کوئٹہ (عبدالمالک اچکزئی سے) بلوچستان، جو رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے، قدرتی وسائل سے مالامال ہے لیکن صوبے میں جاری شورش، فرقہ ورانہ تشدد اور طالبان عسکریت پسندی نے مزدوروں اور ہنرمندوں کی گزربسر پر سنجیدہ نوعیت کے اثرات مرتب کیے ہیں۔
ماہرین کہتے ہیں کہ دیدہ زیب کشیدہ کاری سے آراستہ بلوچ اور پشتون ثقافتی مصنوعات کو اگر کھلی منڈیوں میں فروخت کے لیے پیش کیا جائے تو اس سے خواتین کے معاشی حالات بہتر ہوں گے کیوں کہ ان کی تعلیم کے حصول اور فیصلہ سازی کے عمل میں شرکت کے حوالے سے حوصلہ افزائی نہیں کی جاتی ۔ 
27برس کی عائشہ گل نے گورنمنٹ گرلز کالج پشین سے ایف اے کرنے کے بعد اپنے تعلیمی سلسلے کو خیرباد کہہ دیا۔ وہ اور ان کی بڑی بہن نے کڑھائی سیکھنے کا فیصلہ کیا جس میں قندھاری، بلوچی، سندھی اور دیگر ڈیزائن شامل تھے۔ 
انہوں نے نیوز لینز پاکستان سے بات کرتے ہوئے کہا:’’ میَں نے تعلیمی سلسلے کو اس لیے خیر باد کہا کیوں کہ میرے والد تعلیمی اخراجات برداشت نہیں کرسکتے تھے اور ہمارا کوئی بڑابھائی نہیں ہے جو ملازمت کرتاجس کے باعث میں نے سوچا کہ پیشہ ورانہ تربیت عملی تعلیم کی ہی ایک قسم ہے اور یہ کمائی کا ایک ذریعہ ثابت ہوگی۔‘‘
عائشہ کے والد کی محلے میں ایک چھوٹی سی دکان ہے جس سے بہت کم آمدن ہوتی ہے چناں چہ عائشہ اور اس کی بہنیں کپڑوں، چادروں، ڈوپٹوں، اور مردوں و عورتوں کے عروسی ملبوسات پر کڑھائی کرتی ہیں۔
خواتین سیلز ایجنٹ ڈیزائن اور کپڑے ( مردوں اور خواتین کے) ، ضرورت کے مطابق دھاگے، رنگ اور شیشے فراہم کرتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا:’’ ہم مقرر کی گئی ڈیڈ لائن میں کام مکمل کرلیتے ہیں۔ ہم اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے جس قدر محنت کرتے ہیں تو اس کا معاوضہ بھی اسی قدر زیادہ ملتا ہے۔ میں نے حال ہی میں ایک ماہ میں ایک جوڑا مکمل کیا ہے جس کی قیمت 10ہزار روپے ہے۔‘‘
سیلز ایجنٹ ہنرمندوں کو نصف رقم ادا کرتے ہیں جب کہ باقی رقم سیلز ایجنٹ اور بیوپاری میں تقسیم ہوجاتی ہے کیوں کہ پشین سے براہِ راست خریداری نہیں کی جاتی۔ کڑھائی سے آراستہ یہ جوڑے بعدازاں کوئٹہ، اسلام آباد اور کراچی کے بازاروں میں فروخت ہوتے ہیں۔
عائشہ نے کہا:’’ ہم آگاہ نہیں ہیں کہ بازار میں وہ ملبوسات کس قیمت پر فروخت ہوتے ہیں جن پر ہم کڑھائی کرتے ہیں؛ہمیں تو اصل قیمت کا معمولی سا حصہ ملتا ہے؛ اگرچہ ہماری محنت سب سے زیادہ ہوتی ہے اور ہم ہر جوڑے پر وقت اور توانائیاں صرف کرتی ہیں جس پر اکثر و بیش کئی کئی ہفتے اور مہینے لگ جاتے ہیں۔‘‘
ایک سیلز ایجنٹ رخسانہ بی بی نے نیوز لینز پاکستان سے بات کرتے ہوئے کہا کہ عائشہ کی طرح کی ہزاروں لڑکیاں کشیدہ کاری کے مقامی و علاقائی کاروبارسے منسلک ہیں۔ ان کا کہنا تھا:’’ ہم بازار سے آرڈر وصول کرتے ہیں اور اس کے بعد گھروں میں کام کرنے والے ان ہنرمندوں ، جن میں اکثریت خواتین کی ہوتی ہے، کے ساتھ معاملات طے کرتے ہیں اور بعدازاں جب آرڈرز مکمل ہوجاتے ہیں تو ان کو مقامی، صوبائی اور قومی مارکیٹوں میں فروخت کے لیے بھیج دیا جاتا ہے۔‘‘
18برس کی انارہ بی بی سے جب استفسار کیا گیا کہ کیا وہ کڑھائی کرنے کی بجائے سکول جانا پسند کرتی ہے؟ تو اس نے مسکراتے ہوئے جواب دیا:’’ ہم اس قدر خوش قسمت نہیں ہیں کہ ڈاکٹر یا استاد بن سکیں، لیکن ہم اپنا وقت گھریلوپیشوں جیسا کہ کشیدہ کاری، سلائی اور کٹائی کرکے گزارتی ہیں اور اس طریقے سے اپنے خاندان کے لیے کچھ نہ کچھ کمانے کے قابل ہوجاتی ہیں۔‘‘
راغیہ بی بی، ماسٹر ٹرینر اور سیلز ایجنٹ ہیں، نے ان ثقافتی ملبوسات کو مقامی اورعلاقائی مارکیٹوں میں فروخت کرنے کا کاروبار شروع کیا ہے۔ انہوں نے نیوزلینز پاکستان سے بات کرتے ہوئے کہا:’’ میَں سبی فیسٹیول میں شریک تھی تو کشیدہ کاری سے آراستہ ایک نمونہ فروخت کرکے 30ہزار روپے کمائے جو میَں نے قبل ازیں ہنرمندوں سے آرڈر پر بنوایا تھا۔‘‘
پشتون اوربلوچی کشیدہ کاری علاقائی اور مغربی ممالک میں بہت زیادہ مقبول ہے۔ راغیہ نے مزید کہا:’’ میں نے پشتو، قندھاری اور افغانی کشیدہ کاری سے آراستہ نمونوں کی اسلام آباد کے لوک ورثہ، یہ لوک اور روایتی ورثے کے فروغ کے لیے قائم کیا گیا ایک ادارہ ہے، میں سارک کے کشیدہ کاری کے سٹالز پر نمائش کی۔‘‘
سماجی اور خواتین کے حقوق کی کارکن عابدہ کاکڑ نے نیوز لینز پاکستان سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مقامی خواتین کی قومی مارکیٹ میں کوئی جگہ نہیں رہی ۔ غیر سرکاری تنظیم نے ان ہنرمندوں اور مارکیٹ کے درمیان پل کا کردار ادا کیا ہے۔
انہوں نے کہا:’’ میَں نے صورتِ حال کا جائزہ لیا اور اب خواتین ہاتھ سے بنائے گئے نمونوں کو مختلف مارکیٹوں میں فروخت کے لیے بھیجتی ہیں جس کے باعث ان کی ماہانہ آمدن بڑھ گئی ہے۔ وہ اس سے قبل مقامی مارکیٹ میں کم قیمت پر اشیاء فروخت کرنے پر مجبور تھیں۔‘‘
لیاقت بازار میں کشیدہ کاری سے آراستہ ملبوسات اور دیگر اشیا فروخت کرنے والے تاجر احسان اللہ نے نیوز لینز پاکستان سے بات کرتے ہوئے کہا:’’ پشتون اور بلوچ ثقافتی کڑھائی نہ صرف صوبے بلکہ پاکستان بھر میں مقبول ہے۔ ہم بازار میں کشیدہ کاری سے آراستہ نمونے پانچ ہزار روپے سے لے کر 20ہزار روپے تک میں فروخت کرتے ہیں۔‘‘
ایک سماجی کارکن سلمیٰ بلوچ نے نیوز لینز پاکستان سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کشیدہ کاری کرنے والی بلوچ خواتین عالمی سطح پر پسند کیے جانے والے اپنے کام کی درست قیمت کے متعلق آگاہ نہیں ہیں۔ مقامی مارکیٹوں میں دکاندار اور خرید و فروخت کرنے والے ایجنٹ بلوچ ثقافت کے نمائندہ کشیدہ کاری کے ان نمونوں سے ایک بڑا معاوضہ حاصل کرتے ہیں۔
وومن چیمبر آف کامرس کوئٹہ شاخ کی صدر آریانہ کاسی نے نیوز لینز پاکستان سے بات کرتے ہوئے کہا:’’ ہماری خواتین باصلاحیت اور ہنرمند ہیں لیکن ان کی مارکیٹ تک رسائی نہیں ہے جس کے باعث ان کو ان کے کام کا بہت کم معاوضہ ادا کیا جاتا ہے اور سیلز ایجنٹ کشیدہ کاری کے کام کی قیمتوں کا ایک بڑا حصہ وصول کرتے ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کو خواتین ہنرمندوں کے اوپن مارکیٹ سے روابط فروغ دینے کے لیے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اس سے نہ صرف بلوچ خواتین بااختیار ہوں گی بلکہ معیشت بھی ترقی کرے گی۔ 
مزیدبرآں سماجی اور ثقافتی رکاوٹوں کے باعث خواتین کے اوپن مارکیٹ سے رابطے قائم کرنے میں دشواری پیش آتی ہے۔ انہوں نے کہا:’’ جب تک ہم ان رکاوٹوں پر قابو نہیں پاتے تو ہم صوبے میں ایک ترقی یافتہ معیشت کی بنیاد نہیں رکھ سکتے کیوں کہ خواتین کی آبادی مردوں کا نصف ہے؛ ان کی کاروباری سرگرمیوں میں شراکت کی شرح مردوں کے برابر ہونی چاہیے۔‘‘
سماجی اور خواتین کے حقوق کی کارکن عابدہ کاکڑ نے کہا:’’ صرف پشین اور کوئٹہ کے اضلاع مقامی، علاقائی اور قومی مارکیٹوں سے منسلک ہیں۔ بلوچستان کے 32اضلاع کے پاس اس قدر وسائل ہیں کہ وہ اپنے استعمال کے لیے کشیدہ کاری کرسکیں۔ اگر ان شہروں کو مرکزی دھارے کی مارکیٹ کے ساتھ جوڑ دیا جاتا ہے تو بلوچستان کے عوام بڑی مقدار میں سرمایہ حاصل کرنے کے قابل ہو جائیں گے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ پیشہ ورانہ تربیت کے ادارے اور آگاہی بلوچستان میں کشیدہ کاری کے کاروبار کو فروغ دینے کا ذریعہ ہے۔عابدہ کاکڑ نے مزید کہا:’’ حکومت اور خواتین کے حقوق ومعاشی استحکام کے لیے کام کرنے والی سماجی تنظیموں کو اس جانب توجہ دینا ہوگی۔‘‘
لسانیت کے مضمون میں ایم ایس کے طالب علم نصیر احمد کاکڑ نے نیوز لینز پاکستان سے بات کرتے ہوئے کہا:’’ صوبہ میں امن و امان کے ابتر حالات کے باعث سماجی و معاشی مسائل کی بجائے ہماری توجہ عسکریت پسندی کی جانب مبذول ہوگئی ہے‘ پشتونوں اور بلوچوں کے ثقافتی ملبوسات اس کی ایک مثال ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ایک قوم کی بقاء اسی صورت میں ممکن ہوسکتی ہے جب اس کی زبان، ثقافت اور تاریخ کو محفوظ کیا جائے۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.