کراچی: ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ سندھ کی آبادی کا ایک بڑا حصہ پینے کے آلودہ پانی کے باعث پیدا ہونے والی بیماریوں کا شکار ہو سکتا ہے، یہ انکشاف انہوں نے جوڈیشل انکوائری رپورٹ منظرِعام پر آنے کے بعد کیا ہے جس میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان کے جنوبی صوبے میں قریباً 75 فی صد آبادی آلودہ پانی پینے پر مجبور ہے۔

22 برس کے سارنگ حسین گبول نے کراچی کے ایک ہسپتال سے جگر کا علاج کروایا ہے۔ ان کے والدین بھی ہیپاٹائٹس بی اور سی سے متاثر ہیں۔

سارنگ کے والد شبیر حسین گبول نے نیوز لینز پاکستان سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کا بیٹا ابتداء میں ہیپاٹائٹس اے سے متاثر تھا اور بعدازاں ہیپاٹائٹس بی کی تشخیص بھی ہو گئی۔

شبیر حسین گبول نے کہا کہ وہ کراچی سے چھ سو کلومیٹر دور ضلع گھوٹکی کے ایک پسماندہ گاؤں میرخان گبول سے تعلق رکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کے گاؤں میں پینے کے صاف پانی کی سہولت دستیاب نہیں ہے اور 98 فی صد آبادی جگر اور معدے کی بیماریوں کا شکار ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ انہی وجوہ کے باعث گاؤں کی 80 فی صد آبادی ہیپاٹائٹس بی اور سی سے متاثر ہے۔

انہوں نے کہا کہ 2014ء میں میرخان گاؤں میں لگائے گئے میڈیکل کیمپ سے ان اعداد و شمار کے بارے میں معلوم ہوا۔

شبیر حسین گبول نے مزید کہا:’’یہ صرف ہمارے گاؤں کا مسئلہ ہی نہیں ہے۔ ضلع گھوٹکی کے قریباً تمام گاؤں اس تباہی کا سامنا کر رہے ہیں۔‘‘

سپریم کورٹ آف پاکستان نے دسمبر 2016ء میں شکار پور سے تعلق رکھنے والے وکیل شہاب اوستو کی درخواست پر سندھ میں پانی اور صفائی کی خدمات کی فراہمی کے نظام کی بدحالی کا جائزہ لینے کے لیے جوڈیشل انکوائری کمیشن قائم کیا تھا۔

جوڈیشل انکوائری کمیشن نے آٹھ ہفتوں کی تفتیش کے بعد اپنی رپورٹ جاری کی جس میں یہ انکشاف کیا گیا کہ سندھ میں کوئی فلٹریشن یا ٹریٹمنٹ پلانٹ کام نہیں کر رہا۔ صوبے کی قریباً 75 فیصد آبادی آلودہ پانی پینے پر مجبور ہے اور انسانی و صنعتی فضلہ بحیرۂ عرب، دریائے سندھ اور صوبے میں اس کے ذیلی ندلی نالوں میں شامل ہو جاتا ہے۔ 

مذکورہ رپورٹ میں یہ انکشاف بھی کیا گیا ہے کہ پینے کے آلودہ پانی کی فراہمی اور صفائی ستھرائی کے ابتر نظام کے باعث صوبے میں پانی کے باعث پیدا ہونے والی بیماریاں تیزی سے پھیل رہی ہیں۔

2015ء میں ’’ایشین پیسیفک جرنل آف ٹروپیکل بائیومیڈیسن‘‘میں شائع ہونے والے پاکستان میڈیکل ریسرچ کونسل کے 2007-08ء میں کیے جانے والے تحقیقی مقالے میں کہا گیا ہے کہ سندھ میں ہیپاٹائٹس بی اور سی بالترتیب 2.5 اور پانچ فی صد کے تناسب سے بڑھا ہے جب کہ صوبے کی ساڑھے تین کروڑ کی مجموعی آبادی میں سے ہیپاٹائٹس بی اور سی سے متاثرہ مریضوں کی تعداد 0.2 فی صد ہے۔

جنرل فزیشن ڈاکٹر اجیت کمار کہتے ہیں کہ ہیپاٹائٹس اے اور ہیپاٹائٹس ای پانی کے باعث پیدا ہونے والی بیماریاں ہیں جس کی بنیادی وجہ آلودہ پانی اور خوراک ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سندھ میں حالات انتہائی خراب ہیں کیوں کہ آبادی کے ایک بڑے حصے کے ہیپاٹائٹس سے متاثر ہونے کے خدشات ہیں جس کی اہم ترین وجوہات میں سے ایک پینے کا آلودہ پانی بھی ہے۔

ڈاکٹر اجیت کمار کہتے ہیں کہ صوبے میں پانی کی فراہمی اور صفائی ستھرائی کا نظام تو بدحالی کا شکار ہے ہی بلکہ صوبے کے ہسپتالوں میں بھی صحت کی سہولیات کی فراہمی کا نظام غیر تسلی بخش ہے اور جوڈیشل انکوائری کمیشن کی رپورٹ نے بھی سندھ میں وبا پھوٹنے کے حوالے سے خدشات ظاہر کیے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر حالات مزید خراب ہوتے ہیں تو صوبے کے مختلف حصوں میں بیماریاں جیسا کہ ہیپاٹائٹس اے، ای، ہیضہ، ڈائریا اور ٹائیفائیڈ وغیرہ کا وبا کی صورت میں پھوٹنا ممکن ہو سکتا ہے۔

حکومتِ سندھ 2009ء سے ہیپاٹائٹس بی اور سی کے علاج کے لیے ہیپاٹائٹس کنٹرول پروگرام چلا رہی ہے۔ ہیپاٹائٹس کنٹرول پروگرام کے سربراہ ڈاکٹر ولی محمد لغاری نے نیوز لینز پاکستان سے بات کرتے ہوئے کہا:’’ہیپاٹائٹس کنٹرول پروگرام کے تحت 2009ء سے 2017ء کے درمیان قریباً 86 لاکھ لوگوں کی ویکسی نیشن کی جا چکی ہے۔‘‘

پبلک ہیلتھ کی ماہر ڈاکٹر فوزیہ وقار کہتی ہیں:’’مذکورہ بالا حالات پریشان کن ہیں کیوں کہ صوبے میں بڑے پیمانے پر پینے کا آلودہ پانی استعمال کیا جا رہا ہے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ ہیپاٹائٹس اے اور ای آلودہ پانی کے باعث پیدا ہونے والی بیماریاں ہیں، یہ مہلک نہیں ہیں کیوں کہ مریض سادہ سے علاج اور احتیاط سے صحت یاب ہو جاتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا:’’اگر لوگ آلودہ پانی اور خوراک استعمال کرتے رہیں تو ہیپاٹائٹس اے اور ای دونوں ہی جان لیوا بیماریوں میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔‘‘

ڈاکٹر فوزیہ وقار نے مزید کہا کہ حکومت کو حفاظتی اقدامات کرنے اور ہیفہ، ڈائریا، نمونیا اور پانی سے پیدا ہونے والی دیگر بیماریوں کے وبائی صورت اختیار کرنے سے قبل پینے کے صاف پانی کی فراہمی یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ تھر میں پہلے ہی لوگوں کی ایک بڑی تعداد ان بیماریوں سے متاثر ہے جس کی اہم ترین وجہ پینے کا آلودہ پانی ہی ہے۔

سندھ کے وزیرِ صحت ڈاکٹر سکندر علی میندھرو طبی ماہرین کے نکتۂ نظر سے متفق نہیں ہیں، وہ کہتے ہیں کہ ہیپاٹائٹس اے اور ای جان لیوا بیماریاں نہیں ہیں اور ان کے وبا کے طور پر پھیلنے کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔

ڈاکٹر سکندر علی میندھرو نے مزید کہا:’’سندھ حکومت جوڈیشل انکوائری کمیشن کی ہدایات پر عمل کر رہی ہے اور مستقبل قریب میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی یقینی بنا دی جائے گی۔‘‘

انہوں نے کہا کہ ہیپاٹائٹس کنٹرول پروگرام کے تحت 2009ء سے ہیپاٹائٹس بی اور سی کے مریضوں کا علاج کیا جا رہا ہے اور پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے لیے کوششیں جاری ہیں تاکہ ہیپاٹائٹس اے اور ای کے مریضوں کی تعداد میں کمی لائی جا سکے۔

تاہم سپریم کورٹ آف پاکستان میں رٹ دائر کرنے والے وکیل شہاب اوستو کہتے ہیں:’’پانی کی فراہمی اور صفائی ستھرائی کے منصوبوں کے لیے مختص کیے گئے فنڈز میں بڑے پیمانے پر خردبرد اور بری طرزِ حکمرانی وہ بنیادی وجوہات ہیں جن کے باعث اب بھی سندھ میں آلودہ پانی فراہم کیا جارہا ہے۔‘‘

جوڈیشل انکوائری کمیشن کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صوبائی حکام نے گزشتہ پانچ برسوں کے دوران پانی کی فراہمی اور نکاسئ آب کے 1337 منصوبوں پر 29 ارب روپے خرچ کیے ہیں جن میں سے پانی کی فراہمی اور نکاسئ آب کے 582 منصوبے بند پڑے ہیں۔

جوڈیشل انکوائری کمیشن کی مذکورہ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ کراچی میں انسانی اور صنعتی فضلے کو ٹھکانے لگانے کے لیے سرے سے کوئی میکانزم موجود نہیں ہے۔ سیوریج اور صنعتی فضلے کو بحیرۂ عرب میں تلف کیا جاتا ہے۔ دریائے سندھ اور اس کے ملحقہ ندی نالوں میں بھی صنعتی فضلے کو ٹھکانے لگایا جاتا ہے۔

سندھ انوائرنمنٹل ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل بقاء اللہ انڑ نے نیوز لینز پاکستان سے بات کرتے ہوئے کہا کہ صرف کراچی شہر میں رجسٹرڈ صنعتوں کی تعداد 10 ہزار ہے۔ فضلے کو ٹھکانے لگانے کے لیے کوئی موزوں میکانزم موجود نہیں ہے اور قریباً پانچ سو ملین گیلن صنعتی اور انسانی فضلہ روزانہ بحیرۂ عرب میں بہا دیا جاتا ہے۔

Leave a Reply