لیہ میں ایک ایسا سکول بھی موجود ہے جوشدید سردی میں کھلے آسمان تلے جھونپڑی بنا کر علم کے روشنی پھیلانے کے لیے کوشاں ہے بغیر چھت کے سکول کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ سکول وزیر اعلی پنجاب کے ایڈوائزر سید رفاقت گیلانی کے حلقہ میں واقع ہے
پاکستان تحریک انصاف نے الیکشن کمپین کے دوران ووٹرز سے تعلیمی بجٹ میں اضافہ، سکول سے باہر سکول جانے والی عمر کے بچوں کا سکولوں میں داخلہ،نظام تعلیم کی بہتری، مفت صحت و تعلیم دینے اورغریب طبقے کو غربت کی لکیر سے نکالنے جیسے وعدوں کی بنیاد پر ووٹ حاصل کیے لیکن 100 دن سے زائد کا عرصہ گزرجانے کے باوجود لیہ شہر کے وسط میں آباد کچی آبادی کے مکین بچوں کو محکمہ تعلیم قریبی سرکاری سکولوں میں داخل کروانے میں ناکام ہے 
پل انگڑا کے قریب آباد کچی آبادی کے مکینوں نے بتایا کہ ایک نجی تنظیم کی تقریب میں انہیں بتایا گیا کہ غربت سے نکلنے کا واحد ہتھیار بچوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنا ہے اس کے بعد ہم تمام بستی والوں نے بچوں کو پڑھانے کا فیصلہ کیا اور حصول تعلیم کے لیے تمام بچوں کو قریبی گورنمنٹ سکول میں داخل کروا دیا تاکہ بچے پڑھ لکھ کر اچھے شہری بن سکیں لیکن سکول میں اساتذہ کے غیر منصفانہ رویے اور دوسرے بچوں کی مار پیٹ کی وجہ سے جلد ہمارے بچوں نے سکول جانا چھوڑ دیا انہوں نے شہر کے معززین سے بات کی کہ ہم بچوں کو پڑھانا چاہتے ہیں لیکن تعلیم کی سہولیات کی عدم فراہمی کی وجہ سے نہیں پڑھا پا رہے سماجی کارکنوں اور خداترس شہریوں کی مدد سے لٹریسی ڈیپارٹمنٹ نے بستی میں غیر روائتی سکول بنا دیا 1 مارچ 2018 کو سکول کا ہوا جس پر ہم سب والدین سمیت بچے بھی بہت خوش ہوئے تمام بچے روزانہ صبح 8:30 بجے سکول جاتے ہیں اور 12:30 بجے تک تعلیم حاصل کرتے ہیں
بستی کے رہائشی قمر عباس جوکہ بلدیہ میں کلاس چہارم کا ملازم ہے نے بتایا کہ والدین کی اولین ترجیح اپنے بچوں کو تعلیم دلوانا اور اچھا انسان بنانا ہوتی ہے لیکن محدود وسائل کی وجہ سے تعلیم دلوانا مشکل ہوجاتا ہے لٹریسی سکول بن جانے سے ہمارے بچوں کو تعلیم تو مل رہی ہے لیکن دسمبر کی اس شدید سردی میں کھلے آسمان تلے اس چھونپڑی میں صبح سویرے بچوں کا آنا اور تعلیم جاری رکھنا بہت مشکل ہے بجائے اس کے کہ گورنمنٹ سکول کے اساتذہ کو منصفانہ رویے پر آمادہ کیا جاتا ہمارے بچوں کو شدید سردی اور تیز ہواوں میں کھلے آسمان تلے جھونپڑی بنا کر تعلیم کی نعمت سے نوازا جارہا ہے ہم اس پر بھی حکومت وقت کے شکر گزار ہیں مخیر حضرات کے تعاون سے بچوں کو بستے اور کاپیاں تو مل گئی ہیں لیکن جوتے، جرسیاں اور ٹھنڈی ہوا کو روکنے کے لیے تاحال کوئی انتظامات نہیں ہو سکے
سکول ٹیچر تصور عباس کا کہنا ہے کہ غربت تعلیم کے راستے میں حائل ضرور تھی لیکن بستی کے بچے عام سہریوں کے بچوں کی طرح ذہین ہیں اور ذمیہ کام ذمہ داری سے کرکے آتے ہیں انہوں نے کہا کہ میں محدود تنخواہ کے باوجود صدقہ جاریہ سمجھتے ہوئے غریب پسماندہ بستی کے بچوں کو تعلیم دینے کے لیے کوشاں ہوں حکومتی نمائندگان کو چاہیے کہ بچوں کے بیٹھنے اور سردی سے بچنے کے لیے انتظامات کریں بچوں کو بنیادی سہولیات مل جائیں تو ان کا مستقبل سنور جائے گا
مشیر وزیر اعلی پنجاب سید رفاقت علی گیلانی نے بتایا کہ جلد صوبہ بھر میں تعلیمی اصلاحات لارہے ہیں جس کے تحت سکول سے باہر سکول جانے کی عمر کے تمام بچوں کو سکول داخل کروایا جائے گا۔
پروجیکٹ انچارج لیٹریسی ڈیپارٹمنٹ مہر انوار تھند نے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ایسے علاقہ جات جہاں سکول دور ہو اور بچوں کی زیادہ تعداد سکول نہ پہنچ سکے وہاں لیٹریسی ڈیپارٹمنٹ ہنگامی بنیادوں پر غیر روائتی سکول کا قیام کرتا ہے اور بچوں کو تعلیم کی سہولیات فوری بہم پہنچائی جاتی ہیں کچی آبادی کے بچوں کو استاد اور کتابیں مہیا کردی گئی ہیں دیگر اخراجات اور لوازمات لٹریسی ڈیپارٹمنٹ کی ذمہ داری نہیں ہے۔
بقول شاعر
کشکول میں جس روز کوئی بھیک نہ ہوگی
وہ رات میری قوم پر تاریک نہ ہوگی
اس شہر کے ماتھے پر لکھی ہے تباہی
جس شہر کی مکتب کی فضا ٹھیک نہ ہوگی

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.