پشاور: شہری ٹرانسپورٹ کے ماہرین کہتے ہیں کہ پشاور میں مسافروں کوبہتر سفری سہولیات فراہم کرنے کے لیے 49ارب روپے سے بس ریپڈ ٹرانسپورٹ (بی آر ٹی) کے منصوبے کے ابتدائی خاکے میں بہت سی تکنیکی خامیاں موجود ہیں اور یہ منصوبہ پانچ لاکھ سے زائد مسافروں کو سفری سہولیات فراہم کرنے کے اپنے مقصد میں ناکام ہوسکتا ہے۔ 

منصوبے کے ابتدائی خاکے کے مطابق بس ریپڈ ٹرانسپورٹ کا نظام شہر کی مجموعی آبادی کے 17فی صد یا پانچ لاکھ مسافروں کو سفری سہولیات فراہم کرے گا۔ خیبرپختونخوا کے وزیرٹرانسپورٹ شاہ محمد خان نے نیوز لینزپاکستان سے بات کرتے ہوئے کہا کہ منصوبے پر خرچ کیے جانے والے فنڈز ایشین ڈویلپمنٹ بنک کی جانب سے سافٹ لون کے طورپر فراہم کیے جائیں گے۔ 

تاہم خیبرپختونخوا کے محکمۂ ٹرانسپورٹ سے منسلک ماہرین نے بی آر ٹی کے ابتدائی ڈیزائن پر تحفظات کا اظہار کیا ہے اور اس میں تبدیلیوں کا مطالبہ کیا ہے۔

بی آرٹی منصوبے کا جائزہ لینے والے ایک ماہر کہتے ہیں کہ اس کا ڈیزائن شہرمیں ٹریفک کے موجودہ نظام سے ہم آہنگ نہیں ہے۔
مذکورہ ماہر نے، نام ظاہر نہ کرنے کی خواہش پر کیوں کہ ان کو میڈیا سے بات کرنے کی اجازت نہیں ہے، نیوز لینز پاکستان سے بات کرتے ہوئے کہا:’’بی آر ٹی کا نظام اگر ٹریفک کے موجودہ نظام سے ہم آہنگ نہیں ہوتا توٹرانسپورٹ کمپنیاں بی آرٹی منصوبے پر عملدرآمد کی راہ میں رکاوٹ ثابت ہوں گی جو اس وقت شہر کی سڑکوں پہ گاڑیاں چلا رہی ہیں اور یوں مسافروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔‘‘

نیوز لینز پاکستان کو حاصل ہونے والے بی آرٹی کے ابتدائی ڈیزائن کے تحت نو میٹراور 12میٹر لمبائی کی 350بسیں چلائی جائیں گے اور اس مقصد کے لیے شہر بھر میں 35سٹیشن قائم کیے جائیں گے۔ پراجیکٹ کے پروپوزل میں کہا گیا ہے کہ چھوٹی بسیں بی آرٹی کے کاریڈور سے باہرچلیں گی جب کہ لمبی بسیں جی ٹی روڈ سے متصل کاریڈور میں چلائی جائیں گی۔ بی آرٹی کاریڈور کی لمبائی 27کلومیٹر ہوگی۔ اگر بسوں کی تعداد مسافروں کی سفری ضروریات پورا کرنے میں ناکام رہیں تو 19میٹر لمبی مزید بسیں طائفے میں شامل کی جاسکتی ہیں۔

ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ ٹریفک پولیس رحیم حسین کہتے ہیں کہ بی آر ٹی منصوبے سے شہر بھر میں ٹریفک کے بہاؤ پرمنفی اثرات مرتب ہوں گے۔ ٹریفک حکام ان روٹس سے ٹریفک کا رُخ موڑنے کا منصوبہ تشکیل دے چکے ہیں جہاں بی آرٹی کاریڈور قائم کیاجائے گا۔

انہوں نے نیوز لینز پاکستان سے بات کرتے ہوئے کہا:’’ ہم نے حکومت کو شہر بھر میں متعدد چھوٹی سڑکیں تعمیر کرنے کی تجویز دی ہے تاکہ بی آرٹی کاریڈورکی تعمیر کے بعد ٹریفک کا رُخ ان سڑکوں کی جانب موڑاجاسکے۔‘‘

دنیا بھر میں ٹرانسپورٹ کی معیاری سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے کام کرنے والی امریکا کی غیر سرکاری تنظیم انسٹی ٹیوٹ آف ٹرانسپورٹیشن اینڈ ڈویلپمنٹ پالیسی کی جانب سے بی آرٹی نیٹ ورکس کے لیے عالمی رہنماء معیارات تشکیل دیے گئے ہیں۔

ان معیارات کے تحت بی آرٹی نظام کا ہر ابتدائی ڈیزائن لازمی طورپر ٹریفک کے موجودہ نظام سے ہم آہنگ ہونا چاہئے۔ 

ان معیارات کے تحت بی آرٹی کے کسی بھی نئے نظام کو ’’ پبلک ٹرانسپورٹ کے دیگر نیٹ ورکس سے مطابقت رکھنی چاہئے۔‘‘
پشاور میں اس وقت مسافرپانچ مختلف طرح کی سواریاں استعمال کررہے ہیں جن میں بسیں، منی بسیں، ویگنیں، ٹیکسیاں اور رکشے شامل ہیں۔

محکمۂ ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ سے منسلک بی آرٹی کے پراجیکٹ ڈائریکٹر سجاد خان کہتے ہیں کہ انہوں نے ٹریفک کے موجودہ نظام کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کرنے کے علاوہ بی آر ٹی منصوبے پر عملدرآمد کے دوران موجودہ ٹریفک کو منتظم کرنے کے لیے منصوبہ تشکیل دے دیاہے۔

بی آر ٹی منصوبے کے حوالے سے کچھ دکان داروں نے بھی تحفظات کا اظہار کیا ہے کیوں کہ ابتدائی ڈیزائن تخلیق کرتے ہوئے ان سے کوئی مشاورت نہیں کی گئی۔

سجاد خان کہتے ہیں کہ اس حوالے سے دکان داروں کے ساتھ مشاورت کی گئی ہے اور بی آرٹی انتظامیہ کی جانب سے تشکیل دیے گئے منصوبے کے تحت ان کی دکانیں شہر کے دیگر مقامات پر منتقل کردی جائیں گی۔ انہوں نے مزید کہا:’’بی آر ٹی کے حتمی ڈیزائن میں تمام تر تبدیلیوں اور تفصیلات کے بارے میں معلومات جلد فراہم کر دی جائیں گی۔‘‘

سجاد خان کا کہنا تھا کہ بی آرٹی کے ابتدائی ڈیزائن میں یہ ذکر بھی کیا گیا ہے کہ اگر بی آر ٹی کے روٹ کی راہ میں سرکاری عمارتیں آتی ہیں تو سکیورٹی خدشات کے باعث یہ منصوبہ متاثر ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا:’’سرکاری عمارتوں کے ساتھ بی آرٹی کی تعمیر کے لیے تمام سٹیک ہولڈرز سے نو آبجیکشن سرٹفیکیٹ حاصل کیا جاچکا ہے جن میں سکیورٹی ادارے بھی شامل ہیں۔‘‘

خیبرپختونخوا ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کے نمائندے ٹرانسپورٹ حکام اور دیگر حکومتی نمائندوں کے ساتھ ٹرانسپورٹ کے موجودہ نظام کے حوالے سے بہت سی ملاقاتیں کرچکے ہیں۔

تنظیم کے صدر خان زمان کہتے ہیں کہ ٹرانسپورٹ کمپنیوں نے حکومت کے ساتھ اپنی ملاقاتوں میں شہر کے دیگر روٹس پر بسیں چلانے پر اتفاق کیا ہے جن میں شہری و دیہی علاقے بھی شامل ہیں۔

انہوں نے نیوز لینز پاکستان سے بات کرتے ہوئے کہا:’’ ہم نے ابتدا میں بی آرٹی منصوبے کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا تھا لیکن اب حکومت نے ہمیں یہ یقین دہانی کروائی ہے کہ ان کی بسیں بی آر ٹی کے طائفے میں شامل کرلی جائیں گی۔‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے اس حوالے سے رسمی طورپہ احتجاج کیا تھا کیوں کہ یہ ساری تفصیلات بی آر ٹی کے ابتدائی ڈیزائن میں شامل نہیں تھیں۔

خان زمان نے کہا کہ حکومت نے ٹرانسپورٹ کمپنیوں کو یہ یقین دہانی کروائی ہے کہ حکومت نئی بسیں خریدنے کے لیے ان کی معاشی مدد بھی کرے گی۔

Leave a Reply