ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں مذکورہ افسر نے کہا:’’ اگر گورو ( خواجہ سرائوں کے خاندان کا سربراہ) کو سرپرست مان بھی لیا جائے تو گورو کی تبدیلی کی صورت میں کیا ہوگا؟‘‘

نادرا آرڈیننس کی شق 9(1)کے تحت نادرا پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اندرونِ یا بیرونِ ملک رہنے والے ہر اس پاکستانی شہری کا اندراج کرے جو18برس کی عمر تک پہنچ چکا ہو۔ والد یا سرپرست پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ بچے کی پیدائش کے بعد ایک ماہ کے اندر اندر اس کا اندراج کروا دے۔

بندیا رانا نے تجویز دی کہ نادرا گورو کو سرپرست کے طورپر تسلیم کرے اور حلف نامہ جمع کروانے پر شناختی کارڈ جاری کیا جاسکتا ہے۔ تاہم نادرا کے افسر کا خیال ہے کہ اگر حلف ناموں پر شناختی کارڈجاری کیے جانے لگیں گے تو بدنظمی پیدا ہوجائے گی اور گورو کی تبدیلی کی صورت میں بہت سی پیچیدگیاں پیدا ہوسکتی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی شناختی کارڈ کے حصول میں مدد فراہم کرنے کے لیے کوئی بھی گورو ہونے کا دعویٰ کرسکتا ہے۔

بندیا رانا نے تاسف سے کہا:’’ بہت سے خواجہ سرائوں نے کم عمری میں ہی اپناگھر بار چھوڑ دیا یا ان کے خاندانوں نے انہیں قبول نہیں کیا جس کے باعث انہیں اپنے والدین کے بارے میں کچھ یاد نہیں ہے۔ ان حالات میں وہ اپنے والدین کا ریکارڈ کس طرح پیش کرسکتے ہیں؟‘‘ انہوں نے یہ نشاندہی بھی کی کہ اگر پالیسی میں ہی کوئی تبدیلی نہیں آئی تو اس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے احکامات پر خواجہ سرائوں کو کیوں کر شناختی کارڈ جاری کیے جائیں گے؟

پاکستان میں 1998ء میں ہونے والی آخری مردم شماری کے مطابق پاکستان میں52.03فی صد مرد اور 47.97فی صد خواتین ہیں اور ملک کی مجموعی آبادی 130,857,717نفوس پر مشتمل ہے۔ رپورٹس کے مطابق اس مردم شماری میں خواجہ سرائوں کو الگ شمار نہیں کیا گیا تھا۔ سول سوسائٹی، غیر سرکاری تنظیموں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کی کوششوں کے باعث پنجاب بیورو برائے شماریات نے خواجہ سرائوں کو مردم شماری میں شامل کرنے کا فیصلہ کرلیاہے۔ اس کے ساتھ ہی وزارتِ انسانی حقوق پنجاب نے یہ اعلان بھی کیا ہے کہ اس مردم شماری میں خواجہ سرائوںکو سپریم کورٹ کے 2012ء میں دیے جانے والے احکامات کے تحت الگ شمار کیا جائے گا۔

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے نائب صدر اور پاکستان بار کونسل کے رُکن شبیر شر نے نیوز لینز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ نادرا حکام سپریم کورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی کررہے ہیں کیوں کہ عدالت نے خواجہ سرائوں کو شناختی کارڈ جاری کرنے کے حوالے سے واضح ہدایات جاری کی تھیں۔

نادرا کے افسر کہتے ہیں کہ وہ قومی شناختی کارڈ میں تین کالم ‘‘خواجہ سرا، مرد اور عورت‘‘ شامل کرچکے ہیں اور جو کوئی بھی خود کو مرد یا عورت کے خانے میں شامل نہیں کروانا چاہتا تو اس کااندراج تیسرے خانے میں کیا جاسکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا:’’ نادرا کو صنف کی تصدیق کے لیے کسی قسم کا سرٹفیکیٹ درکار نہیں ہے۔ درخواست گزار کا نادرا کے دفتر میں حکام کے روبرو صرف اس بارے میں بتانا ہی کافی ہے۔‘‘

شبیر شرکہتے ہیں کہ خواجہ سرائوں کو سپریم کورٹ میں توہینِ عدالت کی درخواست جمع کروانی چاہئے ، انہوں نے خواجہ سرائوں کے لیے بلامعاوضہ مقدمہ لڑنے کی پیشکش بھی کی۔ انہوں نے مزید کہا:’’خواجہ سرا سماج کا سب سے زیادہ نظرانداز ہونے والا طبقہ ہے اور نادرا کی افسرِ شاہی کو ان کی مشکلات کو پیشِ نظر رکھنا چاہئے۔‘‘

بندیا رانا کہتی ہیں کہ پاکستان میں خواجہ سرائوں کی آبادی تقریباًپانچ لاکھ ہے۔ لیکن بہت سے خواجہ سرا ایسے ہیں جو اب بھی اپنے والدین کے ساتھ رہ رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ ملک کے خواجہ سرائوں کا ایک اتحاد قائم کرنے پر کام کررہی ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ بھی کیا کہ اگر خواجہ سرائوں کو سپریم کورٹ آف پاکستان کے احکامات کے مطابق حقوق نہیں دیے جاتے تووہ حکومت کے خلاف توہینِ عدالت کی رٹ دائر کریں گی۔

Leave a Reply