سوات، مینگورہ: سوات کے مقامی ہوٹلوں کی نمائندہ تنظیم کے عہدیداران کہتے ہیں کہ رواں برس موسمِ گرما کے دوران وادئ سوات میں گزشتہ برس کی نسبت ہوٹلوں کے کاروبار میں 10 فی صد اضافہ ہوا اور قریباً 10 لاکھ سیاحوں نے امن و امان کے حالات بہتر ہونے کے بعد اس پرفضا مقام کا رُخ کیا۔

ماضی میں سیاح پاکستان کے شمال میں واقع وادئ سوات کے خوبصورت و دلفریب مناظر کے باعث اس مقام کا رُخ کرتے رہے ہیں۔ تاہم 2007ء سے 2009ء کے دوران خطے میں جاری رہنے والی طالبان کی عسکریت پسندی کے باعث علاقے میں امن و امان کے حالات خراب ہو گئے۔ مذکورہ عسکریت پسندی کی وجہ سے قریباً 20 لاکھ مقامی لوگ خطے سے نقل مکانی کرنے پہ مجبور ہو گئے اور یوں سیاحت کی صنعت ماند پڑ گئی کیوں کہ سیاحوں نے وادئ سوات کا رُخ کرنا چھوڑ دیا تھا۔

علاقے کے تین سو ہوٹلوں اور چار سو ریستورانوں کی نمائندہ تنظیم سوات ہوٹل ایسوسی ایشن کے صدر زاہد خان کہتے ہیں:’’سات برس بعد اب علاقے میں امن و امان کے حالات بہت بہتر ہو چکے ہیں۔‘‘

زاہد خان کہتے ہیں کہ ہوٹل انڈسٹری کی آمدن میں گزشتہ برس کی نسبت 10 فی صد اضافہ ہوا ہے اوراب سیاح وادی کا رُخ کرنے لگے ہیں۔ انہوں نے کہا:’’ماضی میں سیاح سکیورٹی کے حالات کے پیشِ نظر وادی کا رُخ نہیں کرتے تھے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا:’’رواں برس موسمِ گرما میں اپریل سے ستمبر کے دوران ہوٹلوں کے قریباً 50 فی صد کمروں میں سیاح قیام پذیر تھے۔‘‘

اگرچہ اس حوالے سے کوئی شواہد موجود نہیں ہیں کہ یہ سب سیاح تھے لیکن سکیورٹی حکام کی جانب سے فراہم کیے جانے والے اعداد و شمار کے مطابق رواں موسمِ گرما کے دوران وادی میں داخل ہونے والی گاڑیوں کی تعداد قریباً ً25 ہزار تھی۔

ایک سکیورٹی افسر نے، نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر، نیوز لینز پاکستان سے بات کرتے ہوئے کہا:’’عیدالفطر کی چھٹیوں کے دوران وادی میں قریباً 25 ہزارگاڑیاں داخل ہوئیں۔ ان اعداد و شمار سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ سکیورٹی اور امن و امان کے حالات بہتر ہونے کے باعث عوام کا سیاحتی سرگرمیوں پراعتماد بحال ہوا ہے۔

زاہد خان کا خیال ہے کہ رواں موسمِ گرما کے دوران وادئ سوات میں سیاحوں کی بڑی تعداد میں آمد سے اس حقیقت کا اظہار بھی ہوتا ہے کہ ہوٹلوں نے سیاحوں سے کم سے کم کرایہ وصول کیا تاکہ برسوں کی شورش کے بعد سیاحوں کی اس علاقے کی سیاحت کرنے کے حوالے سے حوصلہ افزائی ہو سکے۔‘‘ 

انہوں نے دعویٰ کیا:’’سوات میں ہوٹلوں نے مری اور ملک کے دیگر پرفضا مقامات کی نسبت 50 فی صد کم کرایہ وصول کیا۔‘‘انہوں نے مزید کہا کہ سوات میں قائم مختلف ہوٹلوں میں ایک روز میں 30 ہزار سیاح قیام کرسکتے ہیں۔

زاہد خان نے کہا:’’وادی میں امن و امان کے خراب حالات کے باعث قریباً تمام ہوٹل ایک اندازے کے مطابق چار برس تک بند رہے۔ لیکن امن و امان کے حالات بہتر ہونے کے بعد اب ہوٹل مالکان کے لیے کاروباری مواقع میں بہتری آئی ہے۔‘‘

سوات میں قائم ایک ہوٹل کے مالک، نے نام ظاہر نہ کرنے کی خواہش پر، نیوزلینز پاکستان سے بات کرتے ہوئے کہا کہ رواں موسمِ گرما میں ان کی آمدن پانچ لاکھ ہو گئی جو گزشتہ برس چار لاکھ تھی۔

انہوں نے مزید کہا:’’اگست میں پورے ایک مہینے کے لیے میرے ہوٹل کی دو منازل ریزرو رہیں۔ اس سے سیاحوں کا امن و امان کے بہتر ہوتے ہوئے حالات پر اعتماد ظاہر ہوتا ہے۔ اس قدر بڑی تعداد میں سیاحوں کا وادئ سوات کا رُخ کرنا میری توقعات سے بڑھ کر تھا۔‘‘

ہوٹلوں میں قیام کرنے کے علاوہ چھٹیاں گزارنے کے لیے آنے والے سیاحوں کی ایک بڑی تعداد نے مدین میں اپارٹمنٹ بک کروائے، یہ علاقہ سوات کے دارالحکومت مینگورہ سے 50 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

مدین کے ایک رہائشی علی رحمان نے کہا کہ وہ عسکریت پسندی کے باعث یہ فراموش کرچکے تھے کہ کبھی سیاح بھی سوات اور اس کے نواحی علاقوں کا رُخ کیا کرتے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ تین سے چار برسوں کے دوران سیاحوں نے ان کے علاقے کا رُخ کرنا شروع کر دیا ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ مقامی لوگوں نے قریباً 20 سے 30 اپارٹمنٹ ان سیاحوں کو کرایے پر دیے جنہوں نے موسمِ گرما کی شدید گرمی سے بچنے کے لیے ان علاقوں کا رُخ کیا۔ ‘‘ علی رحمان نے یہ دعویٰ کیا کہ دہشت گردی کو بالآخر شکست دی جا چکی ہے۔
عیدالفطر کی چھٹیوں کے دوران سوات آنے والے سیاح عبدالکریم نے نیوزلینز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ قریباً چھ برس بعد وادئ سوات آئے ہیں اور یہ دیکھ  کر حیران ہوئے ہیں کہ علاقے میں امن وامان و سیاحتی سرگرمیاں بحال ہو چکی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا:’’میں اب وادی میں رات دیر گئے تک آوارہ گردی کرتے ہوئے بھی خود کو عدم تحفظ کا شکار محسوس نہیں کرتا۔‘‘ تاہم انہوں نے شہر میں ٹریفک کے اژدہام کی شکایت کی۔

رواں برس سیاحوں کی ایک بڑی تعداد نے دریائے سوات کے کنارے آباد پرفضا مقام بحرین کا رُخ بھی کیا۔ مقامی رہائشی عبدالکریم نے نیوزلینز پاکستان سے بات کرتے ہوئے کہا کہ عسکریت پسندی کے دنوں میں علاقے کے بازار غروبِ آفتاب سے قبل بند ہو جاتے تھے لیکن اب یہ رات دیر گئے تک کھلے رہتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا:’’دکان دار اور ہوٹلوں کے مالکان دونوں ہی سیاحتی سرگرمیوں کی بحالی پر خوش ہیں کیوں کہ یہ ان کی آمدن کا ذریعہ ہیں۔‘‘

اگرچہ مقامی سیاحوں نے مالاکنڈ ڈویژن بشمول سوات کا رُخ کرنا شروع کیا ہے لیکن غیرملکی سیاح کئی برس تک جاری رہنے والی عسکریت پسندی کے باعث اب بھی اس خطے کا رُخ کرنے سے گریزاں ہیں۔ سیاحت کے ماہرین کہتے ہیں کہ ان علاقوں کا رُخ کرنے کے لیے سیاحوں کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہئے۔

طالبان کی عسکریت پسندی کے دوران اور اس کے بعد ایک طویل عرصہ تک غیر ملکی سیاحوں کو وادئ سوات کا رُخ کرنے کے لیے حکام سے اجازت نامہ حاصل کرنا ہوتا تھا۔ اگرچہ مالاکنڈ ڈویژن کی سیاحت کے لیے اب ’’نوآبجیکشن سرٹفیکیٹ‘‘ کی شرط ختم کی جا چکی ہے لیکن غیر ملکی سیاح برسوں تک جاری رہنے والی عسکریت پسندی کے باعث خطے کا رُخ کرنے کے تناظر میں تذبذب کا شکار ہیں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.