2018 کے عام انتخابات میں 5 دہاٸیوں بعد پانچ ہزار میں سے صرف 14 عورتوں نے اپنا حقِ راۓ دہی استعمال کیا۔

چکوال: ضلع چکوال کی تحصیل لاوہ کا گائوں ڈھرنال تاریخی حیثیت کا حامل ہے ڈھرنال کی وجہ شہرت یہاں سے تعلق رکھنے والے محمد خان ڈھرنال بنے جنہیں ”وادی سون کا رابن ہڈ“ کا نام دیا گیا ایک دور تھا جب محمد خان ڈھرنال کا طوطی بولتا تھا ڈھرنال میں ایک عرصہ تک دہ متحارب گروپوں کے درمیان قتل وغارت گری جاری رہی ، یہاں کے لوگ آج بھی معاشری روایات کا پاس رکھے ہوئے ہیں 60کی دہائی میں یہاں انتخابات کے دوران خواتین کے پولنگ اسٹیشن پر دو مختلف گروہوں کی خواتین باہم دست وگریباں ہوگئی تو گائوں کے مردوں نے متفقہ طور پر خواتین کو ووٹ دینے سے روکنے کا اعلان کرتے ہوئے دعائے خیر کردی پانچ دہائیوں تک ڈھرنال کی خواتین نے ووٹ کاسٹ نہ کیا 2018 کے قومی انتخابات میں 5دہائیوں کی روایت توڑتے ہوئے خواتین پہلی بار حق رائے دہی استعمال کیا 29جولائی 2018کو ” ڈان” میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق ”پوٹھار آرگنائزیشن” فارڈیوپلمنٹ ایڈووکیسی (پودا ) کے تعاون سے روبینہ شہزاد نامی خاتون نے مقامی خواتین میں حق رائے دہی کے استعمال بارے شعور اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کیااس سے قبل ایک مقامی معلم نے گائوں کے لوگوں کو اس بارے آگاہی دینے کی کوشش کی تو گائوں کے لوگوں نے اس کا سوشل بائیکاٹ کردیا ، ڈھرنال میں خواتین کے مجموعی طور پر 5501ووٹ رجسٹرڈ ہیں جن میں سے 25جولائی کو ہونے والی قومی انتخابات میں صرف 14ووٹ پول ہوئے ۔ جبکہ 14 اکتوبر کے ضمنی انتخابات میں یہ تعداد 17 تک پہنچی۔ ڈھرنال جو ایک عرصہ تک قتل وغارت کے زیر اثر رہا آج بھی زمانے سے الگ تھلگ عہد رفتہ کی داستانیں سناتا ہے ۔ایک معاصر روزنامے کے صحافی یوں رقم طراز ہیں اور نہوں نے سوشل میڈیاپر اس انداز میں تبصرہ کیا ہے کہ” یہ تصویر چکوال کے معروف قصبہ ڈہرنال کی ہے.ڈہرنال کی وجہ شہرت ایک مبینہ ڈاکو محمد خان ڈہرنال کی وجہ سے ہے.محمد خان اساطیری شہرت رکہتے ہیں.انہیں وادء سون کا رابن ہڈ کہا گیا.کہا جاتا ہے کہ اس نے ہمیشہ غریبوں کی مدد کی.محمد خان کو بارہا گولیاں چہو کر گزری مگر وہ 1996 میں طبعی موت مرے.ڈہرنال میں خواتین کے ووٹ ڈالنے پر بہی غیر اعلانیہ پابندی ہے.اس تصویر جیسے کٸی گہر اب بہی ڈہرنال میں موجود ہیں جن کے مکین نجانے کب کے کہاں جا بسے ہیں. ”ضلعی جنرل سیکرٹری پاکستان پیپلز پارٹی ملک ہاشم خان کا تعلق بھی ڈھرنال سے ہے جوکہ 2018کے قومی انتخابات میں اسی حلقے سے پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کے امیدوارتھے۔ ملک ہاشم نے نیوز لینز پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وٹ قومی امانت اور وہ اپنے طور پر مقامی بااثر افراد کے ساتھ مل کر گاٶں کے لوگوں کو قائل کرنے کی کوشش کررہے ہیں اور پر امید ہیں کہ آئندہ انتخابات تک گائوں کی عورتوں کی کثیر تعداد اپنا حق رائے دہی استعمال کرے گی ۔
رضیہ یہاں خواتین کے ووٹ نہ ڈالنے کی دو بڑی وجوہات بیان کرتے ہوے بتاتی ہیں کہ اگر خواتین ووٹ ڈالنے جاٸیں اور وہاں کوٸی بھی نا خوشگوار واقعہ پیش آ جاۓ تو اس کی ذمہ داری لامحالہ خواتین پر آ سکتی ہے دوسری وجہ یہ یے کہ یہاں کی خواتین کم پڑھی لکھی ہیں اور وہ ووٹ ڈالنا اس لٸیے بھی ضروری نہیں سمجھتی کہ ان کے خیال میں سیاست مردوں کا کام ہے اور ووٹ ڈالنے سے انہیں براہ راست کوٸی فاٸدہ نہیں پہنچتا یہی وجہ ہے کہ پانچ دہاٸیوں سے یہاں خواتین نے ووٹ ڈالنے کے لیٸے کوٸی تگ و دٶ نہیں کی۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.